1
Wednesday 9 Oct 2019 20:00
عصرِ خامنہ ای کے استقامت کے میناروں کے نام

پاکستان کے سرحدی شہر میں ایک اسیر کیلئے حضرت زہراؑ کی سفارش ریاستی اہلکاروں کیلئے کافی نہیں!

کربلا کے راہی نہ کسی میدان میں اکیلے ہیں نہ کسی زندان میں
پاکستان کے سرحدی شہر میں ایک اسیر کیلئے حضرت زہراؑ کی سفارش ریاستی اہلکاروں کیلئے کافی نہیں!
تحریر: اے مرتجز رند

ایک شیعہ کو اس سے بڑھ کر کیا چاہیے کہ اس دنیا میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اسکی سفارش کریں، پوری دنیا بھی اس کے قدموں میں سمیٹ کے رکھ دیں تو ٹھکرا دے۔ ان لوگوں کیلئے کتنی بڑی خوش نصیبی ہے جو ان اسیروں اور گھر والوں کیلئے بساط بھر کوشش میں مصروف ہیں، کس قدر بی بیؑ کی عنایات انکے شامل حال ہونگی، اسے مادی عالم کے دامن نہیں سمویا جا سکتا۔ شیعہ لاپتہ افراد کے اخلاق، کردار اور پاکیزہ زندگی پہ انکے خاندان، دوست احباب اور جان پہچان رکھنے والے سبھی گواہ ہیں، لیکن صراط مسقتم کے راہیوں کی صداقت کی گواہی کل کائنات کی افضل ترین ہستیاں بھی دی رہی ہیں۔ یہ عشق و محب اہلبتؑ کی لازوال داستان، تا ابد ہر متلاشی کو راستے کا نور فراہم کرتی رہیگی۔ اربعین کے موقع پر زیارت کا شرف حاصل کرنیوالے ایسروں کو بھی یاد رکھیں اور جو لوگ انکی رہائی کیلئے کوشاں ہیں انکے لیے دعاء کریں۔

ہم محرم اور صفر امام حسین علیہ السلام اور انکے اصحاب باوفا کی لازوال قربانی سے منسوب ہیں، صفر بی بی زینب سلام اللہ علیہھا کی بہادری، صبر و استقامت کی یاد دلاتا ہے۔ واقعہ کربلا دلخراش اور اندوہناک مظالم کی داستان ہے۔ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد چالیس سال تک خانوادہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آپؑ کے جگر گوشوں کی قبریں بنانے کی اجازت نہیں دی گئی، امام سجاد علیہ السلام چالیس سال تک غم و حزن کی حالت میں خون روتے رہے، امام محمد باقر علیہ السلام متعمد اصحاب کو زادِ راہ دیکر مسلمانوں کے درمیان واقعہ کربلا سے متعلق حقائق بیان کرنے کیلئے بھیجتے رہے، بنی امیہ نے ان تاریخ کے سیاہ ترین واقعات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔ زیارت امام حسین علیہ السلام سے روکنے کیلئے شیعوں کے ہاتھ پاؤں کاٹے جاتے رہے، کربلا معلیٰ کو کھیت بنا کر پانی سے سیراب کر دیا گیا۔ ناروا تمہتیں، الزامات، سزائیں، بربریت اور ظلم و ستم امام حسین علیہ السلام کے پاکیزہ لہو کی تاثیر کو ماند کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ روئے زمین پر عرش بریں سے متصل یہ ٹکڑا کربلا آج بھی تابندہ ہے۔

اسکی تابناکی نے سیاہ دلوں اور کور چشموں کو چندھیا دیا ہے، اللہ نے تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت اور دین حق کی سربلندی کا جو وعدہ فرمایا ہے، اسکی ضمانت خون حسین علیہ السلام ہے، جس سے تا ابد اللہ کا نام اور دین اسلام سچی صورت میں باقی رہیگا، اس کی اصلی منزل وہ بے قرار قلوب ہیں، جہاں مودت اہلبیتؑ اور محبت امام حسین علیہ السلام جاگزیں ہے۔ اب جب زمانہ کئی کروٹیں لے چکا، خون اور آگ کا دریا عبور کر اس محبت کی شدت اور حدت اوج پہ پہنچ رہی ہے، اسکو جلا بحشنے کیلئے حسنیوں کا امتحان جاری ہے، اللہ کی توفیق سے ان اہل دل نے بنت رسول سلام اللہ علیہا کی اولاد سے کبھی بے وفائی نہیں کی۔ یہ محبت اور مودت کس قدر گرانبہا ہے، جس کے بغیر اللہ تعالیٰ نے کوئی نیکی قبول فرمانے سے انکار کیا ہے، محبت کے بغیر اطاعت ممکن ہی نہیں، اسی لیے حالتِ نماز گریہ کرتے ہیں، زیارت پڑھتے ہیں، حاضری دیتے ہیں، بطن مادر سے ہی اہلبیتؑ کا ذکر اور یا علیؑ کے نعروں کا ورد سکھاتے ہیں۔ جس طرح پورے کرہ ارض پہ کربلا معلیٰ سے قیمتی کوئی جگہ نہیں، اسی طرح امام حسین علیہ السلام سے محبت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔

سچی محب کی یہ چنگاری جسقدر شعلہ ور ہوتی ہے، سختیوں اور تلخیوں کے ذریعے اسے زیادہ ایندھن دیا جاتا ہے، خدا کا قرب نصیب ہوتا ہے، شیطان کی چیخیں بلند ہوتی ہیں، پوری دنیا کے شیاطین سر جوڑ کے بیٹھتے ہیں، اولاد زہرا سلام اللہ علیہا کا ذکر سن کر شعب ابی طالبؑ، معاشی پابندیوں، بچوں کے قتل، قید و بند اور آل رسولؑ کے پروانوں کو غیب کرنیکی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں۔ حق کو باطل سے ملانے کے سارے حربے استعمال ہوتے ہیں، بی بی خدیجہؑ سلام اللہ علیہا سے لیکر باغ فدک تک ہر طرح کی معیشت اور دین مبین کی سرفرازی کے لیے طیب و طاہر اموال کے استعمال پہ قدغن لگایا جاتا ہے، لیکن جذبے ماند نہیں پڑتے، نہ آل رسولؑ شیعوں کو بے سہارا چھوڑتے ہیں، جس طرح کربلا میں شہداء کے سرہانے اور بنی امیہ کے قید خانوں میں بی بی فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علہیا اور مولاؑ علی علیہ السلام کے پہنچ جانے کی روایات حقیقت ہیں، اسی طرح اس وقت کے زندانوں میں اسیر سادات و غیر سادات محبان اہلبیتؑ کی، ان ہستیوں کی طرف سے احوال پرسی، عقوبت خانوں میں شفقت و مہربانی کے اظہار کے واقعات، یقین میں اضافے کا سبب ہیں۔

بس ان کے یقین اور ایمان میں مزید اضافے کیلئے نہ صرف تاریخ کی مثالیں موجود ہیں، بلکہ پاکستان کے سرحدی شہر میں پس دیوار زندان زنجیروں میں جکڑے اور کوڑے کھاتے اسیر کو بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے ذریعے تسلی، اس بات کی گواہ ہے کہ محبت حسینؑ میں زخم کھانے والوں کو تاریخ میں کیوں روکا نہیں جا سکا، کیسے ان اسیروں پہ مظالم ڈاھنے والے مامورین کو بنتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بیٹے پہ ظلم کیوں کر رہے ہو، میں تمہارے رسولؑ کی بیٹی ہوں، اور کسیے اس مامور نے اسیر کی زنجیریں کھولیں اور ادب و احترام کیساتھ پیش آیا، ولایت اور استمداد کوئی خیال نہیں، یہ جلوہ الہیٰ اور اہل ایمان کے لیے عظیم بشارت ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی خاطر دنیا کو خیر آباد کہنے والے نہ کسی میدان میں اکیلے ہیں نہ کسی زندان میں، اللہ تبارک تعالیٰ کی عنایات اور دست غیب ان پہ ہمیشہ سایہ فگن ہے۔ عزم جواں ہیں، دکھ مصیبت اور اپنے پیاروں کا جرم معلوم ہے، لیکن حجرِ یوسف میں غمِ یعقوب کی طرح جگر درد سے چھلنی ہیں۔ سالوں سے سرزمین وطن عزیز پہ گھروں سے غائب کر دیئے گئے شیعان علیؑ کے خاندان، بچے، والدین اور انکی ازواج، ناقابل بیان کرب میں مبتلا ہیں۔

شدت غم اور حالات کی سختی کے باوجود کسی نے مملکت خداداد یا کسی ریاستی ادارے کیخلاف لب کشائی نہیں کی، نہ ہی کسی ایسے اقدام کا حصہ بنے ہیں، ملکی قوانین کے مطابق ریلیف چاہتے ہیں۔ دین مبین کی ہدایات واضح ہیں کہ کیسے انصاف کیا جائے، شریعت کے احکام میں کوئی ابہام نہیں، انسانی اقدار بھی موجود ہیں، ریاست کے ذمہ داروں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے یہ موقع دیا گیا ہے کہ دنیا میں غفلت سے بیدار ہوں اور آخرت کی فکر کریں، عدل و انصاف کا ہاتھ سے نہ جانیں دیں۔ امام حسین علیہ السلام کے پیروکاروں کو بھی ایسی بشارت دی جا رہی ہے، جیسے آپؑ نے شب عاشور اپنے اصحاب کو دی تھی، بس اصحاب امام حسین علیہ السلام کی طرح نواسہ رسولؑ کے عشق میں بار بار کٹنے کی تمنا زندہ رکھیں۔ اللہ کے ہاں اسکا اجر بھی ہے اور مظلوم کیلئے سربلندی کی نوید بھی، ایک شیعہ کو اس سے بڑھ کر کیا چاہیے کہ اس دنیا میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اسکی سفارش کریں، پوری دنیا بھی اس کے قدموں میں سمیٹ کے رکھ دیں تو ٹھکرا دے۔ ان لوگوں کیلئے کتنی بڑی خوش نصیبی ہے جو ان اسیروں اور گھر والوں کیلئے بساط بھر کوشش میں مصروف ہیں، کس قدر بی بیؑ کی عنایات انکے شامل حال ہونگی، اسے مادی عالم کے دامن نہیں سمویا جا سکتا۔
خبر کا کوڈ : 820822
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے