0
Thursday 10 Oct 2019 09:42

مولانا کا دھرنا۔۔۔۔ عوام سب جانتے ہیں

مولانا کا دھرنا۔۔۔۔ عوام سب جانتے ہیں
تحریر: تصور حسین شہزاد

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایک سال کے انتظار کے بعد حکومت کیخلاف احتجاج کا اعلان کر ہی دیا ہے۔ مولانا نے موجودہ حکومت کو روزِ اول سے ہی تسلیم نہیں کیا تھا، تاہم وہ حکومت مخالف تحریک کیلئے دیگر اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ ملا کر مضبوط تحریک چلانے کا پلان رکھتے تھے۔ اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کے متعدد اجلاس بھی منعقد ہوئے، اے پی سیز کروائی گئیں، مگر تمام جماعتیں کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کا کسی فیصلے پر نہ پہنچنے کا سبب اس اتحاد میں مذہبی فیکٹر کا شامل ہونا ہے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں جیسے پیپلز پارٹی اور نون لیگ کو مذہبی جماعتوں جے یو آئی اور جے یو پی جیسی جماعتوں پر مکمل اعتماد نہیں۔ سیاسی قائدین سمجھتے ہیں کہ مذہبی قائدین کہیں بھی ’’ٹریپ‘‘ ہو سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی سمجھدار سیاستدان مذہبی سیاستدانوں پر اعتماد نہیں کرتا۔

پاکستانی سیاست کے ڈھنگ بھی نرالے ہیں۔ یہاں سیاست برائے خدمت نہیں، بلکہ سیاست برائے ذاتی مفاد ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر پارٹی یہاں خاندانی پارٹی ہے۔ مسلم لیگ (ن) نواز شریف کی ہے، مسلم لیگ (ف)، مسلم لیگ (ق) اور مسلم لیگ (ض) وغیرہ وغیرہ، اسی طرح جے یو آئی (ف)، جے یو آئی (س)، جے یو آئی فلاں وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح دیگر جماعتیں بھی خاندانوں کے گرد گھومتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں پر خاندانی اجارہ داری کے باعث ہی سیاسی میدان میں اعتماد کا فقدان پایا جانا ہے۔ جہاں تک مذہبی سیاسی جماعتوں کا تعلق ہے، جیسے جماعت اسلامی، جے یو آئی (ف)، جے یو آئی (س) جے یو پی، تحریک جعفریہ (اسلامی تحریک)، جمیعت اہلحدیث دیگر جماعتیں، تو یہ مذہبی جماعتیں ہمیشہ استعمال ہوتی رہی ہیں۔ زیرک قسم کے سیاستدان جسے نواز شریف اور زرداری، نے ہمیشہ انہیں اپنے مفاد کیلئے استعمال کیا ہے۔

گذشتہ الیکشن 2018ء میں مذہبی کارڈ مسلم لیگ (ن) نے کھیلا، اور متحدہ مجلس عمل کا پلیٹ فارم بنایا گیا، جس میں مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں 5 جماعتی اتحاد بنا، مگر اندر کھاتے انہی جماعتوں نے (ن) لیگ سے ڈیل کر لی اور الیکشن میں اپنے امیدواروں کی بجائے نون لیگ کے امیدواروں کو ووٹ دیئے۔ اس میں جمعیت اہلحدیث، جے یو پی اور جے یو آئی نے واضح طور پر (ن) لیگ قیادت سے ملاقاتیں کیں اور ان کی حمایت کا اعلان کیا۔ تحریک جعفریہ نے بھی جامعہ المنتظر کے علماء کے ذریعے نون لیگ کی قیادت سے معاملات طے کئے۔ جامعہ المنتظر میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں احمد حسان نے علماء سے ملاقات کی۔ جامعہ پہنچنے پر لیگی رہنماوں کا شاندار استقبال کیا گیا۔ گلپاشی کی گئی اور انہیں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا گیا۔ پاکستان میں مذہبی سیاسی جماعتوں کا ہمیشہ دوہرا معیار رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب عوام ان پر زیادہ اعتماد نہیں کرتے۔

یہ مذہبی جماعتیں صرف الیکشن کے قریب ہی فعال ہوتی ہیں، کبھی متحدہ مجلس عمل بن جاتی ہے، تو کبھی  ملی یکجہتی کونسل کا پلیٹ فارم فعال ہو جاتا ہے۔ الیکشن میں کسی بڑی سیاسی جماعت کیساتھ ڈیل کرتے ہیں اور ’’فوائد‘‘ لیکر اگلے الیکشنوں تک لمبی تان کر سو جاتے ہیں۔ عوام کی جانب سے مذہبی جماعتوں پر عدم اعتماد کی وجہ ان قائدین کا یہی رویہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو حکومت مخالف تحریک چلانے کیلئے ایک سال کا عرصہ لگ گیا۔ اب بھی پیپلز پارٹی نے ابھی تک صرف مولانا کی اعلان کی حد تک حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ نون لیگ اس معاملے  میں تقسیم ہو چکی ہے۔ نواز شریف کہتے ہیں مولانا کا ساتھ دینا چاہیئے کیونکہ مولانا نے عام انتخابات میں نون لیگ کی حمایت کی تھی جبکہ میاں شہباز شریف نے دھرنے میں شامل نہ ہونے کا مشورہ دیا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شرکت کرنے کے بجائے ہمیں اپنے احتجاج کا پروگرام بنانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے اور احتجاج کا کریڈٹ مولانا فضل الرحمان کو ہی جائے گا، لہٰذا ہمیں اس میں شرکت نہیں کرنی چاہیے۔ اس احتجاج سے مولانا قد بڑا ہوگا جبکہ ہم پیچھے رہ جائیں گے۔

شہباز شریف اس وقت پارٹی میں فعال ہیں، نواز شریف جیل میں ہونے کے باعث پارٹی میں موثر آواز نہیں، البتہ ہر کام کیلئے ان سے مشورہ ضرور لیا جاتا ہے، مگر کی اپنی مرضی جاتی ہے۔ اسی لئے کہا جا سکتا ہے کہ شہباز شریف کا بیانیہ ہی تسلیم کیا جائے گا۔ نون لیگ ویسے بھی نواز شریف کے جیل میں ہونے سے بکھری بکھری سے لگ رہی ہے۔ کچھ قائدین اب بھی مریم نواز سے ہدایات لیتے ہیں جو شہباز شریف کو بہت بُرا لگتا ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی نے دھرنے کی بس اعلانیہ حمایت کا اعلان کیا ہے۔ بلاول بھٹو کہتے ہیں ہم فضل الرحمان کے مارچ کی حمایت کرتے ہیں البتہ یہ مشکل ہے کہ میں خود اس دھرنے میں کوئی کردار ادا کروں۔ یعنی بلاول نے بھی نون لیگ والی پالیسی اپنائی کہ دعوے کرتے رہو ’’قدم بڑھاو مولانا، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘ مگر بیٹھے گھر ہی رہو۔ اگر دھرنا ناکام ہو گیا تو کہہ سکیں گے ہم کون سا اس میں شامل تھے، یہ تو مولانا کا ذاتی فیصلہ تھا اور اگر کامیاب ہو گیا تو کہیں گے یہ ہماری حمایت سے کامیاب ہوا ہے، ہم نے دھرنے کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا تھا۔ یہ سیاسی جماعتوں کا کردار ہے۔

پاکستان کی سیاسی جماعتیں انتہائی سمجھداری سے کھیلتی ہیں، جس کا ادراک ہمارے مذہبی قائدین نہیں کر سکتے اور ہر بار استعمال ہو جاتے ہیں۔ حالیہ ’’آزادی مارچ‘‘ اور دھرنا بھی اس طرز پر ہی ہو رہا ہے اور لگ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان استعمال ہو رہے ہیں۔ مولانا کو اتنی صفائی سے استعمال کیا جا رہا ہے کہ مولانا اور ان کے حواری خوش ہیں کہ یہ احتجاج ان کا اپنا ہے مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ اس احتجاج کیلئے ڈوریاں کہیں اور سے ہلائی جا رہی ہیں۔ مولانا کیساتھ محمود اچکزئی ہیں، اسفند یار ولی اور منظور پشتین ہیں۔ اسفند یار ولی کی پارٹی کے پاس صرف ایک سیٹ ہے۔ خود مولانا بھی ہارے ہوئے ہیں۔ مولانا کے مخالفین کہتے ہیں کہ یہ دھرنا محض کرسی کیلئے ہے، کیونکہ مولانا کو اس بار اقتدار سے حصہ نہیں ملا۔ مخالفین کہتے ہیں اگر مولانا کو دین اور ملک کا درد ہوتا تو انہوں نے اس وقت دھرنا کیوں  نہ دیا جب 180 طلبہ کو ڈرون حملے میں مار دیا گیا تھا۔ ناموس رسالت بل میں جب نواز شریف ترمیم کر رہا تھا، اس وقت مولانا خواب خرگوش کے مزے کیوں لے رہے تھے؟ مولانا اس وقت کہاں تھے جب ملک کا ارپوں روپیہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہا تھا۔ مولانا کو احتجاج کی ضرورت صرف اس وقت کیوں پڑی جب وہ اپنے نشست ہار گئے اور ان سے بنگلہ نمبر 22 خالی کروا لیا گیا۔

بہرحال زمینی حقائق یہ ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کا دھرنا صرف اور صرف ان کے ذاتی مفاد کیلئے ہے اور عوام اب سمجھدار ہوگئے ہیں۔ وہ سب جانتے ہیں۔ اب انہیں بیوقوف بنانا آسان نہیں۔ کشمیر میں کرفیو کو 68 دن گزر چکے ہیں، مگر مولانا نے بھارت کیخلاف کوئی بیان نہیں دیا، جب کشمیر کمیٹی کے سربراہ تھے تو سوائے مراعات لینے کے کچھ نہیں کیا گیا جبکہ انڈیا کے علمائے دیوبند، جن کے جلسے میں ہر سال مولانا تشریف لے جاتے ہیں، انہوں نے انڈیا کی حمایت کا اعلان کیا اور کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیا۔ ظاہر ہے، مولانا اپنے مرکز (دیوبند) سے کیسے الگ ہو سکتے ہیں۔ اس لئے عوام سب جانتے ہیں، یہ درد عوام کا درد نہیں، یہ درد کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کا بھی نہیں، بلکہ یہ درد صرف کرسی نہ ملنے کا درد ہے۔ اور اب عوام اس درد کیلئے ’’ڈسپرین‘‘ نہیں بنیں گے۔ سوچ، حالات اور نظریات تبدیل ہو چکے ہیں۔ عوام باشعور ہو چکے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 821151
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے