0
Sunday 6 Oct 2019 11:38

افغانستان میں امن اور کشمیر میں جنگ

افغانستان میں امن اور کشمیر میں جنگ
اداریہ
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اس وقت جس موضوع پر سب سے زیادہ بات چیت ہونی چاہیے تھی، وہاں پاکستان کے خبری ذرائع کے مطابق افغانسستان کا مسئلہ سب سے زیادہ زیربحت ہے۔ کشمیر اور افغانستان میں موازنہ شاید درست اقدام نہ ہو، لیکن کشمیر میں 5 اگست کے مودی حکومت کے اقدام نے خطے کو ایسی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے تنگ آ کر ایٹمی جنگ کے اندیشوں کو اظہار کر دیا ہے۔ اگرچہ افغانستان کا امن بھی کئی ملکوں کی سلامتی و اقتصادی و سیاسی ترقی سے جڑا ہوا ہے اور سب سے زیادہ مسئلہ تو امریکہ کو ہے، جو اپنی شرائط پر مسئلہ افغانستان کا حل چاہتا ہے، دوسری طرف طالبان کے اندر مختلف لابیوں کے نمائندگان موجود ہیں، جو امریکہ کو اسکے مفادات آسانی سے پلیٹ میں رکھ کر نہیں دینا چاہتے۔ مذاکرات کے نو سے زیادہ دور مکمل ہو چکے ہیں اور اس وقت بھی طالبان کا اعلی سطی وفد پاکستان کے دورے پر تھا، جہاں افغانستان کے امور میں امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد بھی موجود تھے۔

پاکستان طالبان گروہ میں پہلے جیسا اثرونفوذ نہیں رکھتا، لیکن اب بھی اس مسئلے کا اہم کھلاڑی ہے، تاہم افغانستان کی اشرف غنی حکومت کا شدید دباؤ پاکستان کے لیے بہت سے مشکلات پیدا کر رہا ہے اور طالبان وفد کی عمران خان سے ملاقات میں سب سے بڑی رکاوٹ افغان حکومت ہے۔ امریکہ پورے زور و شور سے مذاکرات کو آگے بڑھا رہا تھا اور زلمے خلیل زاد اور طالبان کے درمیان مذاکرات حتمی نتیجے پر پہنچ گئے تھے، لیکن کیمپ ڈیوڈ کی خفیہ ملاقات سے پہلے طالبان وفد کا ایران کو اعتماد میں لینا اور بعض شرائط پر باہمی اختلافات اس بات کا باعث بنا کہ ٹرامپ نے کیمپ ڈیوڈ ملاقات کینسل کرکے طالبان کے خلاف سخت رویہ اپنانے کا اعلان کیا، البتہ باخبر ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ ملاقات طالبان نے منسوخ کی تھی، نہ کہ ڈونالڈ ٹرامپ نے۔ قصہ مختصر طالبان امریکہ مذاکرات ایک بار پھر کسی نتیجے کی طرف بڑھ رہے ہیں، لیکن اسلام آباد میں ایک سنجیدہ حلقہ اس بات کی دہائی دے رہا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کے ساتھ کشمیر کے مظلوموں کو بھی یاد رکھا جائے۔

اگر امریکہ پاکستان پر دباؤ ڈال کر افغانستان میں اپنی مرضی کا معاہدہ کرنا چاہتا ہے تو پاکستان کو بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ پر دباؤ بڑھانا چاہیے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ امریکہ کشمیر کے مسئلے میں وہی کچھ کرے گا، جو اس کا اسٹریٹیجک پارٹنر ہندوستان چاہے گا تاہم امریکہ کی حقیقت کو پاکستانی عوام پر آشکار ہونے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی ایسٹیبلشمنٹ جس امریکہ سے امیدیں لگائے بیٹھی ہے وہاں سے ملنا کچھ نہیں۔ کشمیرکے مظلوموں کو جو کچھ کرنا ہے اپنے بل بوتے پر کرنا ہے آزادی کی تحریکیں جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں کئی جانے والی تقریروں سے نہیں میدان عمل میں پروان چڑھتی ہیں۔ امریکہ اور اقوام تمحدہ نے اگر اس مسئلے کو حل کرنا ہوتا تو نوبت یہاں تک نہ آتی کہ گذشتہ دو ماہ سے وادی کشمیر کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 820414
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب