13
Monday 14 Oct 2019 10:00

عمران خان کے دورہِ ایران پر ایک نظر

عمران خان کے دورہِ ایران پر ایک نظر
تحریر: محمد سلمان مہدی
 
وزیراعظم عمران خان نے 13 اکتوبر 2019ء بروز اتوار ایران کا ایک روزہ سرکاری دورہ کیا۔ ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے ساتھ ملاقات اور مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی، لیکن رہبر معظم انقلاب اسلامی امام خامنہ ای سے ملاقات انکے اس دورے کی اہم ترین ملاقات تھی۔ بظاہر انکے ساتھ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور انکے اپنے معاون خصوصی ذوالفقار عرف زلفی بخاری تھے۔ لیکن تصاویر دیکھ کر پتہ چلا کہ ان دونوں کے درمیان انٹر سروسز انٹیلی جنس المعروف آئی ایس آئی کے سربراہ براجمان تھے۔ وزارت خارجہ کے سیکرٹری سہیل محمود اور پاکستانی سفیر برائے ایران رفعت مسعود بھی موجود تھیں۔ حساس ترین ادارے کے سربراہ کا وزیراعظم کے ساتھ اس اہم ملاقات میں ساتھ ہونا، اسے ایک خاص ملاقات ظاہر کرتا ہے۔ بظاہر اس دورے کا ہدف پاکستان ایران دو طرفہ تعلقات اور علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال تھا۔ علاقائی سلامتی کے حوالے سے سعودی عرب اور امریکا کی ایران کے ساتھ کشیدگی کا خاتمہ، وزیراعظم عمران خان کی خواہش ہے۔ تہران میں بھی انہوں نے اپنے موقف کو دہرایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے، اس ضمن میں ان سے کہا تھا۔

یعنی ایران امریکا تعلقات میں کشیدگی ختم کرانے کے لئے مذاکرات۔ اس کے لئے امریکی صدر نے پاکستانی وزیراعظم سے مدد مانگی تھی۔  ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ عمران خان خود ایسا چاہتے ہیں، مگر انہوں نے ان سے ایسا کرنے کا نہیں کہا تھا۔ ایک طرف امریکا کی ایران کے ساتھ کشیدگی چلی آرہی ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب کے تعلقات بھی انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں۔ لہٰذا وزیراعظم عمران خان چاہتے ہیں کہ سعودی ایرانی تعلقات کی یہ کشیدگی بھی ختم ہو جائے، تنازعات کو پرامن ذرائع سے حل کیا جائے، یعنی مکالمہ و مذاکرات۔ اور پاکستان اس کے لئے سہولت کار کا کردار ادا کررہا ہے۔ ایران کے سرکاری ذرایع ابلاغ میں پاکستانی وزیراعظم کے دورہ ایران کی جو خبریں آئیں ہیں، وہ پاکستانی سرکاری ذرایع ابلاغ کی خبروں کی مانند تفصیلی نہیں ہیں۔ ریڈیو پاکستان کی ویب سائٹ کے مطابق تہران میں وزیراعظم خان نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کے قریبی ترین دوست ممالک میں سے ایک ہے جس نے ضرورت کے وقت مدد کی ہے۔

وزیراعظم نے ساتھ ہی کہا کہ پاکستان سعودیہ اور ایران کے مابین کسی بھی قسم کی لڑائی نہیں چاہتا۔ البتہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اور سعودیہ کے مابین تنازعہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔ اور وہ یقین رکھتے ہیں کہ ہر ایشو کو مکالمے اور بات چیت کرکے حل کیا جاسکتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ (اپنے ناجائز مقاصد کے لئے) مفاد پرست چاہتے ہیں کہ سعودی عرب اور ایران کی لڑائی ہو مگر یہ خطے کے عوام کے مفاد میں نہیں ہے، اس سے غربت پھیلے گی۔ یہ سب کچھ آن دی ریکارڈ کہی گئیں باتیں ہیں، پس پردہ بہت کچھ کہا سنا گیا ہے مگر اسے ظاہر نہیں کیا جارہا۔ اگر صدر ٹرمپ کے موقف کو درست مان لیا جائے تو پاکستان کا کردار محض پیغام رسانی کا ہے۔ یعنی امریکی و سعودی قیادت کے پیغامات کو ایرانی قیادت تک پہنچانا اور ایرانی قیادت کے جوابی پیغامات کو واشنگٹن ڈی سی اور ریاض و جدہ کی مقتدر شخصیات تک پہنچا دینا۔ سعودی قیادت اس سارے عمل پر خاموش ہے۔ حالانکہ جب سابق وزیراعظم نواز شریف اور بری فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف نے اس نوعیت کا دورہ کیا تھا، تب سعودی حکام نے پاکستان کی ان کوششوں سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔

شاید یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے تہران میں کہا کہ اس ضمن میں کسی نے بھی ان سے کہا نہیں ہے۔ باالفاظ دیگر وہ یہ کہہ رہے تھے کہ یہ پاکستان کا اپنا شروع کردہ مصالحتی مشن ہے۔ سعودی عرب نے نہیں کہا۔ ایک طرف وہ ٹرمپ کا کہہ چکے کہ ٹرمپ نے ان سے ایران سے مذاکرات کروانے کا کہا تھا مگر، سعودی عرب کے معاملے میں وہ پردہ رکھ رہے ہیں۔ ٹھیک ہے کہ مظلوم کشمیریوں کے حق میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کے موقف کو عمران خان نے ایک اور مرتبہ سراہا۔ ایران کی جانب سے کشمیر یوں کی حمایت کا تذکرہ کیا۔ مگر کیا پاکستانی قوم کو ریاست و حکومت کے اعلٰی ترین حکام بتائیں گے کہ سعودی عرب نے کیوں کشمیریوں کی حمایت نہیں کی؟۔ قبل اس کے کہ دورہ ایران سے متعلق مزید نکات پیش ہوں، وزیراعظم سے ایک سوال کرلیا جائے۔ پاکستانی قوم کو بتایا جائے کہ سعودی عرب سمیت امریکی اتحاد نے اگر پاکستان کی ضرورت کے وقت مدد کی تو پاکستان پر اتنا غیر ملکی قرضہ کیسے ہوگیا؟۔ اس قرض یا ادھار کو اگر مدد کہتے ہیں تو اس سے اللہ کی پناہ۔ پورے کا پورا ملک سعودی امریکی مفادات کے لئے گروی رکھنے پر قرض یا ادھار مل جانے کو مدد نہیں کہا جاسکتا؟۔

یہ مدد سود خوروں کی بلیک میلنگ کے زمرے میں آتی ہے، شخصیات کی مدد کی ہوگی، (جنرل راحیل کی طرح) بڑی تنخواہ پر نوکری دے دی ہوگی۔ (جنرل مشرف کی طرح) کسی ملک میں مکان یا فلیٹ خرید کر تحفہ دے دیا ہوگا۔ لیکن پاکستان تو مقروض ہے۔ پاکستان کو مدد نہیں دی گئی، بلکہ پاکستان سے مدد لی جاتی رہی اور بدلے میں قرضوں کی دلدل میں پاکستان کو ڈبوتے رہے، مدد تو پاکستان نے کی۔ اگر صرف ایک افغانستان کی جنگ کی مدد کو ہی لے لیں تو پاکستان کے بغیر سوویت یونین کا یہ انجام کردینا ممکن نہیں تھا۔ بدلے میں پاکستان کو نہ ختم ہونے والی دہشت گردی اور قرضے ملے۔ منشیات اور ناجائز اسلحہ کی بہتات، اسمگلنگ وغیرہ بھی اسی سے منسلک ہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ جواب طلب ہے۔ دورہ ایران کے دیگر نکات بھی اہمیت کے حامل ہیں۔ عمران خان کی توجہ ایرانی صدر نے بحیرہ احمر میں ایرانی آئل ٹینکر پر حملے کی طرف مبذول کروائی۔ خلیج فارس سے عمانی سمندری حدود تک سیکیورٹی ایشوز پر بات کی۔ نہ صرف صدر روحانی بلکہ امام خامنہ ای نے بھی یمن پر جنگ کے خاتمے سے متعلق تاکید کی۔ صدر روحانی نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیراعظم پاکستان اور وہ متفق ہیں کہ یمن جنگ کو روک دینا خطے میں امن کے قیام کی کلید ہے۔ ایران نیوکلیئر ڈیل کے مشترکہ منصوبہ عمل پر بھی گفتگو ہوئی۔
 
جہاں تک بات ہے یمن پر سعودی فوجی اتحاد کی جارحیت کی تو کیا وزیراعظم سعودی اتحاد کی اس جارحیت کی مذمت کرسکتے ہیں؟۔حالانکہ یمن جنگ کے معاملے پر پاکستان کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر فیصلہ سنا دیا تھا۔ پارلیمنٹ نے اس جنگ میں پاکستان کی شرکت کی مخالفت کی تھی۔ یعنی سعودی عرب کا ساتھ دینے کی مخالفت کی تھی۔ غیر جانبداری کا فیصلہ کیا تھا۔ حسن اتفاق کہ آج ہی وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا بیان آیا ہے کہ عمران خان کی قیادت میں پارلیمنٹ کو مضبوط اور با اختیار بنایا جائے گا۔ سوال یہ کہ کس طرح بنایا جائے گا، جبکہ موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی پارلیمنٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ یہ حکومت تو سعودیہ کے گن گانے سے باز نہیں آتی۔ اب یہ وزیراعظم کا امتحان ہے۔ امام خامنہ ای نے بھی انہیں یمن پر سعودی فوجی اتحاد کی جارحیت اور جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام کے لئے ایران کے چار نکاتی مجوزہ حل کی طرف متوجہ کیا۔ یاد رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف یمن جنگ کے خاتمے کے لئے چار نکاتی حل تجویز کرچکے ہیں۔ یعنی فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی فوری فراہمی، یمنی فریقوں کے مابین مذاکرات اور تمام یمنی اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل حکومت کا قیام۔

اس چار نکاتی حل پر خود سعودی حکومت اب تک راضی نہیں ہوئی، کیونکہ مذاکرات یمنی فریقوں کے مابین ہوں گے، سعودی عرب کے ساتھ نہیں کہ وہ کوئی شرط رکھے۔ جبکہ امریکہ بیک وقت دونوں محاذوں پر مصروف ہے، ایک طرف سعودی اور اماراتی افواج کی مدد کر رہا ہے تو دوسری جانب مذاکرات کا ڈھونگ بھی رچا رہا ہے۔ عمران خان امریکی اور سعودی قیادت کو متنازعہ ایشوز کے عادلانہ حل پر کیونکر قائل کرسکیں گے؟۔ جبکہ وہ تو دونوں کے نامعلوم احسانات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ ان دونوں ممالک کا تو معاملہ ہی جدا ہے، پاکستان، ایران سے اپنے دوطرفہ تعلقات کو بہترین سطح پر لے جانے میں کیوں ناکام ہے؟ اس پر ہی قوم کو کبھی حقائق بتادیں۔ زائرین تو خیر شیعہ شہری ہیں، سوتیلے ہوگئے، تاجر برادری تو شیعہ نہیں ہے، اس کو کیوں تفتان بارڈر پر تنگ کیا جارہا ہے؟۔ شیعہ کمیونٹی کے افراد ریاست پاکستان کے دشمن نہ ہوتے ہوئے بھی ریاستی دشمنوں کی مانند ریاستی اداروں کی غیر اعلانیہ تحویل میں کیوں؟۔ یہ سب کچھ ریاستی حکام کس کے مفاد میں کررہے ہیں؟۔ وزیراعظم صاحب، یہ مسائل حل کرنا آپکے بس کی بات نہیں۔ آپکا دورہ ایران کامیاب ہوا یا ناکام رہا، اسکا فیصلہ واشنگٹن ڈی سی اور ریاض میں براجمان حکام نے کرنا ہے۔
خبر کا کوڈ : 821868
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے