4
Saturday 5 Oct 2019 17:07

چہلم امام حسینؑ اور بی بی سی لندن (1)

چہلم امام حسینؑ اور بی بی سی لندن (1)
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

 
انسان اور اختلافات لازم و ملزوم ہیں، ہر انسان دوسروں سے مختلف ہوتا ہے، یہ اختلاف سوچ، عقیدے اور نظریے سے لے کر رنگ، نسل، قبیلے، زبان،آداب، اخلاق ،تجارت، سیاست اور ہر طرح کے علمی و عملی شعبوں میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ ہر انسان مختلف بنیادوں پر دوسروں سے اور دوسرے بھی اس سے اختلاف کرتے ہیں۔ یہ اختلاف ہی ہے کہ جس سے دوسروں کے درمیان انسان کی انفرادیت قائم رہتی ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ صرف اپنی انفرادیت کو قائم رکھنے کیلئے بھی اختلاف کرنے کا پیشہ اپنا لیتے ہیں۔ یوں انسانی معاشرے میں اختلاف کے وجود سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ جن مفاد پرست لوگوں نے اختلاف کی طاقت اور توانائی کو سمجھا ہے انہوں نے ہر دور میں اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے اختلاف کو بطورِ ہتھیار استعمال بھی کیا ہے۔ مثلاً اگر کوئی ناعاقبت اندیش   مسلمان ، غیر مسلم طاقتوں کی ایماء پر مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہے تو اس کیلئے سب سے آسان اور سستا نسخہ یہ ہے کہ وہ اسلامی عقائد سے کھل کر انکار تو نہ کرے لیکن ڈٹ کر اسلامی عقائد کی مخالفت کرنی شروع کردے۔

چونکہ کھل کر انکار کرنے سے لوگ اسے کافر اور مشرک کہنا شروع کردیں گے، لہذا انکار کے بجائے اقرار بھی کرے اور اقرار کے ساتھ ساتھ اسلامی عقائد کو رد بھی کرے۔ جیساکہ اسلام کا بنیادی اور اساسی عقیدہ توحید ہے۔ اسلامی معاشرے میں جو شخص کھل کر توحید کا انکار کرے گا، وہ مشرک کہلائے گا، لہذا مغرض افراد کھل کر توحید کا انکار نہیں کرتے بلکہ  مختلف الفاظ، کلمات، آیات، روایات اوراصطلاحات کے ساتھ توحید کو عوام النّاس کیلئے مشتبہ بنا دیتے ہیں۔ تلبیسِ حق کا یہ عمل جس قدر اسلامی لبادے میں ہوتا ہے، اسی قدر لوگ زیادہ دھوکہ کھاتے ہیں۔ یوں سمجھئے کہ اگر کوئی شخص اسلام کے منبر سے توحید کے خلاف ہرزہ سرائی کرے گا تو کسی دوسرے پلیٹ فارم کی نسبت منبر سے لوگوں کے ساتھ فراڈ کرنا آسان ہوگا، پھر اگر یہی شخص اپنے نام کے ساتھ نعوذباللہ  مداح  و ثناخوان رسولﷺ، نعت خوان، ذاکرِ اہلبیتؑ، مبلغِ اسلام، ڈاکٹر اور علامہ ۔۔۔وغیرہ بھی لگائے گا تو لوگ اور بھی دھوکہ کھائیں گے اور  پھر اگر ایسا شخص عمامہ اور عبا قبا بھی پہن لے تو پھر تو اس کا شر اور بھی زیادہ بڑھ جائے گا۔ پس تلبیسِ حق کا عمل حق کے لبادے میں ہی آسانی سے انجام پاتا ہے۔

استعماری طاقتیں جیسے مسلمانوں کے عقائد پر حملہ آور ہیں اسی طرح مسلمانوں کے احساسات و جذبات، معیشت و اقتصاد، سیاست و اخلاق، وحدت و بھائی چارے، علم و ٹیکنالوجی، بیان و ہنر نیز ہر شعبہ زندگی پر اپنا تسلط قائم کئے ہوئے ہیں۔ استعماری طاقتوں کے کچھ ایجنٹ منبر و محراب کے ذریعے واردِ عمل ہیں اور کچھ قلم، ٹیکنالوجی اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے اپنی ذمہ داری کونبھا رہے ہیں۔ منبر و محراب والوں کی بات ہوچکی اب ذرا قلم اور ذرائع ابلاغ والوں کی بھی خبر لیجئے۔ یہ ہمیشہ مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کے خلاف صف آراء کرنے کیلئے متحرک اور فعال رہتے ہیں۔ یہ کبھی بھی سی آئی اے، ایم آئی سکس یا مستشرقین کی سازشوں کی کوئی بات میڈیا پر آنے ہی نہیں دیتے اور نہ ہی اس سلسلے میں مستقل طور پر  تجزیہ و تحلیل کے کسی سلسلے کو چلنے دیتے ہیں بلکہ یہ ہمارے ہاں کے مسلمانوں کو یہ باور کرواتے ہیں کہ آپ کے دشمن ہندوستان، امریکہ، برطانیہ  اور اسرائیل نہیں بلکہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، شاہ عبدالعزیز،امام احمد رضا خان بریلوی، امام خمینی اور سید علی خامنہ ای وغیرہ ہیں۔

چنانچہ یہ مختلف کتابوں میں لکھے ہوئے پرانے اختلافات، کہنہ غلط فہمیوں، ناخوشگوار واقعات اور قدیمی فتووں کو ہر دور میں زندہ کرتے ہیں، اور لوگوں میں ان کی تکرار کرتے ہیں تاکہ مسلمان کبھی بھی آپس میں متحد نہ ہو سکیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ عصرِ حاضرمیں استعماری طاقتوں کی چالوں کو ایران میں اسلامی انقلاب کے رہنماوں نے خود بھی اچھی طرح سمجھا ہے اور عوام النّاس کو بھی احسن طریقےسے سمجھایا ہے۔ استعمار کی سازشوں کا توڑ کرنے کیلئے ایران کے اسلامی انقلاب کے رہنماوں نے علمی اور عملی طور پر اہل تشیع اور اہل سنّت کے درمیان اتحاد اور وحدت کیلئے ہر قربانی دی ہے اور ہر قدم اٹھایا ہے۔ یہانتک کہ ایران میں شیعہ اکثریت ہونے کے باوجود کبھی کسی شیعہ فقیہ نے اہل سنت یا وہابی و دیوبندی مسلمانوں کے خلاف کفر یا واجب القتل ہونے کا فتویٰ نہیں دیا، صرف یہی نہیں بلکہ  کبھی اہل سنت کے کسی بھی فرقے کے خلاف کوئی ایسا جلوس نہیں نکالا گیا کہ جس میں کافر کافر فلاں فرقہ کافر کے نعرے لگائے گئے ہوں۔ اس کے علاوہ ایران کے سپریم لیڈر اور ولی فقیہ نے باقاعدہ یہ فتوی دیا ہے کہ اہل سنت کے مقدسات و اکابرین کی توہین اور ان کی دل آزاری حرام ہے۔

صاحبانِ علم و فکر بخوبی جانتے ہیں کہ بلاشبہ مسلمانوں میں بصیرت پیدا کرنے، استعمار کو پہچاننے اور آپس میں اتحاد و وحدت کے حوالے سے ایران کے مذہبی رہنماوں کی کوششیں آبِ ِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ مسلمانوں کے درمیان ، دشمن شناسی، بصیرت، استعمار کے مقابلے اور باہمی اتحاد و وحدت کی فضا استعمار ی طاقتوں کو ہر گز گوارا نہیں چنانچہ وہ ایک طرف تو مسلمانوں کے عقائد پر حملہ آور ہیں، ان کے درمیان فرقہ وارانہ اختلافات کو بار بار زندہ کرتے ہیں اوردوسری طرف وہ مسلمانوں کو ہر اس مرکزو محور سے بد ظن کرنے میں مصروف ہیں جو مسلمانوں کو متحد کرنے کا باعث بنے۔ ایسا ہی کچھ حالیہ دنوں میں عروج پر ہے۔ ان دنوں امام حسینؑ کے چہلم کی تقریبات کے خلاف بھی استعماری طاقتیں سرگرمِ عمل ہیں۔ جیساکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ ایام حضرت امام حسین عالی مقام کے چہلم کے ایّام ہیں۔ ان ایّام میں صرف اہل تشیع ہی نہیں بلکہ اہل اسنت بھی جوق در جوق کربلا جانے کیلئے عراق کا رخ کرتے ہیں۔ بلکہ غیرمسلم بھی عراق آتے ہیں، یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد، بے مثل اور انوکھا عظیم الشّان اجتماع ہوتا ہے۔

اس میں کوئی شیعہ اور سنی نہیں ہوتا، کوئی عربی و عجمی نہیں ہوتا، کوئی کالا اور گورا نہیں ہوتا، المختصر یہ کہ اگر عصرِ حاضر میں کسی نےمسلمانوں کے درمیان اخوّت، بھائی چارے، فداکاری، جانثاری، رواداری اور دینداری کی زندہ مثال کو دیکھنا ہو تو وہ ایک مرتبہ ضرور اس اجتماع کو قریب سے دیکھے۔ مسلمانوں کے درمیان یہ اخوّت، یہ بھائی چارہ، یہ محبت، یہ فداکاری، یہ جانثاری، یہ رواداری اور یہ دینداری کسی بھی صورت میں استعماری طاقتوں کو نہیں بھاتی۔ خصوصاً یہی عراق کہ جو گزشتہ چند سالوں تک استعمار کی ایک کالونی تھا، اب اس میں مسلمانوں کی وحدت اور اتحاد نے استعمار کی نیندیں اڑا رکھی ہیں اور اب اسی عراق میں فرزندانِ اسلام کا یہ سالانہ عظیم الشّان اجتماع امریکہ و برطانیہ کیلئے سوہانِ روح بنا ہوا ہے۔

چنانچہ امسال اس اجتماع کے موقع پر مسلمانوں کو ہراساں اور بدظن کرنے کیلئے ذرائع ابلاغ خصوصاً بی بی سی لندن پیش پیش ہے۔ ایک تو لوگوں میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کی جا رہی ہے، تاکہ لوگ اس اجتماع میں شرکت کرنے کیلئے گھروں سے نہ نکلیں اور دوسرے اس اجتماع کے تقدس کو پامال کرنے کیلئے ایسی تحریریں اور ڈاکومنٹریز وائرل ہو رہی ہیں کہ جن سے عام لوگوں کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اس اجتماع میں جنسی بے راہروی اور خواتین کی خرید و فروش کا عمل انجام دیا جاتا ہے۔ مقصد صرف یہی ہے کہ مسلمان اس اجتماع میں شرکت نہ کریں، خواہ  وہ بدامنی اور جنگ سے ڈریں اور خواہ  وہ اس اجتماع کو غیر مقدس سمجھ کر اسے اہمیت نہ دیں۔ قابل ذکر ہے کہ راقم الحروف کو خود بھی اس اجتماع میں شریک ہونے کی سعادت نصیب ہوئی ہے، البتہ اس مرتبہ ویزہ نہ مل سکنے کے باعث شامل نہیں ہوسکا، ورنہ بی بی سی کا مکمل طور پر پول کھولنے میں مجھے بہت آسانی ہوتی۔ اس کے باوجود آئندہ قسط میں اربعین امام حسینؑ کے موقع پر استعماری ذرائع ابلاغ خصوصا بی بی سی کی کارستانیوں کے حوالے سے مزید کھل کر بات کی جائے گی۔

جاری ہے۔ ۔۔۔۔
 
خبر کا کوڈ : 820294
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب