1
Thursday 3 Oct 2019 22:26

یونیورسٹی کا طالب علم اور موجودہ دینی حالات (2)

یونیورسٹی کا طالب علم اور موجودہ دینی حالات (2)
از: سید حسین موسوی

گذشتہ سے پیوستہ

جہاد تب ہی واجب ہے جب حملہ ہو تو دفاع کریں۔ اتنا آسان ہے دین، اس سے آسان اور کیا چاہیے۔ ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ قبر مشکل ہے، قبر میں کامیابی کیلئے یہ کرو وہ کرو۔ ارے بھائی! قبر میں ٹوٹل سوالات ہی 5، 6 ہیں اور جوابات بھی ایسے ہیں، جو پہلے بتائے گئے ہیں یعنی کہ پیپر ہونے سے پہلے سوالنامہ آئوٹ ہوچکا ہے۔ جیسے، تمہارا رب کون ہے؟، تمہاری کتاب کونسی ہے؟، تمہارا نبی کونسا ہے؟، تمہارا امام کونسا ہے؟، یہ سوالات و جوابات تو اتنے آسان ییں کہ چھوٹا بچہ بھی باآسانی رٹہ لگانے میں دیر نہیں کرے گا، حتیٰ غیر مسلم کو بھی ان سوالات کے جوابات یاد ہیں۔! پھر قبر مشکل کیوں ہیں..؟؟؟۔ سوچ کا تعلق انسانی ذہن سے، عمل کا تعلق جسم سے اور روح کا تعلق عادتوں سے ہے۔ جب انسان مرتا ہے تو جسم و ذہن یہی چھوڑ جائیگا اور فقط روح کو اپنے ساتھ لے جائیگا، جس کا تعلق عقیدہ، عمل سے نہیں، بلکہ انسان کی عادتوں سے ہے۔ اگر انسانی زندگی امیرالمومنینؑ کی ولایت و اطاعت میں اس طرح گذارے کہ اب یہ اطاعت و ولایتِ علیؑ روح کا حصہ بن گئی ہے، تو یہ ولایت روح کیساتھ لے جائیگا اور اگر فقط رٹہ لگایا ہے تو یہ ولایت یہیں پر رہ جائیگی۔

خود کو کہلاتے مومن ہیں اور عادتیں منافقانہ و کافرانہ ہوں تو یے کیسے مومن بن سکتا ہے، جب کہ مومن اپنی عادتوں کی وجہ سے ہی مومن بنتا ہے۔ منافق ہمیشہ جھوٹ بولے گا اور امانت میں خیانت کرنا اس کی عادتوں میں شامل ہے۔ اور دینی خطیب طبیب ہے اور خطابت طِب ہے۔ طبیب کی ذمہ داری ہے کہ سامعین کی بیماریاں دریافت کرے اور بیماریاں دریافت کرنے کے بعد بیماریوں کا علاج کرنا اس طبیب کی ذمہ داری ہے۔ جھوٹ کی عادت کیسے نکالنی ہے یہ طریقہ اور سچ کی راہ بتانا یہ اس دینی طبیب کی ذمہ داری ہے۔ اِس دینی خطابت کا مقصد مومن بنانا ہے، جس کی طرف ہماری توجہ کم ہے۔ اب جیسے ایامِ عزا ہیں تو دیکھیے گا کیسے دین کے نام پر بڑی سج دھج ہوتی ہے، مگر دین بیان نہیں کیا جاتا، جب کہ یہ ایّام تبلیغ و تربیت کیلئے بہترین موقع ہیں۔ شیعہ قوم کی قسمت اس ممبر سے وابستہ ہے، جیسا ممبر ہوگا ویسے ملّت کی تقدیر بنے گی۔ اگر اس ممبر پر عالم کو بٹھائین گے تو عالم و مومن بنائے گا اور ایک جاہل و فنکار کو بٹھائینگے تو وہ تفرقہ ہی پھیلائے گا۔ ہمارے ممبر پر جو لوگ آتے ہیں کیا ہم ان سے ان کی قابلیت پوچھتے ہیں؟۔

کسی کی صلاحیت 2 طریقوں سے ناپی جاتی یے، علم (Knowldge) اور ہنر (Skill) اور ہمارے ہاں اکثr تو اہل ممبر وہ ہیں جو خود دین تک کو نہیں جانتے اور نہ ہی کسی دینی ادارے سے دین کے بارے میں کچھ علم حاصل کرتے ہیں اور دنیاوی تعلیم تو مشکل سے مئٹرک پاس ہوتے ہیں۔ جدید تعلیم میں bhی مiٹرک مشکل سے پاس ہیں، مطلب یہ کہ حالاتِ حاضرہ کو نہیں جانتا اور دینی حوالے سے بہی کچھ نہیں تو جو دین و دنیا جانتا ہی نہیں، تو جب وہ آکر دین بیان کرے گا تو حال وہی ہوگا جو آج ہے۔ اور ہاں یہ بھی یاد رکھیں کہ اگر کوئی دینی درسگاہ میں شروعاتی 5 سال پڑھتا ہے، تو اس کے پاس پرائمری کی سند ہے اور کیا ہم پرائمری والے شاگرد سے دین سیکھین گے؟، اچھا چلو 5 سال اور پڑھ لیے مطلب اب بہی وہ میٹرک پاس ہے، چلو 2 سال اور پڑھ لیے تو پھر بھی یہ انٹرمیڈیٹ کے جتنا ہوا، اضافہ کرتے ہوئے 4 سال اور بڑھا لیے تو بیچلر کی سند ملتی ہے اور بیچلر مطلب کنوارہ، مطلب کہ ابھی تک یہ علم میں کنوارہ ہے۔ مزید 4 سال اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد پھر جاکر محقق بنے گا، اب جاکر کہیں یہ اپنی تحقیق بیان کرنے کا اہل ہوا ہے۔

اس معاشرے کو کون چلا رہا ہے۔؟ مولانا صاحب؟۔ جی بلکل نہیں! معاشرہ ان کے ہاتھ میں جو یونیورسٹی سے پڑھ کر نکلتے ہیں، مگر وہ اپنی قوت کو نہیں جانتے۔ جہاں یونیورسٹی کے طلبہ اس معاشرے کو لے جائینگے معاشرہ وہاں چلتا جائیگا۔ اگر آج ہمارے سسٹم میں چھوٹے سے چھوٹا ملازم بہی کرپشن سے پاک نہیں تو اس کی ذمہ دار بھی یونیورسٹی سے نکلنے والے افراد ہیں۔ مولانا صاحب مسجد و مدرسے میں چلنے والی گیس اور بجلی کا بل ادا نہیں کرتا اور یونیورسٹی میں پڑھنے والے اکثر طالب علموں کا مقصد پڑھ کر پیسہ کمانا ہوتا ہے تو وہ بھی فیلڈ میں جانے کے بعد چور بن جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں میٹرک پاس دین سکھاتا یے اور گریجوئیٹس، ماسٹرز اور Ph.D کے طلاب اس میٹرک پاس سے دین سیکھتے ہیں۔ اس لیے جب معاشرہ ہم چلا رہے ہیں اور جب یہ بھی معلوم ہے کہ جہاں ہم جائینگے وہاں معاشرہ جائیگا تو بہترین طریقہ یہی ہے کہ یہی طالب علم جو یونیورسٹی سے پڑھ کر نکلتا ہے یہی معاشرے میں جائیں اور عوام الناس کو دین و دنیا بتائیں، جب تک آپ اس معاشرے میں دینی طبیب بن کر نہیں آئینگے، تب تک یے نظام یونہی چلتا رہیگا۔

معاشرہ آپ کے ہاتھ میں ہے، مولوی کے ہاتھ میں نہیں۔ جب تک اہلِ ممبر دین شناسی نہیں بیان کرینگے، تب تک ہمارے ہاں اچھائیاں نہیں آئینگی اور ہم تبلیغ کے دائرے کو فروغ دیں اور ہمیں عقائد و احکام سے آگے بڑھیں اور اچھے اخلاق تک پہنچیں۔ نماز میں بار بار اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْن، دھرانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ نماز آپ کی عادت بن کر روح کا حصہ بن جائے۔ دن میں 5 وقت نماز اس لیے واجب ہے کہ صبح کام سے پہلے فجر ادا کریں اور پھر کام پر ہو تو اس درمیاں ظھرین پڑھیں اور پھر شام کو کام ختم کریں تو مغربین ادا کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بار بار دھرانے سے آپ کے اندر بندگی آجائے اور بالآخر اخلاق تک پہنچ کر روح کا حصہ بن جائے۔ انسان میں جو اصل مطلوب خوبی ہے اسکا نام اخلاق ہے۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ کسی کی لمبی لمبی نمازوں کے دھوکے میں نہ آنا کہ یے اچھا دیندار ہے، دیندار تو وہ ہے کہ جس کے پاس صداقت و امانت کی خوبی ہو۔ اگر یہ عادتیں ہیں تو مومن ہے ورنہ مومن نہیں ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایک ساتھی عبداللہ ابی یعقوب کو سلام بھجوایا کہ، عبداللہ کو کہنا کہ اس بات پر غور کرے کہ امیرالمومنین علیؑ کو خدا کے آگے جو مقام حاصل ہوا ہے، اس بات پر عمل کرو۔ پھر امامؑ فرماتے ہیں کہ امیرالمومنین علیؑ کے اندر 2 عادتیں ایسی تھیں جن کی وجہ سے خدا کے ہاں اتنا بڑا مقام حاصل کرلیا، ہمیشہ سچ بولتے تھے، امانتدار تھے۔ جب تک کوئی انسان مذاق میں بھی جھوٹ بولنا نہ چھوڑ دے وہ ایمان کا ذائقہ نہیں چکھ سکتا۔  اس کا مطلب ہے کہ سچ وہ دروازہ ہے جو ایمان کا دروازہ ہے اور جھوٹ منافقت کا دروازہ ہے۔ امانت یعنی کہ اختیارات کا صحیح استعمال ہے ورنہ خیانت ہے۔ حقوقِ اولاد، آفس میں اسٹاف، گھر کے چھوٹے یا کسی بھی فرد پر ایسا حکم نافذ کرنا جو خدائی حکم کے خلاف ہو تو وہ بھی خیانت ہے۔ رسولِ اکرم صلعم فرماتے ہیں کہ کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا سوائے صداقت و امانت کے۔ دین میں عقائد و احکام کا حصہ کم اس لیے رکھا گیا یے تاکہ اخلاق پر زیادہ توجہ دی جائے۔ کربلا میں جن مائوں نے اپنے بچے قربان کیے، کیا یہ ایسا جذبہ ان کے اندر ایک گھنٹے میں آیا، نہیں ہرگز نہیں، اس قربانی کیلئے پتہ نہیں کتنے سال اِن مائوں نے مشق کی ہوگی۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کل آپ نے 2 روپے صدقہ دیا تو آج 2 کروڑ دیں، ایسا ممکن ہی نہیں۔

علامہ مجلسیؒ جب بھی صدقہ دیتے تو اپنے چھوٹے بچے کے ہاتھوں سے دیتے تو پوچھا جاتا کہ آپ اس طرح کیوں کررہے ہیں تو علامہ مجلسیؒ فرماتے تھے کہ میرے اندر سخاوت کی عادت موجود ہے، یہ اس لیے تاکہ اس کے اندر بھی سخاوت کی عادت پیدا ہوجائے۔ اخلاق پوری طِب ہے۔ یہ میڈیکل سائنس ہے اور اسی کا نام خطابت اور خطیب ہے۔ مگر، آج ہمارے ہاں یہ خطابت اور خطیب دونوں مرض بن چکے ہیں اس لیے یہ اس مرض کو شفاء میں تبدیل آپ یونیورسٹی کے طلبہ ہی کرسکتے ہیں۔ ہمارے ہاں تعلیمی رینکنگ بھی کچھ اس طرح ہے کہ سب سے ہوشیار طالب علم ڈاکٹر یا انجنیئر بن کر جلدی ملازمت حاصل کرلیتے ہیں۔ دوسرے یعنی مڈل بینچز والے کسی جنرل یونیورسٹی میں جانے کے بعد سی ایس ایس کا امتحان پاس کرکے ان فرسٹ بینچرز پر حکمرانی کرتے ہیں، کلاس میں آخری بینچز والے سیاست میں چلے جاتے ہیں اور ان سب کے اوپر آجاتے ہیں اور باقی جو بچ جاتے ہیں وہ ملک ریاض بن کر اِن سب پر حکمرانی کرتے ہیں۔ اس الٹے معاشرے کو آپ ہی یونیورسٹی کے طلبہ بدل سکتے ہیں نہ کر مولانا صاحب کی فتویٰ سے بدلے گا اور یہ سب آپ کرسکتے ہیں۔ اس لیے آپ ہی ممبر پر آجائیں اور معاشرہ تبدیل کریں اور یہ آپ یی کرسکتے ہیں اور یہ آج کے دور میں آپ کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔

ختم شد۔
خبر کا کوڈ : 819673
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے