0
Thursday 10 Oct 2019 17:17

اب کردوں سے بھی امریکہ ہاتھ کر گیا

اب کردوں سے بھی امریکہ ہاتھ کر گیا
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

پیشمرگہ شام میں کردوں کی مسلح تنظیم ہے۔ عام طور پر کرد سیکولر ہوتے ہیں۔ عراق، شام اور ترکی میں یہ علیحدہ ملک کے لیے کوشاں ہیں اور انہیں استعمار کی حمایت حاصل ہے۔ عراقی کرد ریجن کا پورا ریاستی ڈھانچہ ہے۔ وہ کچھ مخصوص معاملات میں عراقی ریاست کے تابع ہیں۔ شام میں مقامی ایجنٹوں کی ناکامی کے بعد امریکہ خود شام میں پہنچ گیا، جہاں اس نے بڑے پیمانے پر پیشمرگہ فورسز کو تربیت دی۔ ہزاروں کرد سپاہیوں نے بڑے پیمانے پر جنگی تربیت حاصل کی، اس میں خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی تھی۔ پیشمرگہ فورسز شامی فوج کے لیے بڑا چیلنج بن کر ابھریں، ساتھ میں انہوں نے داعش اور النصرہ سمیت کچھ ایسے گروہوں کے خلاف بھی کاروائیاں کیں، جو خود کردوں یا امریکی مفادات کے لیے خطرہ تھے۔ امریکہ نے پیشمرگہ کو استعمال کیا اور اسے یقین دہانیاں کرائیں کہ امریکہ شامی افواج اور ترکی سے انہیں تحفظ دے گا۔ پیشمرگاہ فورسز بھی بڑی بے جگری سے لڑیں اور امریکہ کے کہنے پر ہزاروں جنگجووں کا قتل کیا اور ہزاروں کو پکڑنے میں کامیاب ہو گئیں، جن کی حفاظتی حراست کی ذمہ داری اب یہی فورسز نبھا رہی ہیں۔

اصل میں امریکہ پر اعتماد ہی ان کا سب سے کمزور پہلو تھا، شام کے حکومتی حلقوں نے بارہا کوشش کی کہ ان کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو جائے، یہ حکومت کو تسلیم کر لیں۔ مگر امریکی دم پر سوار ہو کر آسمان تک پرواز کرتے پیشمرگہ فورسز کے لیڈر کچھ زیادہ ہی خود اعتماد ہو گئے۔ ترکی کے صدر نے کچھ عرصہ پہلے اعلان کیا کہ ترکی شام کے اندر بیس کلومیٹر کے علاقے پر ایک زون بنائے گا، جہاں ان لاکھوں شامی مہاجرین کو بسایا جائے گا، جنہوں نے ترکی میں پناہ لی ہے۔ اس کا مطلب پیشمرگہ سے براہ راست جنگ تھا۔ اس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سیخ پا ہو گئے اور ٹویٹ کی کہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی سختی سے بیان کیا ہے، اب اسی کا اعادہ کرتا ہوں، اگر ترکی کچھ بھی ایسا کرتا ہے تو میری سوچ کے مطابق وہ تجاوز ہو گا اور اس کے نتیجے میں ترکی کی معیشت کو مکمل طور پر تباہ اور ختم کردوں گا۔ اس دھمکی کیوجہ سے ترکی وقتی طور پر رک گیا اور پیشمرگہ کو مزید یقین ہو گیا کہ اب امریکہ ہمیں چھوڑ کر نہیں جائے گا۔ اس دوران امریکی صدر اور اردگان کے درمیان ڈیل ہو گئی، جس کے نتیجے میں علاقے میں موجود پچاس امریکی فوجی علاقے سے نکل گئے اور ترکی نے جنگی طیاروں اور ہیوی مشین گنز کے ذریعے بمباری شروع کر دی۔

اب باقاعدہ ترک افواج اور پیشمرگہ میں جنگ ہو رہی ہے، جس میں ترکی سول آبادی اور جنگجووں کی پوزیشنز پر بمباری کر رہا ہے۔ اس سے پیشمرگاہ اور کردوں کا بڑا نقصان ہو رہا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ترکی نے ایسا کیوں کیا؟ جب پیشمرگہ کی طرف سے ان پر کوئی حملہ نہیں ہو رہا تھا، تو انہوں نے ان پر کیوں حملہ کیا؟ یہ بہت ہی بنیادی سوال ہے۔ ماہرین اسے ترکی کے تحفظ کے طویل منصوبے کی حیثیت سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ترکی نے اتنی فراخدالی سے شامیوں کو قبول ہی اپنے تحفظ کے لیے کیا تھا۔ ترکی ان پچیس لاکھ سے زیادہ مہاجرین کو شام اور اپنے درمیان موجود بارڈر پر مستقل آباد کرنا چاہتا ہے۔ ان کی آباد کاری سے ترکی کو کیا فائدہ ہو گا؟ اسکا جواب یہ ہے کہ ترکی کو یہ فائدہ ہو گا کہ ایران سے چلنے والی کرد پٹی جو عراق سے شام میں داخل ہوتی ہے اور شام سے ترکی میں چلی جاتی ہے، اس پورے ریجن میں کرد ہی کرد ہیں۔ ترکی اپنے بارڈر پر بیس کلومیٹر میں ان عربی بولنے والے مہاجرین کو آباد کر دے گا، اس کے کئی فائدے ہیں، سب سے پہلے تو اس کے نتیجے میں ترکی تین ملین مہاجرین کو ترکی سے نکالنے میں کامیاب ہو جائے گا، کیونکہ اگر وہ زور زبردستی کرے، تو اس کے مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ کتنی بڑی کامیابی ہے یہ کوئی حکومت پاکستان سے پوچھے کہ افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کے لیے اسے کن مسائل کا سامنا ہے؟ شدید خواہش کے باوجود ہر سال انہیں مزید ایک سال کے لیے قبولنا پڑتا ہے۔ دوسرا ترکی اور شامی کردوں کے درمیان سرحد پر بیس کلومیٹر کی عرب پٹی معرض وجود میں آ جائے گی۔ یہ پٹی ترکی کی دفاعی لائن ہو گی، جو شامی کردوں اور ترک کردوں کے درمیان موجود رابطہ توڑ دے گی۔ اس سے ترکی ان کردوں کو مزید اچھی طرح قابو کر لے گا، جنہیں قابو کرنے کے لیے اسے کافی مسائل کا سامنا ہے۔ مجھے امید تھی کہ ہمارے دوست جو شامی افواج کی داعش اور النصرہ کے خلاف کاروائیوں پر انسانیت پر حملوں کا شور مچاتے تھے، پروپیگنڈے میں اسرائیلی بمباری سے متاثرہ فلسطینیوں کی تصاویر ثواب سمجھ کر شامی افواج کے مظالم کے عنوان سے شئر کرتے تھے، وہ اب بھی شام کے مظلوم عوام کے حق میں آواز بلند کریں گے۔ مگر افسوس کہ کل سے ہر سو قبرستان والی خاموشی ہے، کوئی ردعمل نہیں ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ فرقہ ورانہ ذہن رکھنے والوں کو شام کے مظلوموں سے کوئی ہمدردی نہیں تھی، فقط مسلک مختلف ہونے کی وجہ سے مخالفین پر تنقید کی جا رہی تھی۔

ایک بات بڑی اہم ہے جسے ہمارے دوستوں کو سمجھنا ہو گا، خطے کے مسائل کو شیعہ سنی کے درمیان خدارا تقسیم نہ کریں۔ اسلام دشمن یہی چاہتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے سے لڑتے رہیں، ہماری سوچ کنویں کے مینڈک والی رہے۔ جب ہم مشرق وسطی کے مسائل کو مسلمانوں کے مفادات کے پیش نظر دیکھیں گے تو صورتحال مختلف نظر آئے گی۔ ویسے  پیشمرگہ نے جانے کیوں امریکہ پر اعتماد کر لیا؟۔ ٹرمپ نے بڑے طریقے سے حسب سابقہ یو ٹرن لیا، پہلے علاقے میں فوجی موجودگی کم کی، یہاں تک کہ فقط پچاس فوجی رہ گئے۔ حملے سے پہلے ترکی سے معاہدہ کیا کہ قبضے کے بعد داعش وغیرہ کے قیدیوں کا وہ انتظام سنبھالے گا اور ساتھ  ہی پچاس فوجیوں کو اس علاقے سے واپس بلا لیا، جس کے ساتھ ہی ترکی کا بے رحمانہ حملہ شروع ہو گیا۔ اس حملے میں عام شہریوں اور پیشمرگہ کے اکثریتی علاقوں پر بمباری کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں کرد بڑی تعداد میں علاقہ چھوڑ رہے ہیں۔

ترکی یہی چاہتا ہے کہ لوگ علاقہ چھوڑ جائیں اور ہم عربوں کو آباد کر دیں۔ امریکہ نے ہمیشہ اپنے اتحادیوں کو دھوکہ دیا، وہ اس وقت تک علاقے میں موجود ہوتا اور حمایت کرتا ہے، جب تک اس کا اپنا مفاد ہوتا ہے، جیسے ہی اس کا اپنا مفاد نکلتا ہے وہ فورا اپنا سرمایہ اور اپنے وسائل کی فراہمی روک دیتا ہے۔ افغان جنگ کے بعد پاکستان کے ساتھ یہی کیا، روس کو شکست ہو گئی، اب یہاں امریکہ کا کوئی مفاد نہ تھا، اس لیے وہ فورا بستر گول کر گئے اور ہم بیری والا گھر دیکھتے رہے۔ سعودی عرب سے اربوں ڈالر اس کی حفاظت کے نام پر لیے اور حوثیوں نے سعودیوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، مگر کہیں امریکہ نظر نہیں آیا۔ اب پیشمرگاہ کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے۔ ہم کب تک چیخ پکار کریں گے کہ امریکہ قابل اعتبار نہیں ہے، وہ صرف اپنے مفاد کے لیے کام کرتا ہے اور جانے کب تک ہمارے مسلمان بھائیوں کو اس کی سمجھ آئے گی، معلوم نہیں۔
خبر کا کوڈ : 821286
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے