12
Saturday 5 Oct 2019 08:22

خامنہ ای ڈاکٹرائن کے ثمرات !

خامنہ ای ڈاکٹرائن کے ثمرات !
تحریر: محمد سلمان مہدی
 
مشرق وسطیٰ کے تحولات کو دنیا بھر کی حکمران شخصیات ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی ہیں۔ ایران تا عراق، و یمن، شام، و فلسطین و لبنان، خلیجی عرب ممالک، ہر جگہ بعض طاقتیں ناکام نظر آرہی ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی میں غصہ و جھنجھلاہٹ کی کیفیت چھپائے نہیں چھپتی۔ کیپٹل ہل سے اوول آفس تک، فوگی بوٹم سے لینگلے اور آرلنگٹن تک طاقت کے سارے مراکز بے چین ہیں۔ زبان انکی انگریزی سہی، مگر انکی حالت پر اردو کا یہ شعر صادق آتا ہے۔ الٹی ہوگئیں سب تدبیریں، کچھ نہ دوا نے کام کیا۔ جنہیں مستحکم رکھنے کے جتن کئے، وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ جنہیں نابود کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا، وہ غالب ہوتے جارہے ہیں۔ اور معلوم سبھی کو ہے کہ اس سب کے پیچھے صرف ایک نظریہ کارفرما ہے یعنی، خامنہ ای ڈاکٹرائن۔
 
یہاں خامنہ ای سے مراد امام خامنہ ای ہیں۔ جی ہاں، رھبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای۔ ابھی انکی قیادت و رھبری کو محض تیس سال گذرے ہیں۔ محض پچیس برس قبل آیت اللہ العظمیٰ اراکی کی رحلت پر مرجعیت جہانی کی بھاری ذمے داری بھی انکے کاندھوں پر آگئی۔ بس یہ ایک تکلف ہی تھا یا بزرگ مرجع کا احترام, ورنہ اس عظیم منصب پر تو وہ امام خمینیؒ کی رحلت کے بعد سے ہی فائز تھے۔ خیر، یہ موضوع نہیں ہے، اس پر پھر کبھی سہی۔ بات ہورہی ہے عالمی سیاسی منظر نامے میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کی۔ اور پچھلے پچیس تیس برسوں سے اب تک کے سفر کی۔
 
1989ء میں انکا اپنا ملک ایران صدام کی مسلط کردہ جنگ کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاریوں کے بعد تعمیر نو میں مصروف تھا۔ نیشن بلڈنگ یا ری کنسٹرکشن اتنا آسان کام نہیں ہوتا۔ تباہ شدہ انفراسٹرکچر کے ساتھ ملک ترقی نہیں کیا کرتے۔ ایسا ملک کہ جس کی قیادت کا نعرہ لاشرقی لاغربی، جمہوری اسلامی ہو۔ ایسا ملک کہ جس نے بائی پولر ورلڈ میں طاقت کے دونوں مراکز سے بیک وقت دوری رکھتے ہوئے دونوں سے نجات حاصل کی ہو۔ جس نے طاقت کے ایک مرکز کے جاسوسی کے سب سے بڑے اڈے کو بے نقاب کیا ہو۔ جس نے یونی پولر دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے ساتھ چالیس برس تک مبارزہ کیا ہو۔ اور اب چالیس برس بعد بھی اس بڑی طاقت یعنی امریکا کی ڈکٹیشن کو مسترد کرتا ہو۔ اس ملک ایران کا قائد و رہبر سید علی خامنہ ای ہے۔
 
ویسٹ فیلیا کے بطن سے جنم لینے والے موجودہ بین الاقوامی سیاسی نظام کے تسلسل میں چلنے والی اس دنیا میں اگر کوئی ایک ملک منفرد نظریے اور بالکل ہی مختلف قیادت و رھبری کے ساتھ چالیس سال کا سفر طے کرچکا ہے تو وہ ایران ہے۔ امام خمینیؒ اور امام خامنہ ای جیسا کوئی اور سربراہ مملکت دنیا کے کسی اور ملک میں نظر نہیں آتا۔ امام خمینی کی قیادت و رھبری کے دس برس صدام کی مسلط کردہ جنگ اور بڑی و علاقائی طاقتوں کی خفیہ سازشوں کا سامنا کرتے گذر گئی۔ ان دس برسوں اور اسکے بعد کے تیس برسوں میں محض ایک فرق نمایاں طور پر سامنے آیا۔ انقلاب اسلامی ایران نے ایک عملی اور کامیاب نظریے کے طور پر اپنی حیثیت منوالی۔ ایران نے مشرق وسطیٰ کے عوام کے دل و دما غ جیت لئے۔
 
لبنان میں حزب اللہ وہاں کی پارلیمانی سیاست کا ایک ناگزیر حصہ بن کر ابھری۔ بیک وقت منتخب عوامی جماعت اور مسلح مقاومتی تحریک بن گئی۔ فلسطین میں حماس اور حزب جہاد اسلامی کو انقلابی ایران کی صورت میں ایک مددگار میسر آیا۔ حماس نے بھی فلسطینی سیاست میں حصہ لیا اور بلدیاتی حکومت سے قومی فلسطینی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ یہ بھی حزب اللہ لبنان کی طرح بیک وقت منتخب سیاسی جماعت اور مسلح مقاومتی تحریک بن گئی۔ اور امریکا واسرائیل کا تمام ترمنفی پروپیگنڈا بھی اس حقیقت کو چھپا نہیں سکتا کہ لبنان و فلسطین کے عوام کا مینڈیٹ علی الترتیب حزب اللہ و حماس کے پاس ہے۔  
 
جب صدام حکومت مکافات عمل کا شکار ہوئی، اسکے سرپرست امریکا و عرب ممالک اسکے خلاف ہوگئے۔ اور مس کیلکیولیشن کرکے جنگ کردی۔ عراقی عوام نے صدام سے نجات پر جشن منایا مگر امریکی مداخلت بھی مسترد کردی۔ عوامی رائے سے نیا آئین اور نیا سیاسی نظام بنایا۔ یہاں آیت اللہ باقر الصدر اور آیت اللہ باقر الحکیم کے سیاسی وارثوں نے پارلیمانی سیاست میں بھرپور شرکت کی اور کامیابی حاصل کی۔ یہاں بھی وہی منظر دیکھا گیا کہ منتخب سیاسی جماعتیں بیک وقت مسلح مقاومتی تحریکیں اور پارلیمانی نمائندہ ہیں۔ یمن میں حوثی تحریک جو اب حرکت انصار اللہ کے نام سے معروف ہے، یہ بھی عوام کی مقبول و منتخب جماعت بھی ہے تو مسلح مقاومتی تحریک بھی ہے۔
 
اس نئی ڈاکٹرائن سے فائدہ یہ ہوا ہے کہ اب غیر ملکی طاقتیں ان میں سے جس ملک کو بھی بلیک میل کرنا چاہتی ہیں۔ یااپنے نیابتی گروہوں کو استعمال کرکے مصنوعی بحران ایجاد کرنا چاہتی ہیں۔ یا ان ملکوں پر براہ راست جنگیں مسلط کرکے ان پر مرضی کی حکومت مسلط کرنا چاہتی ہیں، یا ان پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں تو، وہ اس میں ناکام رہتی ہیں۔ کیونکہ، یہ فرزندان زمین اپنے مادر وطن کے دفاع میں ہر دو محاذوں پر بیک وقت جنگ کے لئے ہمہ وقت آمادہ رہتے ہیں۔ پارلیمانی سیاسی محاذ پر بھی اور مسلح مقاومتی و مزاحمتی محاذ پر بھی۔
 
لبنان کی مثال سامنے ہے۔ تینتیس روزہ جنگ 2006ء میں اسرائیل نے ہر طرح کی کوشش کرکے دیکھ لی۔ جنوبی لائن کی سپلائی لائن منقطع کردی۔ پورے لبنان اور پورے خطے سے اسکا مواصلاتی رابطہ منقطع کردیا مگرلبنان پر نیا قبضہ کرنے میں ناکام رہا۔ حتیٰ کہ اسکے دو پرانے قبضوں کو بھی حزب اللہ نے ختم کیا تھا، ایک 1996ء میں اور دوسرا 2000ء میں۔ اور حال ہی میں حزب اللہ نے اسرائیلی ڈرون بھی مار گرائے۔  یاد رہے کہ اسرائیل نے 1978ء میں بھی اور 1982ء میں بھی لبنان پر باقاعدہ یلغار کی تھی اور قبضے کئے تھے۔ یہ لبنان کے دفاع کی جنگ تھی جو لبنانیوں نے لڑنا تھی، مگر لبنانی سوائے آپس میں لڑنے کے کوئی ڈھنگ کا کام کرنا جانتے ہی نہیں تھی۔ اسرائیل انکا دشمن انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی سے بھی بہت پہلے سے تھا۔ یہ ایران نہیں تھا جس نے لبنان پر چڑھائی کی، یا جنگ کی، بلکہ یہ امریکا وبرطانیہ کا لاڈلا اسرائیل تھا، جس نے یہ کیا۔ اوراس سے ملتی جلتی صورتحال فلسطین میں بھی رہی۔
 
داعش کا عراق پر حملہ اور قبضہ ہو یا داعش اور اس جیسے دوسرے گروہوں کا شام پر حملہ اور قبضہ ہو، یہاں بھی سرزمین کا دفاع امریکا یا سعودی عرب کے اتحادیوں نے نہیں کیا۔ بلکہ وہ تو نیابتی جنگ میں اپنے ہی مادر وطن اور اپنے ہی ہم وطنوں کو حتیٰ کہ ہم وطن مسلمانوں کو، حتیٰ کہ اپنے ہم مسلکوں کو بھی قتل کرنے لگے۔ یہاں بھی یہی مسلح مقاومتی تحریکیں جو عوام کی منتخب پارلیمانی سیاسی جماعتیں بھی ہیں، انہوں نے ہی مادر وطن کا اور ہم وطن انسانوں کا دفاع کیا۔ جب سعودی فوجی اتحاد نے یمن پر جنگ مسلط کردی، اپنی من پسند حکومت مسلط کرنے کی کوشش کی تو یہاں بھی عوام کی منتخب پارلیمانی سیاسی قیادت کے تحت مسلح مقاومتی تحریک نے یمن کا دفاع کیا۔
 
یہ دفاع کامیاب دفاع ہے۔ ایران، عراق، یمن، شام و لبنان و فلسطین کے دشمن اپنے اہداف میں، اپنی سازشوں میں ناکام رہے ہیں۔ اربعین حسینیؑ سے قبل عراق میں عوامی احتجاج اور اسکو ہائی جیک کرنا، قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو ایران میں یا مرجع تقلید آیت اللہ سیستانی کو عراق میں شہید کرنے کی سازش کرنا، یہ انکی ناکامی، مایوسی اور غصے کی انتہاء کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ الگ بات کہ اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم سے یہ دونوں قاتلانہ سازشی منصوبے ناکام بنادیے گئے۔ جبکہ عوامی احتجاج کی آڑ میں منفی سرگرمیوں سے منتخب سیاسی قیادت انتظامی و سیاسی طریقوں سے نمٹ رہی ہے۔ ان میں سے ہر موضوع کو مختصر بیان کرنے کے لئے بھی کم سے کم ایک الگ تحریر درکار ہے جو ممکن ہے آئندہ لکھی جاسکیں۔
 
قصہ مختصر یہ کہ مشرق وسطیٰ کے ان ممالک کے دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کا کریڈٹ ان مسلح مقاومتی تحریکوں کو جاتا ہے۔ لیکن ان سب کی اس اجتماعی بصیرت، اس مقاومتی اشتراک، اتحاد، ہم آہنگی کے پیچھے کون ہے؟ اس مقاومتی محور کا قائد و رہبر کون ہے۔ جی ہاں! ان رزمندگان کے رہنما امام خامنہ ای ہیں۔ عالمی سیاست کے لات و منات و عزیٰ و ھبل ٹوٹ پھوٹ کر گررہے ہیں تو یہ خامنہ ای ڈاکٹرائن کا صدقہ ہے۔ یہ خامنہ ای ڈاکٹرائن کے ثمرات ہیں کہ مقامات مقدسہ محفوظ ہیں۔ مولا امیر المومنین ؑ کا حرم مطھر ہو، امام حسینؑ کا مزار مقدس ہو، کاظمین و سامرہ میں دیگر چار آئمہ اہلبیت ؑ کے حرمین شریفین ہوں یا دمشق میں بی بی سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کا روضہ مبارک، یا پھر عراق و شام میں دیگر صحابہ کرام کے مزارات، ان سبکی حفاظت جن مدافعین حرم نے کی، جن امامزادگان عشق نے یہ کارنامے انجام دیے، یہ سب خامنہ ای ڈاکٹرائن کے مقلد ہیں۔ اور خامنہ ای کون ہیں؟ امام حسینؑ کی نسل کوثر میں سے سید علی حسینی۔ نام ہی کافی ہے!
خبر کا کوڈ : 820162
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب