0
Sunday 6 Oct 2019 15:11

بغداد کے بلند ہوتے دھواں سے استعمار کا منہ کالا

بغداد کے بلند ہوتے دھواں سے استعمار کا منہ کالا
تحریر: ممتاز ملک

حالیہ عراقی شورش میں جہاں بے روزگاری اور کرپشن جیسے عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں، وہاں ہمیں سب سے بڑے عامل کو نہیں بھلانا چاہیے وہ ہے عراق سے امریکی اثرورسوخ کا ختم ہونا۔ یوں تو سب جانتے ہیں عراق کی تاریخ شورشوں کا مرکز رہی ہے، کبھی کربلا کا برپا ہونا تو کبھی 1258 میں ہلاکو خان کا دجلہ و فرات کے پانی کو خون سے سرخ کر دینا اور بغداد میں انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنا دینا، لیکن ان سب کے بعد جب عراق پر صدام حسین کی حکومت رہی تو اس وقت بھی ایک ظالمانہ اور گھٹن زدہ ماحول رہا۔ 11 فروری 1979 میں آنے والے ایران اسلامی میں انقلاب کو جب امریکہ اور اس کے حواری نہ روک سکے تو صدام حسین سے ایران پر حملہ کروایا گیا، گیارہ سالہ ایران عراق جنگ میں لاکھوں لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور معاشی طور پر دونوں ملک انتہائی کمزور ہو گئے۔ 

پھر کیا ہوا، اچانک صدام حسین کویت اور سعودی عرب پر حملہ آور ہوتا ہے اور امریکہ کو عراق پر کیمیائی ہتھیار کا الزام لگا کر اپنے اتحادیوں کے ساتھ حملہ کرتا ہے۔ صدام حسین کا خاتمہ ہونے کے بعد عراق کا اقتدار وہاں کی 74 فیصد شیعہ اکثریتی آبادی کے ہاتھ میں چلا گیا۔ اس طرح عراق ایران قربت بڑھنے لگی اور دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں ختم ہونے لگیں۔ امریکہ جو صدام سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بعد عراق کو پھر سے اپنے اشاروں پر چلانا چاہتا تھا، اسے اپنی حسرت پوری ہوتی نظر نہ آئی، کیونکہ امریکی حملے کے بعد عراق میں بننے والی وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت نے امریکی ایماء پر سو فیصد چلنے سے انکار کردیا، پھر عراق کے کردوں کو علیحدگی پر اکسایا گیا، لیکن نوری المالکی نے عراق کی صدارت کرد لیڈر جلال طلبانی کو دے کر اس سازش کا بھی گلہ گھونٹ دیا۔ 

ابھی جمہوری عمل ابتدائی دور میں ہی تھا کہ امریکہ اور مقتداءالصدر کی مہدی ملیشیا کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں، جس کا مرکز نجف اشرف اور کوفہ شہر تھا۔ اس میں امریکہ نے مہدی ملیشیا سے جنگ بندی میں ہی عافیت جانی اور اپنی فورسز کو بغداد تک محدود کر لیا، اسی دوران ایران اور عراق میں عوامی اور حکومتی سطح پر تعاون بڑھتا چلا گیا، جسے روکنے کیلئے چند ناعاقبت اندیش عرب ملکوں کے تعاون سے امریکی اشاروں پر بنائی جانے والی داعش کا سہارا لینے کی ناکام کوشش ہوئی۔ جسے مسلکی بنیادوں پر ہوا دے کر عراق اور پھر شام میں دہشت گردانہ کاروائیوں سے خوف کی فضا قائم گئی، ہر طرف مارو مارو جلا دو قتل کر دو کی سدائیں پورے عراق اور شام میں اٹھنے لگیں، آئمہ علیہم السلام اور اصحابِ کرام کے مزارات مقدسہ کو دھماکوں سے اڑایا جانے لگا۔ جس کی مثال سامرہ اور حضرت حجر بن عدی رضی اللہ تعالی عنہ کا مزار ہے۔

شام میں آثار قدیمہ کے مقامات پالمیرا کو شدید نقصان پہنچایا گیا، اس کے ساتھ ساتھ بی بی زینب سلام اللہ علیہا اور بی بی سکینہ بنت الحسینؑ کے روزہ پر بھی راکٹ داغے گئے۔ عراق اور ایران کے بابصیرت بزرگ مراجع عظام اور علماء کرام کی مشترکہ کوششوں سے شام اور عراق سے داعش کا خاتمہ ہوا اور تمام تر نجس عزائم کو خاک میں ملا دیا گیا، درمیان میں مقتدائ الصدر کو سعودی عرب کی طرف مائل کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی، جس کے اثرات دو سال پہلے بصرہ کے احتجاجی مظاہروں کی شکل میں سامنے آئے جس میں ایرانی کونسل خانہ بھی نذر آتش کر دیا گیا تھا۔ موجودہ احتجاج کی وجوہات کیا ہیں، عالمی حالات پر نظر رکھنے والے احباب بہتر سمجھتے ہیں کہ عراق میں امریکی اثرات ختم ہو رہے ہیں اقوام متحدہ میں عراق نے یمن کے معاملے پر غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے، ایران کے خلاف کوئی الفاظ نہیں کہے، بلکہ نیویارک میں ایرانی اور عراقی سربراہان کا دو طرفہ تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔ مقتدائ الصدر تین ماہ سے تہران میں موجود ہیں ایران، عراق، شام، لبنانی حزب اللہ اور فلسطینی تعاون سے داعش کا خاتمہ ہو گیا ہے یمن سعودی  جنگ کا پلڑا حوثیوں کی طرف بھاری ہوتا جا رہا ہے۔ 

یہ سب محرکات ہیں، جن کی بدولت ایران امریکی عزائم کو خاک میں ملا رہا ہے، اس لیے عراق کے حالات کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ اربعین امام حسین علیہ السلام کے عالمی اور پاکیزہ اجتماع کو ناکام بنایا جائے اور ایران عراق تعاون سے شام، لبنان، فلسطین، یمن، بحرین اور الجزائر کی مظلوم عوام کی حمایت کا راستہ روکنے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے وجود کیلئے پیدا ہونے والے سخت خطرات کو بھی کم کیا جا سکے، کیونکہ اب حزب اللہ لبنان کی طرف سے یہ بیانات جاری ہو رہے ہیں کہ پہلے اسرائیل حملہ کرتا تھا، ہم دفاع کرتے تھے اب ہم حملہ کی پوزیشن میں ہیں اور اسرائیل دفاعی پوزیشن میں چلا گیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 820468
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب