0
Saturday 12 Oct 2019 10:13

ایران کا موجودہ نظام اور تھیوکریسی، ایک تحقیق، ایک تجزیہ (2)

ایران کا موجودہ نظام اور تھیوکریسی، ایک تحقیق، ایک تجزیہ (2)
تحریر: سید امتیاز علی رضوی

گذشتہ سے پیوستہ
مسلمانوں میں بالعموم ختم نبوت کے بعد اور اہل تشیع میں زمانہ غیبت امام مہدیؑ میں جو شخص بھی حکمراں بنایا جاتا ہے، اس کی اصلی حیثیت ایک نائب ہی کی سی ہوتی ہے اور وہ تنقید سے بالاتر نہیں ہوتا۔ قانون کی نگاہ میں اس کی حیثیت عام شہریوں کے برابر ہوتی ہے، اس کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا جاسکتا ہے اور وہ عدالت میں کسی امتیازی برتاؤ کا مستحق نہیں ہوتا۔ اسے مشورہ کے ساتھ کام کرنا ہوتا ہے۔
 
اہل مغرب کے تعصب کا حال یہ ہے کہ جب وہ کسی بھی موضوع سے متعلق مختلف نظریات کی تاریخ بیان کرتے ہیں، تو ان میں اسلامی تعلیمات یا مسلمان مفکرین کی خدمات کا کوئی ذکر نہیں کرتے۔ سیاسی نظریات کی تاریخ میں بھی یہی ہوا ہے کہ وہ سیاسی نظریات کی تاریخ ارسطو اور افلاطون سے شروع کرتے ہیں اور پھر عیسائی دور پر پہنچنے کے بعد کئی صدیوں کی چھلانگ لگا کر وولٹائر، مونتیسکو اور روسو پر پہنچ جاتے ہیں اور اس بات کا کوئی ذکر تک نہیں کرتے کہ درمیان میں ایک طویل عرصہ اسلامی حکومتوں کا گزرا ہے، جس میں سیاست کا ایک مختلف تصور پیش کیا گیا ہے۔ چنانچہ خدائی اصل کا نظریہ بیان کرتے ہوئے اس کے تحت صرف اس تھیوکریسی کی باتیں بیان کی جاتی ہیں جو یہودیوں، عیسائیوں یا ہندؤں کی تھیوکریسی سے متعلق ہیں، لیکن اس بات کا کہیں ذکر و فکر نہیں ہے کہ اسلام میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو کس طرح سیاست کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ اگر صرف مورخانہ دیانت ہی پر عمل کرلیا جاتا تو کم از کم ایک نظریہ کے طور پر تو یہ بات ذکر کی جاتی کہ اسلام کا تصور سیاست کیا ہے اور اس کے تحت کس قسم کی حکومتیں قائم ہوئی ہیں؟ اور  حاکموں اور حزب مخالف کے درمیان کن باتوں پر اختلاف نظر ہوتا تھا۔

خصوصاً امام حسین علیہ السلام کا یزید کی حکومت پر اصل اعتراض کیا تھا؟ اگر اسلام کی رو سے حاکم خدا کا نمائندہ تھا تو پھر یہ قیام نواسہؑ رسولؑ نے کیوں کیا؟۔ چونکہ عالم اسلام اپنے مذہب کو مکمل اور جامع سمجھتا ہے اور اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اس دین کے پاس اللہ کی ہدایت کردہ تعلیمات کا مجموعہ موجود ہے، جو اصل میں انسانیت کی نجات کا ہی پروگرام ہے، لہذا اسلامی ممالک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے کئی تحریکیں اٹھیں، جن کی تعداد کم نہیں ہے۔ چونکہ ان کی اکثریت ناکامی کا شکار رہی ہے، لہذا اس سے یہ تاثر اُبھرا ہے کہ اسلامی نظام کی تشکیل عملی طور پر ممکن نہیں۔ پھر صرف مذہبی رہنماؤں کا ان تحریکوں کی قیادت کرنا اور اس میں شدت پسندی کے رجحان کو داخل کرنا، پھر ان افراد کا انتشار اور نفرت انگیزی اور مزاجوں میں سختی نے اس تاثر کو اور بھی تقویت دی ہے کہ اسلامی نظام بھی قابل نفاذ نہیں ہے۔ اس تناظر میں اسلامی نظام کے نفاذ کے نعرے کو تھیوکریسی کی ہی ایک شکل سمجھا جانے لگا ہے۔ یعنی اس نظام کا نفاذ، ملاؤں کی من پسند اور سخت گیر حکومت، جیسے حالیہ دنوں میں افغانستان میں طالبان اور عراق و شام کے کچھ علاقوں میں داعش کی سخت گیر حکومتیں۔ 
 
امام خمینیؒ کی قیادت میں 1979ء میں دنیائے اسلام کا پہلا عوامی و اسلامی انقلاب ایران میں رونما ہوا۔ جس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ کا سب سے طاقتور شاہی نظام حکومت زمین بوس ہوگیا اور جمہوری اسلامی کے نام سے ایک نئی حکومت معرض وجود میں آئی۔ چونکہ اس انقلاب کی قیادت مذہبی علماء کے ہاتھ میں تھی، لہذا مغربی دنیا نے تو بلا جھجک اسے ایک تھیوکریٹک حکومت کے طور پر پیش کرنا شروع کردیا۔ جس سے ہمارے خطے کے متجددین بھی متاثر ہوئے، کیونکہ ان کے مطالعہ کے ذرائع زیادہ تر مغربی دنیا ہی سے جڑے ہوتے ہیں۔ دشمن تو تعصب کا شکار ہوتا ہی ہے، یہاں انقلاب کے حامیوں اور دوستوں نے بھی اپنی کم علمی یا سادگی کے باعث انقلابی حکومت کو ایک ایسی ٹھیوکریٹک حکومت کے طورپر پیش کیا، جیسے یہ تاثر کہ ولی فقیہ کے پاس خدائی اختیارات ہوں اور وہ مافوق بشر کوئی ایسی شخصیت ہے، جسے براہ راست خدا سے راہنمائی ملتی ہو۔ پھر جب بشری تقاضوں کے عین مطابق انقلاب کی کچھ اہم شخصیات نے اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا، تو اس عمل کی وجہ سے بھی دشمن کو اس اسلامی حکومت کو تھیوکریسی سے جوڑنے میں مدد ملی۔ اور جس طرح آج کے لٹریچر میں دنیا میں موجود تھیوکریٹک حکومتوں میں سرفہرست نام ایران کے نظام جمہوری اسلامی کا لیا جاتا ہے، جو حقائق کے بالکل برخلاف ہے جو کہ ایک ظلم ہے جس میں اپنوں اور غیروں کا برابر کا حصہ ہے۔

اس مضمون کے بقیہ حصہ میں ہماری کوشش ہوگی کہ یہ ثابت کریں کہ کس طرح ایران کی موجودہ جمہوری اسلامی حکومت منفی معنوں میں تھیوکریٹک (ملاؤں کی مطلق العنان حکومت) نہیں ہے، بلکہ جدید انسانی فطری اصولوں پر قائم ایک جمہوری نظام ہے۔  
 
ایک تھیوکریٹک حکومت عوامی حمایت سے قائم نہیں ہوتی، بلکہ وہ عوامی رائے کو خدائی فرامین سے متصادم گردانتی ہے، جبکہ ایران میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کا ایک بنیادی عنصر جمہوریت ہے۔ ایران کے اسلامی انقلاب کی تحریک ہو یا انقلاب کی کامیابی کے بعد اس کے راہنماؤں کے رویے، سب کے سب اس انقلاب کے جمہوری ہونے کا اعلان بھی کرتے رہے ہیں۔ امام خمینی ؒ نے کبھی بھی یہ تاثر ابھرنے نہیں دیا کہ وہ کسی آسمانی قوت سے وابستہ ہیں اور وہاں سے الہام لے کر قوم کی راہنمائی کر رہے ہیں، اگرچہ کچھ خوشآمدی اور چاپلوس اپنوں نے کئی ایسی کہانیاں گھڑی ہیں اور انہیں سادہ لوح لوگوں میں زبان زد عام کیا ہے۔ امام خمینی تو اصول پسند اور گہری سوچ رکھنے والے ایک ایسے لیڈر تھے، جنہیں عوامی حمایت و تائید پر یقین تھا۔ ایران میں انقلاب کے ابتداء ہی سے امام خمینی نے عوام کے دل جیت لئے تھے اور یہ انقلاب خالصتاً عوامی حمایت و تائید سے ہی کامیاب ہوا تھا۔ امام خمینی نے ایران میں اسلامی نظام کی بنیاد رکھ کر دنیا میں نئی حکمرانی کا طریقہ روشناس کرایا تھا، جس کی نظیر تاریخ میں پہلے نہیں ملتی۔ اب جبکہ یہ ایک بالکل نیا نظام تھا تو اس پر تھیوکریسی کا لیبل لگانے کا کیا جواز بنتا ہے؟۔

امام خمینی نے اسلامی اصولوں پر استوار جمہوریت کو اس نئی طرز حکمرانی کا بنیادی عنصر قرار دیا اور واضح عوامی حمایت کے باوجود جمہوری اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے ووٹ کے ذریعے عوامی حمایت و تائید حاصل کی اور ایک ریفرنڈم کروایا۔ حتیٰ حالت جنگ میں بھی عوامی پارلیمنٹ اور صدارتی انتخابات منعقد کروائے اور ان میں تاخیر کو نظام اسلامی کے خلاف ایک قدم سمجھا۔ ایک مرتبہ تو صدر، وزیراعظم سمیت پارلیمنٹ کے ۷۲ ممبران کو بم دھماکے سے اڑا دیا گیا، تب بھی امام خمینی نے جمہوری سلسلے کو جاری و ساری رکھا اور ہر منصب کے لئے دوبارہ انتخابات کروائے۔ جدید مغربی تہذیب میں جمہوری نظام حکومت کو ایک بڑی اچھائی سمجھا جاتا ہے، لہذا اسلام مخالف مغرب زدہ لوگ اسلامی ممالک میں استبدادی، آمرانہ اور مطلق العنانیت پر مبنی نظام ہائے حکومت پر ہمیشہ تنقید کرتے ہیں اور ایران کے اسلامی جمہوری نظام کے خلاف بھی انہوں نے یہی پروپیگنڈا کیا کہ ایران کا انقلابی نظام حکومت جمہوری اور عوامی نہیں ہے۔ افسوس یہ ہے کہ متعدد اسلامی شدت پسندانہ نظریات کے حامل مذہبی لوگ بھی جمہوریت اور عوامی رائے کو سرے ہی سے خلاف شریعت کہہ کر اپنی نادانستگی میں اسلام دشمنوں کی حمایت کر تے ہیں اور ایران کی جمہوری اسلامی حکومت کا جو عوامی اور جمہوری چہرہ ہے، اسے چھپا کر دشمن کی اس بات کی تائید کر جاتے ہیں کہ یہ حکومت ایک تھیوکریٹک حکومت ہے۔ 
 
انقلاب اسلامی ایران جدید دور میں اسلامی اور انسانی مذہبی تاریخ کا پہلا انقلاب ہے، جو  عوامی بنیاد پر برپا کیا گیا ہے۔ ایران میں اس انقلاب کے بعد ایک نئے نظام کی تشکیل و تعمیر کے عمل کا آغاز ہوا۔ یہ نیا نظام نہ صرف جمہوری بلکہ مثالی جمہوری اصولوں پر قائم کیا گیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ اسلامی جمہوریت مغربی ثقافت میں پھلنے پھولنے والی جمہوریت کا عین چربہ ہو، بلکہ یہ جمہوریت خود اسلام کے متن سے نکلی ہے اور یہی اسلامی اور غیر اسلامی مذاہب میں فرق ہے۔ غیر اسلامی مذاہب میں الہی احکام کی اصالت گم ہو چکی ہے، جبکہ مذہبی پیشواؤں  کی ذاتی خواہشوں اور تمایلات نے غلبہ کر لیا ہے، لیکن اسلام میں قرآن و حدیث کے اصلی ماخذ آج بھی موجود ہیں اور ملائیت اور مذہبی پپیشوائیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ فقاہت کا جو نظام اسلام میں موجود ہے، اس کی اہمیت اکیڈمک ہے اور اجتہاد اور استنباط کی ایک ٹکنیک کا نام ہے جو زندہ دینی  مصادر سے حکم خدا کو اخذ کرنا ہے، جس میں مجتہد یا فقیہ کے ذاتی تمایلات اور خواہشوں کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ 
 
انقلاب اسلامی کے موجودہ رہبر آیت اللہ خامنہ ای نے امام خمینی (رہ) کی پچیسویں برسی کے موقع پر فرمایا: کسی کو یہ وہم و گمان نہیں ہونا چاہیے کہ حضرت امام خمینی (رہ) نے انتخابات کو مغربی ثقافت سے اخذ کیا اور پھر اسے اسلامی فکر کے ساتھ مخلوط کردیا، کیونکہ اگر انتخابات اور جمہوریت، اسلامی شریعت کے متن سے اخذ نہ ہوسکتی، تو امام (رہ) اس بات کو واضح اور صریح طور پر بیان کردیتے۔
 
رہبر جمہوری اسلامی ایران کے اس بیان سے واضح ہے کہ انقلاب، اسلامی اصول و روایات پر قائم ہے، جن میں سے ایک جمہوریت ہے۔ اسی خطاب میں آپ نے مزید فرمایا: اس سیاسی اور مدنی نظم کی حرکت جمہوریت کی بنیاد پر ہے، جو اسی شریعت کا مظہر اور اسی سے برخاستہ ہے، اور عوام بالواسطہ یا بلا واسطہ ملک کے تمام حکمرانوں کو انتخاب کرتے ہیں۔ اسی طرح آیت اللہ خامنہ ای نے عرب دنیا میں بیداری کی تحریکیں اٹھنے کے موقع پر ایک خطاب میں فرمایا:"وہ چیز جو ان ممالک کیلئے مددگار ثابت ہو سکتی ہے، اسلامی جمہوریت کا نظریہ ہے، اسلامی جمہوریت کا نظریہ جو امام خمینی رہ کا عظیم کارنامہ ہے، ان سب ممالک کیلئے بہترین نسخہ ثابت ہو سکتا ہے، اس میں جمہوریت بھی ہے اور اسکی بنیادیں بھی دین پر استوار ہیں"۔ دراصل تھیوکریسی اور جمہوریت ایک دوسرے کے متضاد دو نظریات ہیں، جہاں تھیوکریسی ہوگی وہاں جمہوریت نہیں ہوگی اور جہاں جمہوریت ہوگی وہاں تھیوکریسی نہیں ہوگی۔ جمہوری اسلامی ایران کے نادان دوست یہ کہہ کر کہ جمہوریت اسلام سے متصادم ہے، جمہوری اسلامی کے بنیادی نظریہ ہی کی نفی کر دیتے ہیں، دوسری طرف دشمن یہ کہتے ہیں کہ ایران میں صرف جمہوریت کا نام ہے، کیونکہ وہاں جمہوری تقاضوں کو پورا نہیں کیا جاتا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 821399
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب