1
Tuesday 8 Oct 2019 23:14

اپنے کرد اتحادیوں کی پشت میں امریکہ کا خنجر

اپنے کرد اتحادیوں کی پشت میں امریکہ کا خنجر
تحریر: آزادہ سادات عطار

اتوار 6 اکتوبر کی رات امریکہ نے شمال مشرقی شام سے اپنی مسلح افواج کے انخلاء کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ترکی کی جانب سے اس علاقے میں ممکنہ فوجی آپریشن میں حصہ نہیں لے گا۔ اگلے دن امریکی فوجیوں نے اس علاقے سے نکلنا شروع کر دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے درمیان ٹیلیفونک بات چیت کے بعد وائٹ ہاوس نے ایک بیانیہ جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ترکی عنقریب شام کے شمالی علاقوں میں فوجی آپریشن شروع کرے گا جس کی منصوبہ بندی کئی سال پہلے انجام پا چکی ہے اور واشنگٹن اس آپریشن میں نہ تو ترکی کی حمایت کرے گا اور نہ ہی اس میں شریک ہو گا۔ اس بیانئے میں شام کے کرد باشندوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔ یاد رہے شام کے کرد رہنما امریکہ کے قریبی اتحادی تصور کئے جاتے ہیں۔ بیانئے میں صرف اس حد تک کہا گیا ہے کہ امریکہ علاقے میں اپنے اتحادیوں کے بارے میں پریشان ہے۔ اسی طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں شام کے شمالی علاقوں سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کے آغاز کی خبر دی ہے۔
 
ڈونلڈ ٹرمپ نے کردوں کے بارے میں لکھا: "وہ گذشتہ کئی عشروں سے ترکی کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ میں نے اس ٹکراو کو تین سال تک ٹالے رکھا۔ لیکن اب نہ ختم ہونے والی احمقانہ جنگوں سے باہر نکلنے کا وقت آ گیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر جنگیں قبائلی نوعیت کی ہیں اور اب اپنے فوجیوں کو وطن واپس بلانے کا وقت آ گیا ہے۔" دوسری طرف امریکہ کے ایک اعلی سطحی عہدیدار نے پیر کے دن رویٹرز نیوز ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن شام کے کرد رہنماوں پر واضح کر چکا ہے کہ ترکی کی جانب سے شمالی شام میں فوجی آپریشن کی صورت میں امریکہ ان کی حفاظت نہیں کر سکتا۔ اس نے کہا کہ امریکی فوجی شام اور ترکی کی سرحد پر واقع تل ابیض اور راس العین میں واقع دو چیک پوسٹیں بھی خالی کر چکا ہے۔ ترکی نے ہفتہ 5 اکتوبر سے شام کی سرحد پر فوج تعینات کرنا شروع کر دی ہے۔ ترک حکام نے اعلان کیا ہے کہ وہ شام کے شمالی علاقے میں ایک سیف زون قائم کرنا چاہتے ہیں۔
 
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے پیر کے دن کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں بتایا ہے کہ شام کے شمالی علاقے سے امریکی فوجیوں کا انخلاء شروع ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا: "ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ کبھی بھی حتی آدھی رات کے وقت شام کے شمال میں فوجی آپریشن شروع کر سکتے ہیں۔" اس سے پہلے رجب طیب اردگان نے اعلان کیا تھا کہ ترکی دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں زمینی اور ہوائی آپریشن انجام دے گا۔ ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوگلو نے پیر کے دن اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا: "شام میں بدامنی کے آغاز سے ہی ہم نے شام کی ملکی سالمیت کی حمایت کی ہے اور ایسا کرتے رہیں گے۔ ہم نے خطے کو دہشت گرد عناصر سے پاک کر کے اپنے ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کا پختہ عزم کر رکھا ہے۔" شام کے کرد رہنماوں نے بھی شمالی علاقوں سے امریکہ کے فوجی انخلاء کی تصدیق کی ہے اور امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ان سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے۔ سیرین ڈیموکریٹک فورس نامی کرد گروہ نے اپنے بیانئے میں کہا ہے: "امریکہ نے ہم سے کئے گئے وعدوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے پسماندگی اختیار کی ہے اور ترکی کا آپریشن داعش کے خلاف ہماری جنگ پر انتہائی منفی اثرات ڈالے گا۔"
 
ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے پیر کے دن اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا کہ امریکہ شام میں ایک فضول جارح قوت ہے۔ انہوں نے لکھا کہ خطے میں سکیورٹی بحال کرنے میں امریکہ پر تکیہ کرنا ایک بے فائدہ عمل ہے۔ انہوں نے مزید لکھا: "شام میں قیام امن اور دہشت گردی کا خاتمہ صرف اور صرف اس کی ملکی سالمیت اور عوام کے احترام کے ذریعے ممکن ہے۔ ایران ترکی اور شام میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔" مشرق وسطی کے امور کے ماہر اور تجزیہ کار ہادی محمدی کا کہنا ہے کہ شام میں فوجی مداخلت ترکی کو ایک بڑے سکیورٹی بحران کا شکار کر دے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے نتیجے میں بدامنی اور جنگ ترکی کے اندر چلی جائے گی اور عین ممکن ہے عراق کی کرد ملیشیائیں بھی ترکی کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ترکی کی جانب سے شام کے شمالی علاقوں پر قبضہ غیرقانونی ہے۔ امریکہ شام اور خطے کے دیگر ممالک سے ترکی کے تعلقات بگاڑنا چاہتا ہے۔ امریکہ شام کے شمال میں واقع محدود علاقوں سے نکلے گا جبکہ دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں اپنے فوجی باقی رکھے گا۔
 
خبر کا کوڈ : 820922
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے