1
0
Sunday 13 Oct 2019 14:45

حکومت اور داخلی و خارجی دباؤ

حکومت اور داخلی و خارجی دباؤ
تحریر: طاہر یاسین طاہر

بے جہت منزلوں کے راہی صحرائوں کی تپتی دھوپ میں سرابوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے بالآخر اپنے نقشِ پا کے مدھم نشانوں کے سوا کچھ نہیں چھوڑتے۔ لیکن ان مدھم نقوش کو بھی صحرائی بگولے گرم ریتی کا کفن دے کر آسمان کی وسعتوں میں گم ہو جاتے ہیں۔ زندگی خواہشوں اور خوابوں کے سہارے بسر ہو سکتی ہے، مگر ایک فرد کی، جس کی پشت پر خاندان کے چار چھ افراد کمانے والے ہوں، اور اس کے ناز نخرے اٹھاتے رہیں۔ لیکن ایک پورے سماج، ایک پورے خاندان یا کسی پورے گروہ کی زندگی خوابوں اور خواہشوں کے سہارے بسر نہیں ہو سکتی۔ ہاں یہ گروہ اپنی خواہشوں کی تکمیل اور خوابوں کی تعبیر کے لیے جدو جہد ضرور کر سکتے ہیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ کسی سماج کی متعین کردہ منزل کیا ہے؟۔ زمینی حقائق سے جڑے مسائل و معاملات کو نظر انداز کرنا قلمی و علمی بددیانتی ہے۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں عار نہیں بد قسمتی سے ہماری منزل متعین نہیں، بلکہ ہماری تمام حکومتیں جز وقتی قدامات اٹھاتی ہیں اور واہ واہ کے لیے مصاحبین وقت کی طرف دیکھتی ہیں۔ تاریخ یہی ہے، اگر حوالہ جات کے ساتھ کوئی اس سے مختلف بیان کر سکے تو اس کی تحقیق کو سلام پیش کیا جائے گا۔

خارجی سطح پر ہمیں جو سب سے اہم مسئلہ درپیش ہے، وہ کشمیر کا مسئلہ ہے۔ اسی مسئلے کے ساتھ افغانستان کا مسئلہ گزشتہ چار دہائیوں سے جڑا ہوا ہے ۔ یہ دونوں مسائل بہ ظاہر خارجی مسائل ہیں، لیکن ان دونوں خارجی مسائل نے ہمارے سماج کی داخلی حیات کو بری طرح متاثر کیا ہوا ہے۔ پاکستان ان دونوں مسائل کے بیچ یوں الجھ کر رہ گیا کہ لمبے عرصے کے لیے کوئی قابلِ ذکر پالیسی ہی ترتیب نہ دے سکا۔ مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے کے چکر میں معاملہ اس نہج تک آ گیا کہ خدانخواستہ پاک بھارت دونوں جوہری ملک کسی بھی وقت ایک دوسرے پر آتش و آہن کی بارش کر سکتے ہیں۔ پاکستان اس معاملے کو سفارتی محاذ پر سرگرم کیے ہوئے ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور کرفیو کو ختم کرانے کے لیے متحرک ہے۔ لیکن فوری طور پر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ افغانستان کا مسئلہ اس قدر پیچیدہ ہو چکا ہے کہ امریکہ و افغان طالبان کے امن مذاکرات، ناکام ہو چکے ہیں۔ اس کا دبائو بھی پاکستان پر ہے کہ پاکستان افغان طالبان کو امن مذاکرات کے لیے راضی کرے۔ ایک طرفہ تماشا یہ ہوا کہ جونہی مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کیا گیا، یو اے ای کی حکومت نے بھارتی وزیراعظم، جس کی شہرت مسلم کش کی ہے، اسے بلا کر اپنے سب سے بڑے ریاستی ایوارڈ سے نواز دیا۔

حکومت ابھی ان ہی جھمیلوں میں الجھی ہوئی ہے کہ ساتھ ہی عراقی حکومت نے اربعین امام حسین علیہ السلام، کے زائرین کے ویزے روک لیے۔ اس مسئلے کو بڑی ہی مشکل سے حل کیا گیا۔ لیکن یہ مسئلہ بھی جز وقتی حل ہوا ہے، کوئی مستقل حل سامنے نہیں آیا، نہ ہی اس حوالے سے ابھی تک عراقی حکومت کا، کوئی بیان نظر سے گزرا ہے۔ عراقی اقدام کی وجہ بھی اربعین کے قافلہ سالاروں اور زائرین کی وہ حرکات ہیں، جو عراقی حکومت کے لیے مشکلات اور پاکستان کے لیے ندامت کا باعث بنتی ہیں۔ خارجی سطح پر ایک اور بڑا مسئلہ جو سامنے آیا ہے، وہ ایران اور سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے، جس کو ختم کرانے کے لیے وزیراعظم پاکستان عمران خان تہران اور ریاض کا دورہ کرنے جا رہے ہیں۔ مگر دو دن بعد کیا فٹیف پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دے گا؟۔ امید تو ظاہر کی جا رہی ہے اور پاکستان نے عالمی برادری کو مطمئن کرنے کے لیے اقدامات بھی اٹھائے ہیں، لیکن اگر پاکستان کو یقینِ کامل ہوتا تو اس حوالے سے پلان بی کیوں تشکیل دیا جاتا؟۔

اسی طرح ایرانی تیل بردار جہاز پر فائر ہونے والے میزائل، اور پھر امریکہ بہادر کی جانب سے سعودی عرب کی حفاظت کے لیے اضافی فوجی دستے بھیجنے کا اعلان پاکستان پر خارجی دبائو بڑھا رہا ہے۔ ترکی کی جانب سے شام پر چڑھائی بھی اثر دکھائے گی، مقبوضہ کشمیر کے مظلومین کے حق میں اقوام متحدہ میں پر جوش تقریر، مگر یمن کے مظلومین کے لیے لب بستگی، عالمی سطح پر تنہائی کی طرف اشاروں کے ساتھ ساتھ عالمی دبائو کا اظہار بھی ہے۔ وزیراعظم پاکستان پر کشمیر کے حوالے سے داخلی سطح پر اس قدر دبائو تھا کہ اگر وہ اس ایشو پر کھل کر بات نہ کرتے تو انھیں مذہبی سیاسی جماعتیں، اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر واقعی استعماری ایجنٹ ثابت کرنے پر بڑی تیزی اور یکسوئی سے کام کرتیں اور اس حوالے سے پروپیگنڈا کا وہ بازار گرم ہوتا کہ رہے نام اللہ کا۔ جتنے بھی خارجی ایشوز کا ذکر کیا ہے ان کا براہ راست تعلق پاکستان کے داخلی مسائل سے بنتا ہے۔ حکومت کو مگر داخلی سطح پر ایک نئے مسئلے کا سامنا آن پڑا ہے اور عالی دماغ مصاحبین کے ہاتھ پائوں پھول چکے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان اسلام آباد کی طرف آزادی نامی مارچ کرنے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مدرسے کے طالب علم چونکہ ووٹ ڈالتے ہیں لہٰذا انھیں احتجاج کا بھی حق ہے۔ میرا سوال مگر یہ ہے کہ وہ طلبا جو ووٹ نہیں ڈالتے، انھیں کیوں احتجاج میں ہانک کر لایا جا رہا ہے؟۔ مولانا صاحب نے مزید فرمایا کہ اگر ہمیں روکا گیا تو بدلہ لینے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اصل میں بدلہ لینے کی طاقت سے مراد ریاست کو دھمکی اور اپنی من مانی ہے۔ اسی طرح بلاول بھٹو نے دبائو بڑھاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے لوگوں کو ایک کروڑ نوکریاں دینے کے بجائے لاکھوں  لوگوں کو بے روزگار کر دیا۔ میاں نواز شریف نے بھی دھرنے کے حوالے سے اپنی پارٹی کو گائیڈ لائن دے دی  ہے۔ دھرنے کے نتائج کیا نکلتے ہیں؟۔ شاید کچھ بھی نہ ہوں، کیونکہ عوام اب مذہبی کارڈ کے استعمال سے حیرت کدہ بنے ہوئے ہیں۔ پی ٹی آئی بھی ریاست مدینہ کی تکرار کے سوا کوئی عملی کام نہیں کر پا رہی، جبکہ الیکشن کمیشن میں حکومتی پارٹی پر بیرونی فنڈنگ کا کیس چل رہا ہے، جس کا فیصلہ اگر میرٹ پر ہوا تو پارٹی ممکن ہے نئے نام سے رجسٹرڈ کرانا پڑ جائے۔ لیکن ان داخلی و خارجی مسائل سے نمٹنے کے لیے حکومت نے کوئی حکمت عملی طے کی ہے؟۔

مولانا فضل الرحمان کو، کشمیر ایشو سمیت، دیگر عالمی، داخلی، خطے کے معاملے اور ان پر حکومتی حکمت عملی کے حوالے سے اعتماد میں لینے کے لیے کوئی کام ہوا ہے؟ بلکہ حکومتی وزرا کے بیانات تو مولانا کو مزید انگیخت کر رہے ہیں۔ یاد رہے اگر دھرنا ہوا تو یہ سیاسی احتجاج کے بجائے ایک طرح کی چڑھائی ہو گی، اور اس چڑھائی کو روکنے کے لیے ریاستی مشینری اسی طرح کام کرے گی جس طرح کے پی کے، کے سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو روکنے کے لیے نون لیگ نے ریاستی مشینری سے کام لیا تھا۔ اے کاش سیاسی جماعتیں اپنے ذاتی مفادات اور اپنی اپنی خاندانی جمہوریتوں کی بقا کے بجائے ریاست کے مفاد کے لیے سوچیں، اے کاش بلاول بھٹو عمران خان سے نوکریوں کا پوچھنے کے بجائے اپنی پارٹی کی ایگزیکٹو میٹنگ میں اپنی پارٹی والوں سے پوچھیں کہ ہم نے اپنے بنیادی منشور پر چار چھ عشروں میں کتنے فی صد کام کیا ہے؟۔ اے کاش عمران خان بھی اس شخص سے پوچھ سکیں جس نے کہا تھا کہ ہم آتے ہی ایک کروڑ نوکریاں دیں گے، کیا سستا گھر سکیم پر کام شروع ہو چکا ہے؟ یہ سکیم ابھی تک فلاپ ہے اور اس وقت تک فلاپ رہے گی جب تک کہ پی ٹی آئی کے بڑے لینڈ ڈویلپر اپنے اپنے حصے، کا کام بانٹ نہیں لیں گے۔ اس وقت حکومت دبائو میں ہے اور دبائو میں کوئی فرد ہو یا معاشرہ، حکومت ہو یا کوئی ادارہ، درست فیصلہ نہیں کر سکتا۔
خبر کا کوڈ : 821799
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

مختار خان سواتی
Pakistan
یہ پیج بہت پسند آیا، بالکل اس کا ایک tv چینل بھی ہونا چاہیئے۔