0
Thursday 3 Oct 2019 12:01

زیادہ سے زیادہ دبائو کی امریکہ پالیسی ناکام

زیادہ سے زیادہ دبائو کی امریکہ پالیسی ناکام
اداریہ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے اقتدار میں آتے ہی سابقہ امریکی صدور کی طرح ایران کے خلاف دشمنانہ اور مخاصمانہ رویہ جاری رکھا، البتہ سابقہ امریکی صدور اور ٹرامپ میں فرق یہ ہے کہ سابقہ صدور سفارتی اور سیاسی پردوں میں ایران کی اسلامی حکومت کو ختم کرنے کی سازشیں کرتے تھے، تاہم ٹرامپ کھم کھلا امریکی اقدامات اور اپنے بیانات میں ایران سے اپنی دشمنی کا اظہار کرتا ہے۔ گذشتہ چالیس برسوں میں امریکی صدور تبدیل ہوتے رہے، لیکن ایران کے خلاف امریکی وزارت خارجہ کی پالیسیوں میں کوئی جوہری تبدیلی سامنے نہیں آئی۔ ڈیموکریٹس ہوں یا ری پبلیکنز دونوں کی خارجہ پالیسی ایران دشمنی پر استوار رہی۔ درمیان میں باراک اوبامہ نے ریشمی اور نرم و نازک دستانے پہن کر اسلامی انقلاب کا گلا دبانا چاہا تھا، لیکن ایرانی قیادت نے اسے بروقت درک کر کے برملا کر دیا۔ موجودہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے اور اسلامی نطام کو تسلط قبول کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے "زیادہ سے زیادہ دبائو" کی پالیسی کو اختیار کیا، لیکن گذشتہ چند برسوں پر مشتمل امریکہ کی یہ پالیسی بھی مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

 گذشتہ روز سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈروں سے ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے جہاں عالمی سیاست کی موجودہ صورتحال پر روشنی ڈالی، وہاں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ امریکہ کی زیادہ سے زیادہ دبائو کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے، آپ نے دلائل کے ساتھ اس بات کو بیان کیا کہ موجودہ امریکی انتظامیہ نے جن مقاصد کے لیے ایران پر دبائو ڈالنے کا سلسلہ شروع کیا تھا، ان تمام میں امریکہ کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ رہبر انقلاب اسلامی کے بقول امریکہ ایران کو علاقائی مسائل سے الگ کرنا چاہتا تھا، آج ایران استقامتی و مزاحمتی بلاک کی صورت میں پورے خطے میں گہرے اثرونفوذ کا حامل ہے۔

امریکہ نئے موضوعات پر مذاکرات کا سلسلہ شروع کر کے ایران کے دفاعی میزائل نظام، انسانی حقوق، حزب اللہ، حشد الشعبی اور انصار اللہ سے ایران کے تعلق کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی کر چکا تھا، لیکن ایران نے امریکہ سے مذاکرات سے انکار کر کے اس کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔ امریکہ ان مذاکرات کے لیے اتنا بے تاب تھا کہ پہلے ایک ٹیلی فون نمبر ایران کے لیے مخصوص کیا، پھر خود ٹیلی فون کے انتظار میں بیٹھ گیا، اس کے بعد کبھی جاپان، کبھی فرانس اور کبھی پاکستان کے ذریعے مذاکرات کا پیغام پہنچایا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر تو امریکی صدر نے ڈاکٹر روحانی سے ملاقات کی خواہش پورا کرنے کے لیے منت سماجت کی روش اختیار کرنے سے بھی گریز نہ کیا۔ ایران کے خلاف امریکہ کے زیادہ سے زیادہ دبائو کے ہتھکنڈے سمیت متعدد حربے ناکام ہو چکے ہیں۔ اسی لیے تو رہبر انقلاب اسلامی نے بڑی صراحت کےساتھ کہا ہے کہ ایران ترقی کی طرف گامزن ہے اور امریکہ کی زیادہ سے زیادہ دبائو بڑھانے والی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔
خبر کا کوڈ : 819859
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے