1
0
Monday 7 Oct 2019 15:02

اربعین کا عالمی اجتماع اور دشمن کے ناکام ہوتے حربے

اربعین کا عالمی اجتماع اور دشمن کے ناکام ہوتے حربے
تحریر: ارشاد حسین ناصر
 
اس وقت ساری دنیا کی نظریں جس پر جمی ہوئی ہیں وہ حضرت ابا عبد اللہ الحسینؑ کے اربعین کا عالمی اجتماع ہے، اس عالمی اجتماع کو دنیا کا سب سے بڑا مذہبی اجتماع ہونے کا اعزاز حاصل ہے، ایک وقت تھا جب دنیا کے بڑے مسلم اجتماع حج اور اس کے بعد تبلیغی جماعت کا سالانہ اجتماع تصور ہوتے تھے، اس وقت عراق میں شیعہ دشمن صدام کی حکومت تھی، جس نے یہاں کی اکثریتی آبادی کو یرغمال بنا لیا تھا اور ظلم و تشدد اور دہشت و وحشت کی ایسی داستانیں رقم کیں کہ جنہیں سن کے بھی رونگٹھے کھڑے ہو جاتے ہیں، صدام کی پارٹی بعث پارٹی تھی، جس نے اپنے اسلام دشمن اقدامات اور تشدد کی پالیسی سے یہاں کی اکثریت اہل تشیع کو اقلیت بنا کے رکھ دیا تھا اور ان کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا جاتا تھا، انہیں ملازمتوں اور اہم عہدوں سے دور رکھا جاتا تھا، اہل تشیع کی مرکزیت کو ختم کر دیا گیا، اور نجف اشرف کے حوزے کو برباد کرنے کی پوری کوشش کی گئی، بعث پارٹی کے تیس بتیس سالہ دور اقتدار میں لاکھوں اہل تشیع اور جن میں علمائے کرام، مراجعین اور عراق کے موثر قبائل و خاندان کے افراد کو یا تو قتل کیا گیا یا پھر انہیں ہجرت پر مجبور کر دیا گیا۔

سقوط صدام کے بعد ایک بار پھر اس قوم کی امیدیں بر آئیں اور یہ کھل کے عزاداری و پرسہ داری نیز خدمت زائرین کیلئے آمادہ نظر آئے، مشی کا سلسلہ جو عملی طور پہ رک گیا تھا پھر سے شروع ہوا، جب مشی شروع ہوئی اور دنیا بھر سے کروڑوں انسان امام حسینؑ اور خانوادہ محترم و انصاران و یاوران کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے سرزمین کربلا پہنچنا شروع ہوئے تو دنیا حیران و ششدر رہ گئی کہ ایک عرصہ تک تباہ حال و برباد قوم، جس کا بتیس سال تک مسلسل استحصال ہوا نے، زائرینِ امام ؑ کی میزبانی کا ایسا نمونہ پیش کیا کہ سب حیران و پریشان رہ گئے، اس عقیدت و میزبانی کے مناظر کو دیکھ کے۔ دنیا یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ اس نے اہل عراق کے دلوں سے امام حسینؑ کی محبت نکال دی ہے اور تباہ حال عراقی اپنی معیشت اور کاروبار و شغل کے مسائل میں الجھ کے اس تاریخی حقیقت کو بھلا بیٹھے ہونگے، مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ مائوں کے دودھ میں ملنے والی وراثت کی حفاظت نا ہو، بھلا کیسے ممکن تھا کہ مائوں کی گود میں امام حسینؑ اور ان کے انصاران کے دلیرانہ قصے سننے والی قوم انہیں بلا بیٹھے، لہذا سب نے دیکھا کہ جیسے ہی سکوت صدام ہواِ اگلا چہلم دنیا کا یادگار اجتماع بن گیا۔
 
تب سے ہی اس اجتماع پر عالمی سازش گروں نے نظریں جما لی تھیں اور اپنی سازشوں کا زور چلانے کیلئے سر توڑ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، یہ سازشیں ہمہ جہتی ہیں، جس میں انتہائی منفی پراپیگنڈہ بھی ایک ہتھیار کے طور پہ استعمال کیا جا رہاہے، دنیا کی توجہات، الہیٰ و عرفانی و معنوی معجزات سے ہٹانے کیلئے ایسی خبریں شائع کی جا رہی ہیں، جن کا سر ہے نا پائوں، اور ایسے موقعہ پر عراق میں مہنگائی اور کرپشن کے نام پر، پر تشدد تظاہرات، جن میں کئی ایک بے گناہ افراد جان سے گئے، ظاہر کرتا ہے کہ استعمار بالخصوص بنی صیہون و بنی سعود اس عالمی اجتماع سے سخت پریشان اور ہیجان میں ہیں، سوشل میڈیا پر سعودی اکائونٹس سے کی جانے والی ان پر تشدد مظاہروں کی پوسٹس اور ان کے ٹیلی ویژنز سے مسلسل کیا جانے والا پروپیگنڈا ظاہر کر رہا ہے کہ داعش، القائدہ، النصرہ اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی بد ترین شکست کے بعد خطے میں اس طرح کے مصنوعی بحران  پیدا کر کے ان مقاصد کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، جو ان دہشت گرد گروہوں کی مسلح دہشت گردانہ کاروائیوں سے حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

ملت عراق نے جس طرح یکجہتی و اتحاد کے کی طاقت سے پہلے دشمن کو ناکام کیا ہے، ایسے ہی اب بھی اپنے باہمی اتحاد، یکجہتی اور اپنی قیادت یعنی مرجعیت کے احکامات و بصیرت پر عمل پیرا ہو کے دشمن کو ذلیل و رسوا کرے گی، بالخصوص فرزندان کربلا، عاشقان امام حسینؑ، اپنے مہمانان زائرین کربلا و نجف و سامرہ و کاظمین کیساتھ کسی ناروا رویہ اور نا شائستہ سلوک کی سازش کو ناکام و نامراد بنائیں گی۔ اس لیئے کہ ایسی سازشوں کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے کہ بعض ایسے گروہوں کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں جن کو مختلف زبانوں پر عبور حاصل ہے، ان کا کام ہی یہ بتایا جا رہا ہے کہ اپنی اس مہارت کے ذریعے زائرین میں تقسیم ایجاد کریں اور ایسے رویئے سے پیش آئیں کہ لسانی یا پھر علاقائی تقسیم پیدا کر کے، خلیج کو بڑھاوا دیا جائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ طول تاریخ میں جن کا نام مٹانے کی سازشیں کی گئیں ان کا نام زندہ ہے اور ہر سال پہلے سے بھی زیادہ پر جوش انداز میں ان کا نام لیا جا تا ہے۔

ان ہستیوں کا عشق چودہ صدیاں گذر جانے کے باوجود بڑھ رہا ہے، دنیا ان کے در پہ ادب سے سر جھکائے نظر آتی ہے اور ان کیساتھ اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کرتی ہے، جس کا ایک مظاہرہ یہ اربعین کا عالمی اجتماع ہے، اس اجتماع کی بہت سی خصوصیات ہیں، جن کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں، جن کے اثرات عالمی ہیں، اور یہی اثرات ہیں جن کی وجہ سے اسلام حقیقی کے دشمن اس کو ناکام اور خراب کرنا چاہتے ہیں، اس کے خلاف منفی اور بے سر و پا باتیں کر رہے ہیں، شائد یہ بھول گئے ہیں کہ ہم نے یہ سفر ایک دن میں طے نہیں کیا، ہم چودہ صدیوں کی مسافت رکھتے ہیں، ان چودہ صدیوں کی مسافت میں بے شمار مصائب و آلام ہیں، ان چودہ صدیوں میں غم اور دکھ کی ان گنت کہانیاں ہیں، ان چودہ صدیوں میں المناک اور غم انگیز درد ہیں، جن کا بیان کرنا ممکن نہیں، ان چودہ صدیوں میں ایثار و قربانی کے ایسے مناظر ہیں جن کی تصویریں دلوں پر نقش ہیں، جو ان مٹ ہیں، ان چودہ صدیوں میں شہادتوں کی ایسی داستانیں ہیں کہ تاریخ کے اوراق پلٹتے رہیں کسی اور کے حصہ میں نہیں ملتیں۔

کوئی بھی ان داستانوں کو مٹانے اور ان کے نقوش کو تاریخ کے اوراق سے ہٹانے کی جر ات نہیں کر سکتا، ہاں باطل کے پروردہ ہر دور میں اپنے تئیں اس کام پر لگے رہے، مگر حق پرستوں نے اپنے اجداد کا ورثہ محفوظ رکھا ہے اور اگلی نسلوں تک بخوبی منتقل کیا جا رہا ہے، کوئی کسی بھی بہروپ میں آئے اسے کامیابی نہیں ملے گی، اپنا ہو یا پرایا حق کے پرچم کو سر نگوں نہیں کیا جا سکتا، حق نے بالآخر غلبہ حاصل کرنا ہے، یہ قرآنی نوید ہے، اللہ کا وعدہ ہے، مستضعفین کو تج و تخت ملنا ہے، اور مطلوم بنا دیئے گئے حاکم بنائے جائیں گے، عدل الہیٰ کا قیام اور انصاف کی حکومت کا پرچم بلند ہو گا، یہ عالمی اجتماع اور خطے میں طاغوتی و استعماری طاقتوں کی شکستوں کا تسلسل اس امامؑ غائب کی آمد کی علامات  میں سے ہیں، ہم ان کا ستقبال اس شکل میں کریں گے کہ مظلوموں کے ہاتھوں میں ظالموں کیلئے تازیانہ  تیار ہوگا، ایسا تازیانہ جیسے ایک مظلوم و پابرہنہ یمنی بچے نے نجران میں بیسیوں سعودی فوجیوں کو قیدی بنائے ہوئے ان پر برسایا ہے، ایسے تازیانے اس وعدہ الہٰی کی سچائی کا اظہار ہیں۔

ہم تو سوچتے تھے کہ آخر کب ایسے مناظر ہم دیکھ سکیں گے، مگر اللہ کا شکر کہ اس نے یہ قرآنی وعدہ ہمیں آج کے دور میں ہی دکھا دیا ہے۔ آخر میں گذارش ہے کہ اپنے احساسات کی ترجمانی کرتے ہوئے، آپ سے بھی یہی چاہوں گا کہ جب منزل کربلا ہے تو سمجھ لیں کرب بھی ہوگا اور بلا بھی۔۔۔لہذا زیارت کی راہ میں آنے والی مشکلات و مسائل و مصائب کو خندہ پیشانی سے قبول فرمائیں، ہاں افواہوں پہ کان نا دھریں، دشمن کی ہمہ جہت سازش ہے کہ اربعین کے عالمی و تاریخی اجتماع میں خلل آئے اور لوگوں کو خوف، ڈر، تخریب، اور منفی پراپیگنڈہ سے اس روحانی و الہی سفر عشق و معرفت سے دور کرے۔ دشمن ہر حربہ استعمال کر رہا ہے، یہ اس کے خوف کی علامت ہے، زائرین محترم دشمن کے ان ہتھکنڈوں کو امام زمانہ عج کے ظہور کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنا سمجھیں۔ اور دوران زیارت اپنے وقت کے امامؑ کو زیادہ سے زیادہ یاد کریں۔ انشا اللہ آخری فتح مظلوموں کی ہو گی۔
خبر کا کوڈ : 820603
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

محمد یوسف
Iran, Islamic Republic of
ماشاءاللہ بہت ہی مفید تجزیئے تھے۔