0
Saturday 5 Oct 2019 12:21

متشدد ہندو تنظیم آر ایس ایس، نظریہ اور نیٹ ورک (1)

متشدد ہندو تنظیم آر ایس ایس، نظریہ اور نیٹ ورک (1)
ترتیب و تنظیم: ٹی ایچ بلوچ

مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کو اقوام متحدہ میں واضح کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان بار بار جس انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کا ذکر کیا ہے، یہ تنظیم 1925ء میں معرض وجود میں آئی، جس کا نعرہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہے، جو مودی مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کیلئے ہٹلر کے نقش قدم پر چل رہے ہیں، جس نے 1933ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد پڑوسی ممالک پر حملوں کا اغاز کیا، جرمنی کی سرحدوں کو پھیلانے کیلئے لاکھوں معصوم لوگوں کا قتل عام کیا گیا۔ بھارتی وزیراعظم مودی اسی کے رکن اور مہرے ہیں، انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو انسانیت کا قاتل بھی قرار دیا تھا۔ حال ہی میں آر ایس ایس کے اہم لیڈر نے متنازع بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 2021ء تک بھارت میں سے عیسیائیوں اور مسلمانوں کا خاتمہ کر دیں گے۔ ان کے اس بیان کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر مسلم اور کرسچن ٹرینڈ کرنے لگا ہے۔ آر ایس ایس کے عزائم کو بے نقاب کرتے ہوئے بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی نے مئی 2017ء میں خبردار کیا تھا کہ راشڑیہ سوائم سیوک سنگھ جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں کے بعد کشمیر آر ایس ایس کا اگلا ہدف ہے۔

جرمن نازیوں کی طرح راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ بھارت میں کسی دوسرے مذہب کے پیروکار یا عقیدت مند کو زندہ رہنے کا حق دینے کے لیے تیار نہیں، تاریخی لحاظ سے
آر ایس ایس اصل میں نازی سوچ کی پیروکار ہے اور اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے دنگا فساد کرانے سے لے کر نسل پرستی سمیت ہر قسم کے منفی ہتھکنڈے کو اختیار کرنے میں وہ عار محسوس نہیں کرتی ہے، خواہ وہ فوجیوں کا قتل عام ہی کیوں نہ ہو؟۔ راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ خود کو دراصل قوم پرست ہندو تنظیم قرار دیتی ہے، لیکن متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہی ہے۔ آر ایس ایس کے بانی کیشوا بلی رام ہیڑگیوار کا دعویٰ تھا کہ بھارت ایک ہندو ملک ہے، برطانوی دور حکومت میں اس تنظیم پر ایک مرتبہ اور تقسیم ہند کے بعد اس پر تین مرتبہ عقائد اور حرکات و سکنات کے باعث پابندیاں بھی عائد کی گئیں۔ 1948 میں مہاتما گاندھی کا قتل اسی تنظیم سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن ناتھورام ونائک گوڑ نے کیا تھا۔ احمد آباد فساد، تلشیری فساد اور جمشید پور فرقہ وارانہ فسادات بھی اسی کے شیطانی ذہن کی اختراع قرار دیے جاتے ہیں۔ دسمبر 1992ء میں جب بابری مسجد کا انہدام ہوا تو اس کی پشت پر بھی یہی تنظیم موجود تھی۔

آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے کارکن نے مہاتما گاندھی کا صرف اس لیے قتل کردیا تھا کہ انہوں نے پاکستان اور مسلمانوں کے غصب کیے جانے والے جائز حقوق نوزائیدہ مملکت کو دینے کے لیے آواز بلند کی تھی۔ مہاتما گاندھی پراس سے قبل بھی چار مرتبہ قاتلانہ حملے کیے گئے تھے، جو ناکام رہے تھے۔ مہاتما گاندھی کو پورے بھارت میں عام ہندوستانی باپو کے نام سے پکارتا ہے، لیکن ہندو توا کے پیروکاروں ان کے لہو سے ہاتھ رنگنے میں شرم محسوس نہیں کی، بلکہ فخریہ اس کا اعتراف کرتے ہیں۔ اس کے بڑے نیتاؤں نے بھی اس گھناؤنے منصوبے اور قتل پر کبھی معافی مانگنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ پاکستان میں نام بدل کر کام کرنیوالی کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی طرح مہاتما گاندھی کے بہیمانہ قتل کے بعد جب راشڑیہ سیوک سنگھ کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی، تو اس کے نیتاؤں نے اپنا دامن صاف دکھانے کے لیے نئی سیاسی جماعت جن سنگھ قائم کرلی تھی، جو ملک میں ہندو راج چاہتی تھی۔ مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی نے اسی کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا اور مسلمان دشمنی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کا اگر نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح ہٹلر نے غیر جرمنوں کی بڑے پیمانے پر نسل کشی کی تھی، بالکل اسی طرح یہ مقبوضہ کشمیر سمیت دیگر علاقوں میں آباد غیر ہندوؤں کے قتل عام میں مصروف ہے۔

بھارت کی مختلف حکومتوں کی جانب سے کئی واقعات کی تحقیقات کے لیے جب کمیشنز بنائے گئے تو انہوں نے بھی اپنی تحقیقاتی رپورٹس میں آر ایس ایس کو ہی مورد الزام ٹھہرایا۔ جن فسادات میں سرکاری طور پر اس تنظیم کو ذمہ دار قرار دیا گیا، ان میں احمدآباد فساد پر تیار ہونے والی جگموہن رپورٹ، بھیونڈی فساد پر ڈی پی ماڈن رپورٹ، تلشیری فساد پر وتایاتیل رپورٹ، جمشید پور فساد پر جتیندر نارائن رپورٹ، کنیا کماری فساد پر وینوگوپال رپورٹ اور بھاگلپور فساد پر تیار کی جانے والی رپورٹ شامل ہیں۔ بھارت میں آر ایس ایس کے نظریات اور اس کے خیالات سے اتفاق کرنے والی دیگر تمام تنظیموں کو عمومی طور پر سنگھ پریوار کہا جاتا ہے۔ اس کی دیگر ہم خیال تنظیموں میں وشوا ہندو پریشد، بھارتیہ جنتا پارٹی (سنگھ پریوار کی سیاسی جماعت)، ون بندھو پریشد، راشٹریہ سیوکا سمیتی، سیوا بھارتی، اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (سنگھ پریوار کا اسٹوڈنٹس ونگ)، ونواسی کلیان آشرم، بھارتیہ مزدور سنگھ اور ودیا بھارتی شامل ہیں۔ بھارت کی اپنی تحقیقاتی ایجنسیوں اور اداروں نے ماضی میں ہونے والے مالیگاؤ بم دھماکہ، حیدرآباد مکہ مسجد بم دھماکہ، اجمیر بم دھماکہ اور سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکہ میں سنگھ پریوار کی تنظیموں کو ملوث قرار دیا ہے۔ انڈیا میں جنگجو تنظیمیں ہتھیار حاصل نہیں کر سکی ہیں اور ان کا سب سے مؤثر ہتھیار ہجومی اور اجتماعی تشدد ہے اور یہی ان کا کامیاب حربہ ہے۔

بھارت میں عام تاثر ہے کہ آر ایس ایس کی ذیلی تنظیمیں وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل اس وقت زیادہ تر دہشت گردانہ کارروائیوں میں مصروف ہیں، تاکہ آر ایس ایس کو محفوظ رکھا اور دکھایا جا سکے۔ بھارت میں گزشتہ سالوں کے دوران شدت اختیار کرنے والی ہجومی تشدد کی کارروائیاں اس کی بھرپور عکاس ہیں، جو سینکڑوں کی تعداد میں وقوع پذیر ہو چکے ہیں۔ ہجومی تشدد والے کسی بھی مسلمان کو تنہا گھیر کر اس سے ہندوآنہ نعرہ لگواتے اور حرام کھلاتے ہیں اور نہ ماننے پر قتل تک کرنے سے گریز نہیں کرتے ہیں۔ ان کے ظلم و ستم کا نشانہ بزرگوں سے لے کر معصوم بچے تک بن رہے ہیں اور کسی بھی جگہ سے کوئی حکومتی کارروائی عمل میں نہیں آرہی ہے۔ آر ایس ایس ایک ایسی تنظیم ہے، جس میں نظم وضبط ہے اور یہ ہندو ثقافت اور مذہبی تصورات کو فروغ دینے کے علاوہ ملک میں ایک ہندو راشٹر کے قیام کے لیے سرگرم ہے، ہندو قوم پرستی اس کے نظریے کا محور ہے، یہ تنظیم ابتدا سے ہی ہندوتوا کی جانب مائل جماعتوں اور تنظیموں سے وابستہ رہی ہے، بی جے پی اس کی سیاسی شاخ ہے، بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد، بن واسی کلیان سمیتی، اور اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد جیسی متعدد تنظیمیں اس کی محاذی شاخیں ہیں جو الک الگ علاقوں میں الگ الگ طریقے سے اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ ان سبھی تنظیموں کا نصب العین ہندوتوا کا فروغ ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے فروری 2018ء میں بھارتی ریاست بہار میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ہنگامی حالت میں بڑی تعداد میں فوج کھڑی کرنی ہو تو انڈین فوج کو اس میں کافی وقت لگے گا، لیکن آر ایس ایس محض تین دن کے اندر لاکھوں کی فوج کھڑی کر سکتی ہے۔ یہ تو پتہ نہیں کہ وہ اپنے اس بیان سے یہ بتانا چاہتے تھے کہ انڈین آرمی، فوج کے موبلائزیشن میں ان سے کہیں پیچھے ہے یا پھر یہ کہ آر ایس ایس محض ایک آواز پر فوج کھڑی کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ اسی لیے آر ایس ایس اپنے کارکنوں کو اپنے دفاع کے لیے لاٹھی چلانے کا ہنر سکھاتی ہے، بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد جیسی تنظیمیں اب اپنے ارکان کو لڑائی اور مسلح ٹکراؤ کی تربیت بھی دیتی ہیں۔ بجرنگ دل جیسی تنظیموں کی نوعیت ملیشیا جیسی ہے، جن کا کردار انتخابات میں سماجی ٹکراؤ اور سیاسی مفاد کے حصول کے لیے دنگے فساد میں اکثر نظر آتا ہے۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 820180
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب