1
1
Friday 11 Oct 2019 13:22

ایران کا موجودہ نظام اور تھیوکریسی، ایک تحقیق، ایک تجزیہ (1)

ایران کا موجودہ نظام اور تھیوکریسی، ایک تحقیق، ایک تجزیہ (1)
تحریر: سید امتیاز علی رضوی
 
تھیوکریسی کی اصطلاح اصل میں یونانی علمی اصطلاح ہے۔ یونانی زبان میں Theo کا مطلب خدا  ہے، اور Logy علم کو کہا جاتا ہے، Cracy کے معنی ہیں حاکمیت۔ لہذا Theology کا لغوی مطلب ہو گا علم الہیات جبکہ Theoracyکا لغوی معنی ہے “خدا کی حاکمیت”۔
 
تھوکریسی کے لغوی معنی سے جس سیاسی نظام کا خاکہ ابھرتا ہے وہ خالق کائنات کے احکام کا اجراء ہے، جو مذہبی معاشروں کے لئے قابل قبول ہے بلکہ مطلوب بھی ہے، کیونکہ مذاہب کی بنیادی تعلیمات میں اس فانی دنیا کے خالق و مالک کی حاکمیت کو قبول کیا گیا ہے اور اس اصل و اصول کو تسلیم کیا گیا ہے کہ جہاں بھی حکومت قائم ہو وہ خداکے احکام کی پابندی کرے۔ لیکن جب اس بنیادی تصور کو عملی جامہ پہنانے کی بات آتی ہے، تو اس میں ایک مشکل پیدا ہو جاتی ہے کہ خدا کے ان احکام کا تعین کون کرے گا؟۔ یہودی دنیا میں ان کے مذہبی پیشواؤں کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ مختلف معاملات میں خدا کی مرضی معلوم کر کے قانون سازی کریں۔ اگرچہ اہل یہود یہ سمجھتے تھے کہ خدا سپریم ہے اور اس کے جو احکامات حضرت موسی علیہ السلام کے ذریعے آئے ہیں وہی مملکت کا قانون ہوں گے، لیکن وہ قوانین کیا ہیں یہ اختیار ایک مخصوص مذہبی طبقہ کو حاصل تھا جو احبار اور رھبان کے ٹائیٹل یا لقب سے پہچانے جاتے تھے اور ان کی بات ہی خدا کی بات سمجھی جاتی تھی۔ گویا وہ خدا کا متبادل قرار دے دئے گئے تھے۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں اس کی طرف اشارہ ہے: اتَّخَذُوا أَحْبارَهُمْ وَرُهْبانَهُمْ أَرْباباً مِنْ دُونِ اللَّهِ [ التوبة/ 31] انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے احبار اور رھبانوں کو خدا بنا لیا ہے۔ 
 
اس اختیار کے ساتھ یہودی مذہبی پیشوا جو چاہتے "خدا کی مرضی" کے طور پر متعارف کروا دیتے اور ہر ایک کو اس کی اطاعت حکم خدا سمجھ کرکرنا ہوتی۔ یوں یہودی دنیا میں ان کے مذہبی پیشوا خدائی قوت کا مرکز بن گئے۔ یہودی دنیا میں یہ بھی ہوا ہے کہ بعض مذہبی پیشواؤں کو حکمرانوں نے اپنی ساتھ ملایا اور ان کا یہ اختیار اپنی طرف منتقل کروا لیا۔ یعنی بادشاہ کی طرف سے یہ دعوی کیا گیا کہ فلاں پیشوا کو یہ الہام ہو گیا ہے کہ خدا کی مرضی معلوم کرنے کا اختیار اب بادشاہ کے حوالے کر دیا جائے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات طے ہو گئی کہ اب بادشاہ جو کہے گا، وہ خدائی قانون ہے۔ اس کے علاوہ کچھ اور نظریات بھی بنائے گئے جیسے یہ کہ بادشاہ کی تخلیق جنت میں ہوتی ہے، لہذا یہ جنتی مخلوق ہے، خدا جس کو بادشاہ بناتا ہے، وہ خدا سے اپنا یہ اختیار لے کر دنیا میں آتا ہے لہذا وہ سب کے لئے واجب الاطاعت ہے، بالفرض اگر وہ ظلم بھی کر رہا ہے تو بھی تمام رعایا کو چاہئے کہ وہ اس ظلم اور جبر کو برداشت کریں اور اس کے خلاف بغاوت نہ کریں، کیونکہ وہ یہ سب خدا کی مرضی کے مطابق کر رہا ہے۔ لہذا اہل یہود کے یہاں تھیوکریسی خدا کی حکمرانی سے بدل کر مذہبی پیشواوں کی مطلق العنانی یا ایسے بادشاہوں کی حکمرانی سے تعبیر کی جانے لگی، جنہیں خدا کا نمائندہ سمجھا جاتا تھا۔

ایسا ہی کچھ حال عیسائی دنیا کا بھی تھا۔ رومن کیتھولک عیسائی دنیا میں چرچ کا سربراہ جو پوپ کہلاتا ہے، اسے یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ خدا کے احکام کا تعین کرے، چنانچہ اگر عیسائی دنیا میں تھیوکرسی کا نظام رائج ہو تو جس بات کو بھی پوپ خدا کا حکم قرار دیدے، حکومت کا سربراہ اسی پر حکم خدا سمجھ کرعمل کرنے پر مجبور ہے، اس طرح رومن کیتھولک عیسائیت میں تھیوکریسی کا عملی نتیجہ یہ ہوا کہ پوپ کی بات کو مانا جائے، لہذا خدا کی حاکمیت کے لغوی معنی کو چھوڑ کر عیسائی دنیا میں بھی تھیوکریسی مذہبی پیشواؤں کی حاکمیت کے معنی میں استعمال ہوتی ہے اور آج کل دنیا میں رہنے والے تھیوکریسی کو اسی نئے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ اب تھیوکریسی کا ترجمہ ’’مذہبی پیشواؤں کی حاکمیت‘‘ سے کیا جاتا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کی تعریف کے مطابق: Theocracy is government by divine guidance or by officials who are regarded as divinely guided.“تھیوکریسی ایک ایسی حکومت ہے، جس کو آسمانی راہنمائی حاصل ہو یا یہ ایسے کارپردازوں کی حکومت ہو جنہیں یہ سمجھا جاتا ہو کہ انہیں آسمانی راہنمائی حاصل ہے۔”
 
روم کی عیسائی تھیوکریٹک حکومتوں کا نظام کچھ ایسا رہا ہے کہ حکمران تو بادشاہ ہی ہوا کرتا تھا، لیکن وہ پوپ کے مذہبی احکام کا پابند تھا۔ یوں اکثر بادشاہ اور پوپ کے درمیان بکثرت اختلافات رہتے تھے اور چونکہ پوپ کو بلاشرکت غیرے مذہب کے احکام متعین کرنے کا مکمل اختیار حاصل تھا اور اس پر کوئی روک ٹوک بھی نہیں تھی، اس لئے پوپ  اپنے اختیارات کا غلط استعمال بھی کیا کرتا تھا۔ ایسے لوگوں نے بڑی بے رحمانہ پالیسیاں اپنائیں جن کی وجہ سے پوری انسانیت کو جبر و تشدد کی گھٹی ہوئی فضا میں صدیاں گزارنا پڑیں۔ جب کلیسا یا چرچ کا لفظ بولا جاتا ہے، تو اس سے مراد کوئی گرجا گھر نہیں ہوتا، بلکہ کلیسا ایک مکمل مذہبی ادارہ ہے، جو پوپ اور اس کے زیر دست پادریوں پر مشتمل ایک مکمل نظام ہے۔ جہاں ماضی میں یہودی تھیوکریٹک حکومتوں میں عوامی رائے کی کوئی اہمیت نہ تھی، وہاں کلیسا کے تحت تھیوکریسی چلانے والے مذہبی راہنماؤں نے بھی کبھی عوام کی رائے کو اہمیت نہیں دی، کیونکہ وہ عوامی نمائندے نہیں ہوا کرتے تھے بلکہ پوپ کے نامزد کردہ ہوتے تھے۔
 
یہ اہل یہود اور کلیساء کے مذہبی راہنما حکومتی اُمور میں بھی کسی الہامی شریعت کے وضع کردہ قوانین کے پابند نہیں تھے، کیونکہ ان کے پاس پوری جامعیت کے ساتھ ایسے قوانین موجود ہی نہ تھے۔ اگرچہ اہل یہود کے پاس کچھ شرعی قوانین ضرور موجود ہیں، جو تلمود اور چند دیگر کتابوں میں احبار اور رھبانوں کی سیرت سے اخذ کردہ ہیں، لیکن کلیسا کے پاس حضرت عیسیٰ کی چند اخلاقی تعلیمات کے سوا کوئی شریعت سرے سے ہے ہی نہیں، بلکہ کلیسا نے تو اہل یہود کے شرعی قوانین کو بھی منسوخ کر کے ایک آزاد اور غیر پابند مذہب کی بنیاد ڈالی تھی۔ اہل یہود کے پاس جو ہے وہ اپنے مذہبی راہنماؤں کی قدیم باتوں کے علاوہ کچھ نہیں۔ لہذا اسرائیل جیسی کٹر یہودی حکومت میں بھی اہل یہود کی شریعت کے نفاذ کی کوئی بات نہیں کی جاتی۔ دوسری طرف کلیسا کے پاس باقاعدہ شریعت یا شرعی قوانین و احکام کا کیونکہ کوئی ایسا ضابطہ نہیں ہے، جسے دستورِ مملکت بنایا جاسکے۔ خلاصہ یہ کہ اہل یہود اور کلیسا کی مذہبی تھیوکریٹک حکومتوں میں ہوتا یہ تھا کہ وہاں کے مذہبی راہنماء اپنی مرضی سے اپنی خواہشات نفس کے مطابق قوانین بناتے تھے اور انہیں یہ کہہ کر نافذ کرتے تھے کہ یہ خدا کی طرف سے ہیں۔
 
اہل یہود اور کلیساء کا قانونِ شریعت کسی وحی و الہام سے ماخوذ نہ تھا، بلکہ خود ان کا اپنا گھڑا ہوا تھا۔ انہوں نے جو نظام عقائد، جو مذہبی اعمال و رسوم، جو معاشرتی ضوابط وغیرہ تجویز کیے تھے ان میں سے کسی کی سند بھی ان کے پاس الہامی کتاب سے نہ تھی۔ تھیوکریسی کے نام پر اہل یہود اور نظام کلیساء کے کارپردازوں کے لیے جو حقوق اور اختیارات تجویز کیے گئے تھے اور جو مذہبی ٹیکس عوام پر لگائے تھے، ان کا بھی کوئی ماخذ ان کے پاس موجود نہ تھا۔ ایسا نظام تھیوکریسی کے نام سے مشہور ہوگیا، جس میں خدا کے قوانین کے بجائے مذہب کے منصب داروں اور پیشواوں کی خواہشات اور ضروریات کا دخل تھا اور جس میں ان کی ذاتی ترجیحات اور ہوائے  نفس شامل تھی۔ ان مذہبی پیشواؤں نے خدا اور بندے کے درمیان مذہبی منصب داروں کے  ایک خود ساختہ مستقل واسطے کو لازمی قرار دیدیا تھا جو احبار، ربیوں اور کلیسا کے ایک مضبوط ادارے کی شکل میں آج بھی موجود ہے، البتہ آج کی نسلیں اس قسم کے واسطوں کو “رانگ نمبر” کی جدید اصطلاح کے ذریعے مسترد کر چکی ہیں اور ان ہی میں سے پروٹسٹنٹ عیسائی وجود میں آئے ہیں، جنہوں نے پاپائیت کے نظام کو مسترد کر کے دین و سیاست کی جدائی کا سیکولر نظریہ پیش کیا ہے۔ 

اس طرح گذشتہ کل کی عیسائی دنیا آج یا تو لامذہب ہو چکی ہے یا پھر سیکولر جو دین کو ہر ایک کا ذاتی معاملہ سمجھتے ہیں۔ آج کی عیسائی دنیا میں تھیوکریٹک حکومت صرف اٹلی کے شہر روم کے آدھا کلومیٹر مربع پر مشتمل قصبے ویٹکن سٹی تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، جبکہ اہل یہود کی تھیوکریٹک حکومت تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھانے کا داغ لئے آج تاریخ کے اوراق ہی میں ملتی ہے۔ اور جیسا بیان ہوا کہ اسرائیل میں بھی حکومتی امور میں تلمود اور دیگر یہودی مذہبی احکام کو دخل دینے کی اجازت نہیں ہے۔ انسان چونکہ خلاف فطرت ہر عمل کو رد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لہذا کلیساء کے تھیوکریسی کے نام پر کئے جانے والے غیر فطری اقدامات کے پیشِ نظر مغربی عوام کے درمیان مذہب کے خلاف ایک بغاوت پیدا ہوئی، جس نے حکومت سے مذہب کی علیحدگی کے تصور کو تقویت دی اور سیکولر نظام حکومت کا تصور معرض وجود میں آیا اور یوں تھیوکریسی کا لفظ ایک گالی بن کر رہ گیا، کیونکہ اس لفظ کو سنتے ہی عوام  کے ذہن میں مذہبی پیشوائیت اپنی ان تمام خرابیوں کے ساتھ  ابھر کر سامنے آتی ہے جو اہل یہود نے بالعموم اور کلیساء کے ادارے نے پیدا کی تھیں۔ 
 
چونکہ تھیوکریسی کا لفظ اب اپنے لغوی معنی (خدا کی حکومت) سے ہٹ کر ایک خاص اصطلاحی معنی (مذہبی پیشواؤں کی مطلق العنان حکومت) میں استعمال ہونے لگا ہے، لہذا اس لفظ کی حرمت اب نہ صرف ختم ہو گئی ہے، بلکہ یہ لفظ بہت بدنام ہوگیا ہے اور  صرف اور صرف منفی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
 
اس لئے ہمارے مسلمان معاشرے میں بھی لوگ بکثرت یہ کہنے لگے ہیں کہ اسلام تھیوکریسی کا حامی نہیں ہے اور تھیوکریسی اسلام کے خلاف ہے، لیکن یہ کہتے ہوئے لوگ تھیوکریسی کے اصل تصور اور عیسائی اور یہودی دنیا کے اس کے عملی اطلاق کے درمیان فرق نہیں کرتے، چنانچہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں اسلامی حکومت قائم ہونی چاہئے، یا علماء سیاست میں حصہ لیتے ہیں تو تجدد پسند حلقوں کی طرف سے جھٹ یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ ملک میں Theocracy قائم کرنا چاہتے ہیں اور ہم پاکستان میں Theocracy قائم نہیں ہونے دیں گے۔ لیکن Theocracy کا مطلب کوئی سمجھاتا نہیں، نہ اعتراض کرنے والا اور نہ جواب دینے والا، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کے محاسن اور معائب سے باخبر ہوئے بغیر ایک نعرے کے طور پر یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے کہ اسلام میں تھیوکریسی نہیں ہے۔ 
 
میری رائے اور سمجھ کے مطابق مسلم دنیا کے علماء اور متجددین کا یہ اختلاف ایک لفظی نزاع سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا، کیونکہ اگر مسلم دنیا کے یہ اہل فکر اسلام کو ایک جامع اور کامل دین سمجھتے ہیں تو قرآن و سنت کی شکل میں موجود اسلام کے زندہ ذرائع استنباط حکم الہی کی موجودگی میں حکم خدا کو جاننے میں کیا مشکل ہے، خصوصا اس وقت جب اسلام نے ہر قسم کی پاپائیت کو رد کیا ہے اور اسے شرک سے تعبیر کیا ہے اور کسی بھی طرح کسی مخصوص مذہبی طبقے کو کوئی خاص امتیاز نہیں دیا ہے۔ لہذا تھیوکریسی بعنوان مذہبی طبقے کی مطلق العنان حکومت، مسلم دنیا کے لئے بھی ناقابل قبول ہے، جبکہ تھیوکریسی بعنوان احکام خدا کا نفاذ  ایک مستحسن بات ہے، خصوصاً جب آپ کا دعویٰ ہو کہ آپ کے پاس مکمل نظام موجود ہے۔ 
 
حقیقت یہ ہے کہ Theocracy اپنے لغوی اور اپنے اصل تصور کے لحاظ سے بالکل درست ہے کہ اس کائنات میں حاکمیت کا حق درحقیقت اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے، اور انسان جو بھی حکومت قائم کرے اسے اللہ تعالیٰ کے احکام کے تابع ہونا چاہئے، لیکن اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب بشمول عیسائیت، یہودیت اور ہندو مذہب میں چونکہ اس تصور کو ٹھیک ٹھیک نافذ کرنے کا کوئی راستہ نہیں تھا، اس لئے انہوں نے اسے بگاڑ کر مذہبی پیشواؤں کی حاکمیت میں تبدیل کردیا، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج جب تھیوکریسی کا نام لیا جاتا ہے تو اس سے کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا مفہوم نہیں سمجھتا، بلکہ اسے مذہبی پیشواؤں کی حاکمیت ہی سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ سیاست کی اردو کتابوں میں بھی اس کا ترجمہ مذہبی پیشوائیت کے نام سے کیا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بجائے مذہبی پیشواؤں کو حاکمیت کا درجہ دیدینا وہ بدترین شرک ہے، جس کی مذمت قرآن کریم نے بھی کی ہے۔ لہذا ہم بھی اس مضمون میں آئندہ تھیوکریسی کو اس کے رائج منفی معنی ہی میں استعمال کریں گے۔
 
یہ واضح ہے کہ اسلام عیسائیت کی طرح محض اخلاقی تعلیمات کا مجموعہ نہیں ہے، یہ زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی عطا کرتا ہے۔ ریاستی اُمور چلانے کے لئے اسلام کا اپنا ضابطہ حیات ہے۔ اسلام میں کلیسا کی طرح کوئی “Hierarchy” نہیں ہے، جس میں پوپ، کا رڈینل، چیف بشپ، پادری یا فادر پر مبنی درجہ بہ درجہ کلیسائی نظم ہو۔ اسلام نے حکمرانی کا حق کسی مخصوص طبقہ کو تفویض نہیں کیا، جو خدائی مشن کا نام لے کر اقتدار پر قابض ہوجائے اور اپنی من مانی کرتا پھرے۔ اسلام میں مطلوبہ صلاحیت رکھنے والے ہر شخص کو حکمران بننے کا حق ہے، چاہے اس کا کسی بھی نسل یا قبیلہ سے تعلق ہو۔ قریش کی حکمرانی کا تصور بھی ایک پیش گوئی کی حیثیت رکھتا ہے نہ کہ قابلیت کا معیار۔

جاری ہے۔۔۔۔
 
خبر کا کوڈ : 821398
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Pakistan
exelant article