1
Thursday 3 Oct 2019 17:40

ڈونلڈ ٹرمپ کا قبل از وقت زوال

ڈونلڈ ٹرمپ کا قبل از وقت زوال
تحریر: سید رحیم نعمتی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تقریبا دو ماہ پہلے فتح کا احساس کر رہے تھے۔ رابرٹ مولر 2016ء کے صدارتی انتخابات میں روس کی ممکنہ مداخلت کے بارے میں دو سال تک تحقیق کرنے کے بعد اپنی رپورٹ پیش کرنے اور اراکین کے سوالات کا جواب دینے کیلئے کانگریس گئے ہوئے تھے۔ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کے حریف اراکین رابرٹ مولر کے ساتھ اپنی نشست کو ٹرمپ کے خلاف محاذ میں تبدیل کر دینے کی کوشش کر رہے تھے لیکن مولر انہیں اپنی 450 صفحات پر مشتمل رپورٹ سے رجوع کرنے کو کہتے تھے یا ان کے سوالات کا جواب دینے سے گریز کرتے تھے۔ اراکین کے سوالات کی تعداد 200 تک پہنچ چکی تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس نشست سے بہت خوش تھے اور بار بار اپنے جذبات کا اظہار ٹویٹر پر کر رہے تھے۔ ملک اور ریپبلکنز کیلئے "ایک بڑا دن" قرار دے رہے تھے جبکہ ڈیموکریٹس کیلئے "مصیبت والا دن" جان رہے تھے۔ اسی طرح وہ کانگریس میں رابرٹ مولر کی موجودگی کو "امریکی تاریخ میں سب سے بھونڈا عمل" بھی کہہ رہے تھے۔ اب اگرچہ اس واقعہ کو بہت کم عرصہ ہی گزرا ہے لیکن حالات اس قدر تبدیل ہو چکے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ پریشانی کے عالم میں "وطن سے غداری" اور اپنے خلاف "بغاوت" کی خبریں دے رہے ہیں۔
 
اس بار رابرٹ مولر کی رپورٹ کے برعکس موضوع انتہائی سادہ ہے اور 25 جولائی کے دن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرائن کے صدر ولادیمیر زلانسکی کے درمیان انجام پانے والی ٹیلیفونک گفتگو سے متعلق ہے۔ اس گفتگو کا اصل موضوع یوکرائن کو ملنے والی امریکہ کی 400 ملین ڈالر پر مبنی فوجی امداد تھا۔ کانگریس اس فوجی امداد کی پہلے سے منظوری دے چکی تھی۔ اب ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرائن کے صدر کو فون کر کے اس فوجی امداد کو اپنے سیاسی حریف جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کی اقتصادی سرگرمیوں کے بارے میں تحقیقات سے مشروط کر دیا تھا۔ انہوں نے یوکرائن کے صدر سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس کیس مین امریکہ کے وزیر انصاف ویلیم بار اور اپنے ذاتی وکیل روڈی جولیانی سے تعاون کریں۔ اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ٹیلیفونک گفتگو کے بعد یوکرائن کو فراہم کی جانے والی فوجی امداد بھی معطل کر دی تھی اور تقریبا دو مہینے تک یہ امداد معطل رہی۔ ایوان نمائندگان میں موجود ڈیموکریٹک اراکین کو اس معاملے کی خبر ایک انٹیلی جنس افسر نے خفیہ طور پر دی تھی۔
 
یہ خبر ملتے ہی ڈیموکریٹک اراکین نے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک کا آغاز کر دیا۔ ان کا دعوی ہے کہ امریکی صدر نے اپنے ذاتی مفادات کیلئے طاقت کا غلط استعمال کیا ہے لہذا اب وہ ملک کے صدر کے عہدے پر فائز رہنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ یہ تحریک فی الحال اپنے ابتدائی مراحل میں ہے اور کانگریس کی تین کمیٹیوں انٹیلی جنس، نظارت اور خارجہ امور کے سربراہان مل کر اس بارے میں تحقیق کر رہے ہیں۔ اب تک وہ اس بارے میں ویلییم بار، روڈی جولیانی اور وزیر خارجہ مائیک پمپئو اور وزارت خارجہ کے چار اعلی سطحی عہدیداروں کو بلا کر ان سے پوچھ گچھ کر چکے ہیں۔ ویلیم بار نے ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرائن کے صدر کے درمیان اس ٹیلیفونک گفتگو کا متن اراکین کانگریس کو فراہم کیا تھا۔ لیکن اراکین کانگریس اس سے مطمئن نہ ہوئے اور انہیں پوچھ گچھ کیلئے بلا بھیجا۔ جب کانگریس کسی کو بلاتی ہے تو اس کا مقصد قسم کھا کر گواہی دینا ہوتی ہے اور اہم نکتہ یہ ہے کہ اس سے نہ تو فرار ممکن ہے اور نہ ہی اراکین کانگریس کے سامنے جھوٹا بیان دیا جا سکتا ہے۔
 
کانگریس میں حاضر ہونے کے بعد یہ افراد امریکی صدر اور یوکرائن کے صدر کے مابین انجام پانے والے مکالمے سے متعلق حقائق واضح کرنے کے ساتھ ساتھ اراکین کے دیگر ایسے سوالات کا جواب دینے کے بھی پابند ہوں گے جو دوسرے مسائل سے متعلق ہیں۔ اگرچہ ان افراد نے اب تک کانگریس کے حکم سے چشم پوشی کی کوشش کی ہے لیکن وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اراکین کانگریس اس بارے میں تحقیق انجام دینے کیلئے سنجیدہ ہیں اور آخرکار انہیں گواہی دینے کیلئے کانگریس میں حاضر ہونا ہی پڑے گا۔ لہذا ڈونلڈ ٹرمپ اس بار شدید خطرے کا احساس کر رہے ہیں اور ٹویٹر پر مختلف بیانات دے کر اراکین کانگریس پر دباو ڈالنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں دعوی کیا ہے کہ کہ کانگریس کا یہ اقدام ایسی بغاوت ہے جس کا مقصد عوام کی طاقت، ان کا مینڈیٹ، ان کی آزادی، آئین کی دوسری شق، سرحدی دیوار اور امریکی شہریوں کے بنیادی حقوق ختم کرنا ہے۔ ان کے اس پیغام سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کانگریس کی جانب سے ممکنہ مواخذے سے شدید خوفزدہ ہیں اور عنقریب اپنے زوال کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ رابرٹ مولر کی رپورٹ پیش کئے جانے کے وقت جو اطمینان ان میں دیکھا جا رہا تھا اب وہ قابل مشاہدہ نہیں ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 819950
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے