1
Wednesday 2 Oct 2019 09:51

اربعین واک کے خلاف سازش

اربعین واک کے خلاف سازش
اداریہ
نواسہ رسول حضرت سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے چہلم میں شرکت نیز اس موقع پر مختلف راستوں بالخصوص نجف اشرف سے کربلا معلیٰ تک پیدل آنے والے زائرین کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے، اس اضافے اور کروڑوں افراد کی دیوانہ وار اربعین واک میں شرکت بہت سی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے۔ کروڑّوں انسانوں کا جم غفیر تمام تر امتیازات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ذکرِ خدا اور محمدؑ و آلؑ محمدؑ پر درود و سلام بھیجتے ہوئے لبیک یاحسین علیہ السلام کے نعرے کے ساتھ، جب کربلا کی طرف روں دواں ہوتا ہے، تو رحمانی طاقتوں کے نمائندوں کے اس اجتماع کو دیکھ کر شیطانی طاقتوں کے نمائندے ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں اور ان کے سینوں پر سانپ لوٹنا شروع کر دیتا ہے۔ ہر سال اس اجتماع کو کم کرنے، ناکام بنانے یا بدنام کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن رسول اکرم (ص) کا یہ تاریخی اور الہی فرمان کے عشقِ حسین علیہ السلام کی آگ کبھی سرد نہین ہو سکتی ،ہر سال اپنی حقانیت کو ثابت کرتا ہے۔ امسال بھی اربعین امام حسین علیہ السلام کے لیے مختلف ممالک بالخصوص ایران و عراق میں تیاریاں پورے عروج پر نظر آ رہی ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے زائرین کے لیے عراق نے ویزے کی ضرورت کو ختم کر دیا ہے اور ایران میں چہلمِ سیدؑ الشھداء میں شرکت کرنے کے لیے سرکاری میڈیا سمیت عوام، مذہبی و ماتمی انجمنیں پورے جوش و خروش کے ساتھ مصروف عمل ہیں، ادھر عراق بھی میزبانی کے لیے تیاریاں مکمل کر رہا ہے۔ عراق کے وزیر داخلہ یاسین طاہر الیاسری نے کربلا معلی کے دورے کے موقع پر اعلان کیا ہے کہ اربعینِ حسینیؑ کے پیدل مارچ میں شرکت اور عراق و دیگر ممالک سے زیارت کے لیے پہنچنے والے زائرین کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر لیے گئے ہیں۔ ایران و عراق میں اربعین سید الشہداء کی تیاریاں عروج پر ہیں، لیکن دوسری طرف پاکستان سے یہ تکلیف دہ خبریں آ رہی ہیں کہ ویزوں کے اجراء مین عراقی سفارت خانہ لیت و لعل سے کام لے رہا ہے۔ پاکستانی زائرین جو لاکھوں کی تعداد میں ہوائی اور زمینی راستوں سے عراق پہنچتے ہین، ان کی تعداد کو کم کرنے کے لیے یہ صورتحال کسی سازش کس پتہ دیتی ہے۔

عراقی سفارت خانے کا یہ اقدام پاکستانی زائرین پر بجلی بن کر گرا ہے۔ عراق کی وزارت داخلہ اور خارجہ کو اس بات کی تحقیق کرنا چاہیے کہ کہیں پاکستان میں متعین عراقی سفارت خانے میں کوئی کالی بھیڑیں تو نہیں گھس گئی ہیں اور چند ڈالروں کے عوض پاکستانی زائرین کے لے مشکلات کھڑی کر جا رہی ہیں۔ پاکستان سمیت کہیں بھی اس دلیل کو نہیں مانا جائے گا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے قافلوں میں بھکاری آ جاتے ہیں، لہذا ان کو ویزہ دینے میں مشکلات اور رکاوٹیں کھڑی کی جائیں۔ سعودی عرب کو بھی پاکستان سے یہ شکایت ہے، لیکن وہ حج و عمرے کے ویزے روکتا نہیں، بلکہ بھکاریوں کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرتا ہے۔ بھکاریوں کو روکنے کے لیے عراقی حکومت کو اقدامات کرنے چاہیں اور پاکسانی قافلہ سالاروں کو بھی عراقی حکومت کی مدد کرنا چاہیے، لیکن پاکستانیوں کو ویزے جاری نہ کرنے کی پالیسی کسی بھی طرح منطقی نہیں ہے۔ 
خبر کا کوڈ : 819546
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب