0
Saturday 5 Oct 2019 09:00

عراق میں ہونیوالے مظاہروں کے پس پردہ عوامل

عراق میں ہونیوالے مظاہروں کے پس پردہ عوامل
تحریر: سید کاشف علی

عراق میں منگل سے شروع ہونے والے احتجاج میں اب تک مختلف مقامات پر چوالیس افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، دارالحکومت بغداد میں مظاہرین نے عراقی حکومت کی مبینہ کرپشن، ناقص طرز حکمرانی اور بے روزگاری کے خلاف احتجاج کیا، مظاہرین نے ہائی سیکورٹی گرین زون کی طرف مارچ کی کوشش کی، جہاں حکومتی عمارات اور بین الاقوامی اداروں کے دفاتر اور سفارت خانے موجود ہیں، عراقی سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینین کا استعمال کیا۔ احتجاج کا سلسلہ عراق کے دیگر شہروں تک پھیل گیا۔ مظاہرین نے نجف، عمارہ، ناصریہ میں سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا، اس کے علاوہ بصرہ، سماوا، کرکوک اور تکریت میں بھی مظاہرے کیے گئے جو کہ نسبتاً پرامن رہے۔ پرتشدد مظاہروں کے بعد بغداد، عمارہ، ناصریہ اور ہلہ میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔ اس حوالے سے یاد رہے کہ عراق میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی، ناقص طرز حکمرانی اور بے روزگاری کی موجودگی سے کوئی بھی ذی شعور انسان انکار نہیں کر سکتا۔

اس بات کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جمعہ کو مرجع عالی قدر حضرت آیتہ اللہ سیستانی نے بھی عراقی حکومت کو اصلاح احوال کی تاکید کی۔ البتہ جنگ سے تباہ حال عراق کے معاشی، معاشرتی اور سماجی مسائل کو بنیاد بنا کر حکومت پر دباو بڑھانے کے اہداف کا بینادی تعلق عراق کی داخلی سیاست سے زیادہ خطے کی جیو پالیٹکس سے ہے۔ عراق کی موجودہ صورت حال کو صرف اربعین حسینیؑ کے تناظر میں دیکھنا معاملات کو بہت سادگی سے دیکھنا ہو گا۔ البتہ اس حساس موقع پر جب حکومت کی تمام تر توجہ کامیاب اور محفوظ اربعین حسینیؑ کے انعقاد پر ہے، ایسے میں ایک پرتشدد احتجاجی تحریک شروع کرنے کا مقصد بھی حکومت پر دباو بڑھانا ہے۔ جس سے مظاہرین کے پشت بان اس احتجاجی تحریک کے اصل اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یعنی عراق میں حزب الشیطان کے اثر و رسوخ میں اضافہ کرکے اسے مرکز مقاومت سے دور کرنا۔ جہاں تک اربعین حسینیؑ کا تعلق ہے تو اگر صدام اور داعش کے عروج میں اس معجزہ حسینی کو کوئی نہ مٹا سکا تو اب بھی دنیا کی کوئی طاقت اربعین حسینیؑ میں خلل نہیں ڈال سکتی۔

اس لیے اربعین حسینیؑ کے لیے ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ہم حسینیت کی نہیں،حسینیت ہماری حفاظت کر رہی ہے، اور قرآن صامت کے ساتھ ساتھ قرآن ناطق کی حفاظت کی ذمہ داری بھی پرورگار نے خود اٹھائی ہوئی ہے۔ یہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا۔ دنیا کی کوئی طاقت اس کو مٹا نہیں سکتی۔ جیسا کہ جون 2014ء میں موصل پر داعش کے قبضے کے بعد آیت اللہ سیستانی نے عراق کے دفاع کا فتویٰ صادر فرمایا، داعش کے خلاف برسرپیکار چالیس ملیشیاوں نے ایک کمانڈ کے تحت لڑنے کا فیصلہ کیا، یوں حشد الشعبی وجود میں آئی، جس میں بدر تنظیم، کتائب حزب اللہ، کتائب سید الشہداء سمیت سات ایسے بڑے گروپس تھے جن کا ایران کی سپاہ پاسدران انقلاب اسلامی سے گہرا تعلق تھا۔ دوسرا مضبوط ترین مقتدیٰ الصدر کا سریا السلام نامی گروپ ہے، حشد میں آیت اللہ سیستانی کے براہ راست ماتحت گروہوں کے علاقہ سنی اور عراقی قوم پرستوں کے عسکری گروہ بھی شامل ہیں۔ لیکن سپاہ پاسداران سے منسلک گروہوں کا کردار قائدانہ رہا ہے۔

جس طرح لبنان میں اسرائیل کی شکست کے بعد حزب اللہ بڑی طاقت کے طور پر سامنے آئی، داعش کی شکست کے بعد عراق میں حشد الشعبی ایک فیصلہ کن قوت بن کر ابھری، خصوصا ایسے حالات میں کہ جب عراق کی باقاعدہ فوج کمزور ہے، خطے میں سب کی نظریں حشد پر ہیں، جس کا حشد پر کنٹرول ہو گا، وہی عراق میں فاتح ہو گا، حشد پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب بھی متحرک ہیں، یہ ممالک حشد الشعبی کو ایران کے اثرورسوخ سے نکالنا چاہتے ہیں۔ بدر سمیت حشد کے اہم ترین گروہ ایران کو اپنا فطری حلیف سمجھتے ہوئے، اس کے برعکس کے لیے کوشاں ہیں۔ وہ حشد کو حزب اللہ لبنان کے طرز پر ایک آزاد و مختار فوجی طاقت بنانا چاہتے ہیں، جو خطے میں امریکی، اسرائیلی و سعودی عزائم کا جنازہ نکال سکے۔ اس وقت عراق میں رحمانی اور  شیطانی قوتوں کی کشمکش چل رہی ہے۔ شیطانی قوتیں عراق کو اپنے محور کی جانب، جبکہ رحمانی لشکر عراق کو اپنے قریب رکھنا چاہتا ہے۔

عراق کی سمت کے تعین کا انحصار  حشد الشعبی کے مستقبل، تنظیمی ڈھانچے اور کمانڈر کے انتخاب پر  ہے۔ جس طرح لبنان کی سمت کا تعین حزب الله نے کیا، عراق میں وہی کام حشد کرے گی۔ جس طرح اسرائیل کی شکست کے بعد حزب الله کو ختم اور غیر مسلح کرنے کے لیے لبنانی حکومت پر دباو تھا، بعینہ حشد کی تنظیم نو کے لیے عراقی وزیراعظم پر دباو ہے۔ امریکی اور اندرونی دباو کی وجہ سے عراقی وزیراعظم حشد کے حوالے سے متعدد فرامین جاری کر چکے ہیں۔ 30 ستمبر ڈیڈ لائن تھی۔ تمام ملیشیاؤں کو اپنی سابقہ وابستگیاں اور نام ترک کر دینے کا حکم دیا گیا۔ اب حشد براہ راست عراقی وزیراعظم کے براہ راست ماتحت ہونے کے بجائے عراقی آرمی چیف کے ماتحت ہو گی۔ حشد کی الگ سے متوازی کمانڈ ختم کر دی گئی ہے۔ ملیشیاؤں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ سیاست اور مقاؤمت میں سے ایک کا انتخاب کریں۔ جو گروپ سیاست کرنا چاہتا ہے اسے مقاومت کی اجازت نہیں اور نہ وہ اپنے پاس ہتھیار رکھ سکتا ہے۔

عراقی وزیراعظم کے اس فرمان کی نافرمانی کرنے والے مسلح گروہوں کو غیر قانونی قرار دیا جائے گا۔ اکتوبر میں شروع ہونے والے احتجاج کا مقصد عادل عبدالمہدی پر دباو قائم کر کے اس سے من مانے فیصلے کروانا ہے۔ حشد کا دوسرا اہم ترین گروپ مقتدیٰ الصدر کا ہے۔ مقتدیٰ الصدر نے پرامن احتجاج کی حمایت کی ہے، مقتدیٰ کی جماعت سائرون کو عراقی پارلیمان میں سب سے زیادہ 54 سیٹیں حاصل ہیں، مقتدیٰ نے اپنی جماعت کے ارکان کو تب تک پارلیمانی سرگرمیاں معطل کرنے کا حکم دیا ہے، جب تک بقول ان کے حکومت عراقی عوام کی امنگوں کے مطابق اصلاحات کا پروگرام متعارف نہیں کرواتی۔ مقتدیٰ ایک طرف اپنی ہی حکومت پر دباو بھی بڑھا رہے ہیں، جس میں وہ ہادی العامری کے فتح الائنس اور دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحادی ہیں، فتح کے پاس پارلیمنٹ میں 48 نشستیں ہیں اور وہ عراق کی دوسری بڑی پارلیمانی جماعت ہے۔ مقتدیٰ نے حشد الشعبی کے حوالے سے عراقی وزیراعظم کا فیصلہ تسلیم کرتے ہوئے اپنے عسکری گروپ کا نام ظاہرا اپنے ساتھ وابستگی ترک کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حال ہی میں مقتدیٰ ایران کے سپریم لیڈر اور جنرل قاسم سلیمانی کے ساتھ تصاویر میں بھی دکھائی دئیے، یہ وقت فیصلہ کرے گا کہ مقتدی عراق میں ایران کا اثرورسوخ ختم کرنے کے حق میں ہیں یا ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یا وہ اپنی روش کو خود مختار عراق کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ امریکہ اور اس کے حواریوں کی کوشش ہے کہ حشد کے موجودہ ڈپٹی چیف اور جنرل قاسم سلیمانی کے یاور خاص ابو مہدی مہندس کو نئے سیٹ اپ میں حشد کی کمانڈ سے دور رکھا جائے۔ مہدی مہندس اور بدر بریگیڈ کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ ہادی العامری مرکز مقاومت کے انتہائی قریب ہیں، دونوں قاسم سلیمانی کے قریبی دوست اور مطیع رہبر ہیں۔ دفاع مقدس اور صدام کے خلاف عراق میں ہونے والی جدوجہد میں بھی دونوں کا کلیدی کردار رہا۔ امریکہ، اسرائیل اور ان کے گماشتے ابو مہدی مہندس سے سخت خائف ہیں۔

مہندس امریکہ اور کئی عرب ممالک کو جوانی میں کی جانی والی انقلابی کاروائیوں کی وجہ سے بھی مطلوب ہیں۔ امریکہ کی کوشش ہے کہ ابو مہدی مہندس اور ان جیسے دیگر انقلابیوں کو حشد الشعبی کی کمانڈ اینڈ کنٹرول کی ذمہ داریوں سے دور رکھے۔ اس مقصد کے لیے عراقی وزیراعظم پر مختلف طریقوں سے دباو ڈالا جا رہا ہے۔ حالیہ فسادات بھی عادل عبدل المہدی پر دباو بڑھانے کے حربے ہیں۔ یاد رہے کہ عادل مہدی کی اپنی کوئی جماعت نہیں، وہ مقتدی کی سائرون، ہادی العامری کی جماعت اور دیگر جماعتوں سے بننے والے اتحاد کے متفقہ وزیراعظم ہیں۔ عراق اور عادل عبدالمہدی کے مستقبل کا انحصار حشد الشعبی کی اہم پوزیشنوں پر کی جانے والی تعیناتیوں پر ہے۔ عراقی وزیراعظم کی تعیناتیوں سے فیصلہ ہو گا کہ وہ عراق کو رحمانی لشکر کے قریب رکھنا چاہتے ہیں یا لشکر شیطان کی ڈکٹیشن قبول کرتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 820165
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب