0
Saturday 12 Oct 2019 06:07

پی آئی اے اربعین پر بزنس کیوں نہیں کرتی؟

پی آئی اے اربعین پر بزنس کیوں نہیں کرتی؟
تحریر: نادر بلوچ

پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائن (پی آئی اے) اس وقت تقریباً 400 ارب روپے کے خسارے سے دوچار ہے، مجموعی خسارہ پچھلے پندرہ برسوں میں اس نہج پر پہنچا ہے، دیگر مسائل کے علاوہ منصوبہ بندی کا فقدان بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ پی آئی اے کے بڑھتے ہوئے خسارے کی وجہ بن رہا ہے۔ سچ یہ ہے کہ پی آئی اے حکام وژن اور سمجھ بوجھ سے محروم نظر آتے ہیں یا پھر کسی پلان کے تحت اس قومی ادارے کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر 20 ستمبر کو میڈیا پر آنے والی رپورٹ نے سب کو حیران کر کے رکھ دیا کہ سال 2016-17 میں پی آئی اے کی 46 پروازیں مسافروں کے بغیر ہی اڑان بھرتی رہیں، جس کے باعث ائیرلائن کو 18 کروڑ 40 لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ پی آئی اے کی آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پی آئی اے کے فضائی آپریشن کے افسران کی لاپروائی کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا، مگر ایک سال مکمل ہونے کے بعد بھی ان افسران کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

ملک میں کئی ایسے اہم مواقع ہیں، جہاں قومی ائیرلائن نہ صرف فائدہ اٹھا سکتی ہے، بلکہ اپنے خسارے کو کم کرکے استقلال کی جانب گامزن ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر اربعین امام حسین (ع) کے موقع پر سوا لاکھ سے زائد افراد عراق کا سفر کرتے ہیں۔ عراقی سفارتخانے کے اہلکار نے رقم کو بتایا کہ فقط سال 2018ء میں 75 ہزار 800 افراد کے بغیر اپروول کے ویزے لگائے گئے، جبکہ 40 ہزار سے زائد اپروول کے ساتھ ویزے لگائے گئے، یعنی یہ تعداد تقریباً ایک لاکھ سولہ ہزار سے زائد بنتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق فقط ماہ صفر کے دوران تقریباً 60 سے 70 ہزار پاکستانی زائر مختلف ائیرلائنز کے ذریعے عراق کا سفر کرتا ہے۔ جبکہ اس اہم سیزن میں آپ کو پی آئی اے کہیں بھی نظر نہیں آئے گی، اس سال جب راقم نے نجف کا ٹکٹ اٹھانے کی کوشش کی تو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ملنے والا ٹکٹ جو عام روٹین میں 40 سے 45 ہزار میں دستیاب ہوتا ہے، ان دنوں یہ ٹکٹ 1 لاکھ سے تجاوز کرگیا ہے۔

سچ یہ ہے کہ اس سیزن سے تمام کا تمام فائدہ عرب ائیرلائنز اٹھا رہی ہیں۔ جن میں فلائی دبئی، قطر ایئرویز، کویت ائیرلائن، ایمرٹس ائیرلائن، اتحاد ائیرلائن اور سعود ائیرلائن شامل ہیں۔ جبکہ خود عراق اور ایران کی ائیرلائنز بھی پاکستان سے ٹھیک ٹھاک بزنس کما رہی ہیں، لیکن اگر کوئی اس سیزن سے فائدہ نہیں اٹھا رہا تو وہ پی آئی اے ہے۔ یہ بات بھی اپنی جگہ پر حقیقت ہے کہ مذکورہ تمام ممالک کی پروازیں پہلے اپنے ملک جاتی ہیں اور وہاں ٹرنزٹ دینے کے بعد مسافروں کو عراق یا ایران چھوڑتی ہیں۔ ٹرانزٹ اسٹے کے علاوہ پرواز کا کل وقت تقریباً پانچ گھنٹے پڑتا ہے، جبکہ اگر پی آئی اے اس سیزن میں اپنی پروازوں کا آغاز کرے تو اسے دبئی، قطر، ابوظہبی، کویت یا بحرین نہیں جانا پڑے گا، بلکہ براہ راست صرف دو سے ڈھائی گھنٹوں میں نجف اور بغداد اپنی منزل تک پہنچ سکتی ہے، یوں فیول اور دیگر اخراجات بھی تقریباً عرب ائیرلائنز کے مقابلے میں نصف پڑیں گے۔

اب سوال اٹھتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ پی آئی اے اربعین کے موقع پر حج و عمرہ طرز کا آپریشن شروع نہیں کرتی، اور کیوں اپنے ملک سے منافع خود کمانے کے بجائے باہر کی ائیرلانیز کو دے رہی ہے۔ اقتدار میں آنے سے قبل وزیراعظم عمران خان یہ نعرہ لگاتے نظر آتے تھے کہ وہ پاور میں آکر اداروں میں اصلاحات لاکر ان کو ٹھیک کریں گے، انہیں خسارے سے نکالیں گے۔ اس وقت ایک سال مکمل ہونے کو ہے، لیکن اداروں میں بہتری اس طرح نظر نہیں آرہی، جس طرح ہونی چاہیئے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک ان ادروں کو بیرونی قرضے لیکر بیل آوٹ پیکیچ پر چلایا جائے گا؟۔ اگر یہ حکومت بھی اس طرح ایک اور سال گزارتی ہے تو اس میں اور سابقہ حکومت میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔ حکام کو چاہیے کہ ملک و قوم کے فائدے اور لوگوں کو نقصان سے بچانے کیلئے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائیں۔
خبر کا کوڈ : 821529
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے