0
Wednesday 2 Oct 2019 08:04

صوبہ گلگت بلتستان، محدود ہوتے امکانات کا جائزہ

صوبہ گلگت بلتستان، محدود ہوتے امکانات کا جائزہ
تحریر: شیر علی انجم

محترم قارئین، سوشل میڈیا پر گلگت بلتستان کے ایک معروف صحافی کا 2014ء میں کی تجزیاتی خبر وائرل ہو رہی ہے، جس میں اُنہوں نے تجزیہ پیش کیا تھا کہ مودی کسی بھی صورت میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے مکمل طور پر کشمیر پر قبضہ کرکے گلگت بلتستان پر بھی دعویٰ کرے گا۔ یوں مورخہ پانچ اگست 2019ء کو مودی نے وہی کام کرکے دکھایا اور گلگت بلتستان کے حوالے سے مودی سرکار کے بیانات اور بھارتی میڈیا کا واویلا اور ویڈیوز سے سوشل میڈیا بھرا پڑا ہے۔ لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ اس قسم کی دور اندیش شخصیات کیلئے گلگت بلتستان کی زمین تنگ ہے، اُس نامور تجزیہ نگار اور صحافی کو بھی کچھ اس قسم کے مسائل کا سامنا ہے۔ قارئین، گلگت بلتستان کی تاریخ پر بہت کچھ لکھا جاچُکا ہے۔

لہذا مختصر یہ ہے کہ انقلاب گلگت کی ناکامی یا اُس انقلاب کو تسلیم نہ کرکے متنازعہ بنانے اور اُس بنیاد پر اقوام متحدہ کے قوانین کی روشنی میں حقوق دینے کے بجائے 28 اپریل 1949ء کو ریاست جموں کشمیر کی سب سے بڑی اکائی کے کسی اسٹیک ہولڈر سے مشاورت کے بغیر معاہدہ کراچی کے ایک شق سے باندھنے اور گزشتہ ہفتے وزیراعظم پاکستان عمران خان کا اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی میں اقوام عالم سے خطاب، جس میں اُن کہنا کہ میں خصوصی طور پر یہاں کشمیر کے لئے آیا ہوں اور اُنکا حق خودارادیت کشمیر کے عوام کا بنیادی حق قرار دینے اور گلگت بلتستان کی مستقبل کے حوالے سے چند حقائق ریاست پاکستان کا مسلہ کشمیر کے حوالے سے موقف کو سامنے رکھتے ہوئے چند گزارشات کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اس سے پہلے اس بات کا بھی معلوم ہونا ضروری ہے کہ یہاں کے عوام کیا چاہتے ہیں اور یہاں کے عوامی نمائندوں کی کیا سوچ ہے۔ گلگت بلتستان میں چونکہ مذہبی افکار کی بنیاد پر لوگ سیاسی مطالبات اور خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔

یہی وجہ ہے صوبہ بنانے کیلئے قانون ساز اسمبلی میں دو بار متفقہ قرارداد منظور ہوئی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ اسی طرح خطے کو پاکستان کا پانچواں آئینی صوبہ بنانے کا مطالبہ اور بدقسمتی سے مسلہ کشمیر کی وجہ سے اُس مطالبے کا دم توڑنا بھی ہماری مقدر کا حصہ سمجھئے۔ یوں ایک اور نیا نعرہ ایجاد ہوا، جس کے مطابق گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بننا چاہئے لیکن اس حوالے سے بھی نفی میں اسلام آباد کے حکمرانوں کا جواب آنا، ستاروں کی گردش سمجھئے۔ پھر ایک نئی فکر ایجاد ہوئی، جس کے مطابق خطے کو عبوری آئینی صوبہ بننا چاہئے جس میں متنازعہ حیثیت کے مطابق سٹیٹ سبجیکٹ رول بھی شامل ہو۔ اس مخملی نعرے کی ہوا بھی 17جنوری 2019ء کو سپریم کورٹ لارجر بنج کے فیصلے نے نکال دیا۔ لاجرر بنچ کے فیصلے میں کہا گیا کہ گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے مسلہ کشمیر کی حل کیلئے رائے شماری ہونے تک خطے کے عوام کو بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں اور گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی موجودہ حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، کیونکہ ان علاقوں کی آئینی حیثیت استصواب رائے کے ذریعے طے ہونا باقی ہے۔

اسی طرح وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے 12 اگست 2019ء کو دورہ مظفر آباد کے موقع پر کہا کہ گلگت بلتستان کے حوالے سے پاکستان کا دو ٹوک موقف ہے کہ خطے کو کوئی صوبہ نہیں بنایا اور نہ ہی بنائیں گے، وہاں کے لوگوں کی ڈیمانڈ کے باوجود ہم ایسا کوئی بھی فیصلہ نہیں کرینگے، جس سے کشمیر کاز متاثر ہو۔ اس کے علاوہ سابق حکومتوں کے دوران دفتر خارجہ کے بیانات بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں کہ خطہ ریاست جموں و کشمیر کا قانونی حصہ ہے۔ اسی طرح گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کی خلاف ورزیوں پر عوام میں شدید خدشات پائے جاتے ہیں اور خطے میں سٹیٹ سبجیکٹ کی موجودگی کا دفتر خارجہ کی جانب سے بارہا اقرار بھی میڈیا کے ریکارڈ پر موجود ہے۔ یوں ہماری خواہشات اور مطالبات کے باوجود یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ خطے کو پاکستان میں قانونی طور پر شامل کرنا اتنا آسان کام نہیں، جتنا سمجھا جا رہا ہے۔ حالانکہ سی پیک کے تناظر میں خطے کو گیٹ وے ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور خطے کی قانونی حیثیت کے تناظر میں اس راہداری کے گزرگاہ پر ناقدین سوال بھی اُٹھا رہے ہیں۔

ایسا کرنے سے جہاں پاکستان کو فائدہ ہوتا، وہیں گلگت بلتستان میں ترقی اور تعمیر کی ایک نئی راہ کھل جاتی۔ مگر بدقسمتی سے مسلہ کشمیر کے تناظر میں ایسا ممکن نہیں اور یہ ریاست پاکستان کا قومی بیانیہ بھی ہے۔ محترم قارئین۔ تاریخی حقائق اور اقوام متحدہ کے چارٹرڈ کی بنیاد پر یہ بات طے ہوگیا کہ گلگت بلتستان پاکستان اور ہندوستان کے درمیان آزاد کشمیر،جموں کشمیر اور لداخ کی طرح ایک متنازعہ خطہ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہاں کی سیاسی قیادت کی ناکامی اور ذاتی مفادات اور مراعات کیلئے عوامی مفادات کا سودا گلگت بلتستان کی سیاست کا اہم جزو رہا ہے۔ ایسے میں آج جس تیزی سے کشمیر کے مسلے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ہندوستان کے فاشسٹ وزیر اعظم نرنید مودی کی ملی بھگت سے تبدیلی رونما ہو رہی ہے، اُس تناظر میں گلگت بلتستان کا وجود خطرے میں نظر آتا ہے اور اس جرم میں گلگت بلتستان کے عوامی نمائندے برابر کے شریک ہیں۔ قارئین، موجودہ صورتحال میں عالمی گریٹ گیم کو دیکھ کر ضرور اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ گلگت بلتستان خدانہ کرے پھر سے تقسیم کی طرف جاررہا ہو۔

مودی اور ٹرمپ کا گٹھ جوڑ گلگت بلتستان کے حوالے سے نیک شگون نہیں۔ اس وقت جو بین الاقوامی گریٹ گیم مودی اور ٹرمپ ملکر کھیل رہے ہیں، اُس کا مرکز یقینی طور پر گلگت بلتستان ہے اور گلگت بلتستان میں اگلے چند ماہ یا سال میں کچھ بھی ہوسکتاہے۔ بھارتی آرمی چیف کا حالیہ بیان بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس کیلئے حکومت پاکستان کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح مسلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کو مزید تقویت دینے کیلئے گلگت بلتستان کی سیاسی محرمیوں کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس حوالے سے مدبرانہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اس وقت گلگت بلتستان کے حوالے سے اُٹھتے سولات مودی سرکار اور ہندوستانی میڈیا کا گلگت بلتستان کے حوالے سے مسلسل ٹاک شوز بین الاقوامی سطح پر مسلہ کشمیر کے حوالے سے بات چیت کا سلسلہ پاکستان کے موقف کو کمزور کرسکتا ہے۔

لہذا گلگت بلتستان کو سیاسی محرومیوں سے نکالنا ہوگا اور اس حوالے سے اقوام متحدہ کے چارٹرڈ پر عملدآمد کرنا ضروری ہے۔ گلگت بلتستان کے اُن سیاسی اور مذہبی رہنماوں کو اب یہ بات سمجھ میں آجانا چاہئے کہ گلگت بلتستان صوبے کا خواب اور خواہش اپنی جگہ، لیکن موجودہ صورتحال میں ایسا ممکن نہیں، بلکہ اس قسم کا ضد مسلہ کشمیر کو کمزور کرسکتا ہے۔ لہذا صوبے کا کھاتہ مسلہ کشمیر کے تناظر میں مکمل طور پر بند ہونے کے بعد اقوام متحدہ کے قرارداد وں کی روشنی میں گلگت بلتستان کو حقوق دیں اور خطے کی ترقی اور تعمیر کیلئے ایک نئی سمت تعین کرکے آئین ساز اسمبلی کا قیام عمل میں لا کر بین الاقوامی سطح پر سیاحت کی فروغ کیلئے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کریں۔ گلگت بلتستان کے آبی وسائل کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہائڈور الیکٹرک جنریشن کیلئےجامع پالیسی مرتب کریں، جس سے پورے پاکستان میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ خطے میں تعلیم صحت کیلئے سہولیات اس وقت نہ ہونے کے برابر ہیں۔

لہذا خطے کے وسائل سے خطے کو رائلٹی دیکر اس خطے کے عوام کو ذیادہ سے ذیادہ معاشی طور پر مستحکم بنائیں اور آئین ساز اسمبلی کے ذریعے ہندوستان کی جانب سے اٹوٹ انگ جیسے من گھرٹ دعوں کے خلاف قرارداد منظور کریں۔ انشااللہ دشمن کو ہر میدان میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا، بشرطیکہ آپ اقوام عالم سے کئے ہوئے وعدوں کی تکمیل کو یقینی بنائیں۔
خبر کا کوڈ : 819536
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے