0
Saturday 12 Oct 2019 10:08

بن سلمان اور عربوں کا نیا ریکارڈ

بن سلمان اور عربوں کا نیا ریکارڈ
اداریہ
سعودی ریاست کا غاصبانہ قیام اور حجاز مقدس پر عبدالعزیز کا ڈاکہ ایسا کھلا سچ ہے، جسکی تائید مشرق وسطیٰ کی تاریخ کا لفظ لفظ کرتا نظر آ رہا ہے۔ برطانوی سامراج کی مدد و تعاون اور شریف آف مکہ کی مشترکہ کوششوں سے عبدالعزیز نے جس بربریت سے اس علاقے پر اپنا قبضہ جمایا تھا، اس سے آل سعود خاندان بھی انکار نہیں کرتا۔ عبدالعزیز نے خلافت عثمانیہ کی مرکزیت کو ختم کرنے کے لیے سامراجی اشاروں پر جو اقدامات انجام دیئے، ترکی والے اکثر اسکے حوالے دیتے رہتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ عبدالعزیز نے اس حکومت کو حجاز کے مقدس نام پر رکھنے کی بجائے، اپنے خاندان کے نام یعنی سعود کے نام پر رکھ دیا اور مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین کو سعودی عرب قرار دیکر ہمیشہ کیلئے اپنے منحوس خاندان سے منسوب کر دیا۔ سعودی عرب کا ماضی اسکے سیاہ کارناموں کیوجہ سے امت مسلمہ کیلئے ایک منفی استعارے میں تبدیل ہو چکا ہے، لیکن آل سعود کی موجودہ حکومت بالخصوص ولی عہد محم بن سلمان کے کردار نے آل سعود کی تمام خامیوں اور مظالم کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

بن سلمان نے اپنے ہمسایہ عرب ملک یمن پر جس جارحیت کا آغاز کیا ہے، اس سے عالم عرب کے اس غریب ملک کا انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے اور ملک میں تعلیمی ادارے، مساجد، ہسپتال اور حتیٰ نماز جنازہ کے اجتماع بھی سعودی عرب کے جنگی طیاروں کی کارپٹ بمباری سے محفوظ نہیں ہیں۔ وباؤں اور بیماریوں نے یمنی شہریوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ سعودی عرب سمیت تقریبا تمام عرب ممالک حتیٰ بعض ممالک اور امریکہ اسرائیل بھی یمن کے خلاف اس جارحیت میں شریک ہیں۔ بن سلمان نے جن اہداف کیلئے یمن پر حملہ کیا تھا ان میں سے تو ایک بھی حاصل نہیں ہوسکا، لیکن یمن مخالف اس اتحاد نے ایک نیا ریکارڈ ضرور قائم کر دیا ہے۔ عرب زبان کے اخبار رائے الیوم، نے اپنے ایک طنزیہ تجزیئے میں لکھا ہے کہ عربوں نے ایک اور نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ آل سعود اور اسکے اتحادیوں کے حملوں سے دو سال کے اندر یمن دنیا کا غریب ترین ملک بننے جا رہا ہے۔ عربوں کو تیل کی دولت سے نئے نئے ریکارڈ بنانے کا شوق ہے۔

وہ قومی دولت سے گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں اپنے نام سے ریکارڈ درج کروانے کے انتہائی شوقین ہیں۔ مثال کے طور پر دبئی نے اب تک 634 ریکارڈ قائم کیے ہیں، اس ریکارڈ میں نیا اضافہ یمن کا غریب ترین ملک ہونا بھی شامل ہے، جسکا تمام تر کریڈٹ سعودی عرب اور اسکے حواری عرب ممالک کو جائیگا۔ یمن میں سعودی جارحیت کے نتیجے میں غربت کی شرح 47 فی صد سے بڑھ کر 2019ء کے اختتام تک 75 فی صد تک پہنچ جائے گی۔ یمن کی دو کروڑ چالیس لاکھ کی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے، یعنی ملک کی 80 فی صد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے۔ یمن کی دو تہائی آبادی کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔ آل سعود اور اسکے اتحادیوں نے یمن کے مظلوموں کو ہر مادی چیز سے محروم کر دیا ہے، لیکن یمنی مجاہدین کا صبر و شجاعت، ایمان، وقار اور اپنے وطن کے تحفظ کا جذبہ پہلے سے بڑھ چکا ہے اور یہ وہی طاقت ہے جسکے سامنے آج نہیں تو کل آل سعود اور اسکے حواریوں کو جھکنا پڑیگا۔
خبر کا کوڈ : 821544
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب