0
Tuesday 8 Oct 2019 10:36

وزیراعظم عمران خان کا دورہ چین اور مولانا فضل الرحمٰن کا دھرنہ

وزیراعظم عمران خان کا دورہ چین اور مولانا فضل الرحمٰن کا دھرنہ
اداریہ

پاکستان کے وزیراعظم دو روزہ دورہ پر چین پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ ایک اعلٰی سطحی وفد بھی ہے، جس میں کئی محکموں کے وزراء بھی شامل ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اکثر ممالک میں صدر اور وزیراعظم پہلے دورے پر جاتے ہیں اور بقیہ ماتحت اداروں کے سربراہ صدر یا وزیراعظم کے کئے گئے سمجھوتوں یا معاہدوں پر عمل درآمد کے لئے اس ملک کے دورے پر جاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں دو ملکوں کے درمیان سمجھوتے اور معاہدے سیاسی و جمہوری قیادت انجام دیتی ہے اور عسکری یا دوسرے ادارے ان سمجھوتوں پر عمل درآمد اور ان کے نفاذ کے لیے متعلقہ ملک کے حکام سے ملاقاتیں اور بات چیت کرتے ہیں۔ پاکستان چین تعلقات کی نوعیت اس حوالے سے بالکل برعکس ہے۔ یہاں پر پاکستان کا آرمی چیف سمجھوتوں، معاہدوں اور ان کی نفاذ کی ضمانت کے لئے پہلے جاتا ہے اور صدر، وزیراعظم اور وزراء آرمی چیف کے فیصلوں پر عمل درآمد اور اس کے نفاذ کی دیگر تفصیلات طے کرنے کے لئے بعد میں جاتے ہیں۔

پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک کے نام پر ایک بڑا اقتصادی منصوبہ چل رہا ہے اور کئی ارب ڈالرز پر مشتمل اس اقتصادی کوریڈور کو گیم چینجر کا نام دیا جا رہا ہے۔ اقتصادی بحران کے شکار پاکستان کو سی پیک سے بہت زیاہ امیدیں ہیں، دوسری طرف چین امریکہ کی تجارتی کشیدگی اور خطے میں غلبہ اور اثرورسوخ کی جنگ نے پاکستان کے لئے ایک بڑی مشکل کھڑی کر دی ہے۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری اشرافیہ ماضی کی طرح امریکہ سے اپنے بندھن کو کمزور نہیں کرنا چاہتی، دوسری طرف چین امریکہ کی بےجا مداخلت پر کسی طرح کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ پاکستان کی سیاسی اشرافیہ اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ چین اسکا ماضی، حال اور مستقبل کا بہترین ساتھِی ہے، لیکن تمام تر بے وفائیوں کے باوجود امریکہ کا عشق دل سے نکلنے کا نام نہیں لے رہا۔ خطے میں نئی صف بندی ہو چکی ہے، چین روس اور ایران تقریبا ایک صفحے پر نظر آ رہے ہیں، لیکن اس درمیان پاکستان فیصلہ کن پوزیشن اختیار کرنے سے گریزاں ہے۔

پاکستان کے آرمی چیف بار بار چین جا کر چینی قیادت کو ضمانت دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ سیاسی قیادت آرمی کی اجازت کے بغیر کوئی بڑا قدم نہیں اٹھا سکتی، لیکن چین زبانی کلامی ضمانت پر مطمن نظر نہیں آ رہا۔ پاکستان کے وزیراعظم کا حالیہ دورہ چین بڑے حساس ایام میں انجام پاپا رہا ہے۔ پاکستان میں اقتصادی بحران اور عمران خان کی ٹیم کی ناقص کارکردگی نے دوستوں اور حامیوں کو ان سے مایوس کر دیا ہے۔ اوپر سے کشمیر کی صورتحال نے پاکستانی حکومت کو سخت دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے، ایسے میں ایک مذہبی گروہ اور دیوبندی مکتب کی نمائندہ جماعت عمران حکومت کو ختم کرنے کے لئے میدان عمل میں داخل ہو چکی ہے۔ یہاں یہ سوال جواب طلب ہے کہ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ماضی مین میاں نواز شریف کے دور حکومت میں جب چینی صدر اسلام آباد آ رہے تھے تو عمران خان نے اسلام آباد میں دھرنا دیا ہوا تھا اور آج جب عمران خان چین کے دورے پر جا رہے ہیں تو مولانا فضل الرحمٰن نے اسلام آباد کی طرف آزادی مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔ 
خبر کا کوڈ : 820728
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے