1
Tuesday 15 Oct 2019 09:33

ایران سعودی عرب جنگ ہوگی؟

ایران سعودی عرب جنگ ہوگی؟
تحریر: تصور حسین شہزاد

ایران اور سعودی عرب کے درمیان جاری کشیدگی کا محرک جہاں امریکہ رہا ہے، وہیں اسرائیل بھی چاہتا ہے کہ مسلم ممالک کو باہمی جھگڑوں میں ہی الجھائے رکھا جائے، تاکہ ان کی توجہ اسرائیل کے ناجائز وجود کے جانب نہ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل ایک منظم سازش کے تحت مشرق وسطیٰ میں ایسی صورتحال پیدا کر رہا ہے، جس میں ایران سعودی عرب آپس میں الجھ پڑیں اور اس فساد کی لپیٹ میں پوری اُمت مسلمہ آجائے۔ ظاہر ہے کہ سعودی عرب اور ایران کی جنگ کی صورت میں پوری مسلم امہ 2 بلاکس میں تقسیم ہو جائے گی، شیعہ سنی تصادم نہ صرف سعودیہ اور ایران کے درمیان ہوگا، بلکہ یہ جنگ ہر مسلمان ممالک کے گلی کوچوں تک پھیل سکتی ہے۔ اسرائیل روزِ اول سے اسی کوشش میں ہے کہ تہران اور ریاض کے درمیان تصادم کروا دیا جائے۔ ہزار حربوں کے باوجود ابھی تک اسرائیل کو اس میں کامیابی نہیں ملی جبکہ اب ایرانی دفاع کی پوزیشن کا اندازہ ہو جانے کے بعد امریکہ نے محتاط رویہ اختیار کر لیا ہے جبکہ اسرائیل ابھی بھی لااُبالی پن کا مطاہرہ کر رہا ہے۔

سعودی آئل تنصیبات ’’آرامکو‘‘ پر ہونیوالے حملے میں بھی اسرائیل کا ہی ہاتھ دکھائی دیتا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ ہے کہ یمن کے حوثی مجاہدین نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے، جبکہ سعودی عرب ان حملوں کا الزام یمنیوں پر لگاتا ہی نہیں، بلکہ حملہ ہوتے ہی اسرائیل کی جانب سے پہلا بیان قبل از وقت ہی جاری ہوگیا کہ حملے ایران نے کئے ہیں، جبکہ اس حوالے سے سعودی عرب نے پہلے محتاط رویہ اپنایا، تاہم بعد میں اسرائیل کا ہی ہم نواء ہو کر کہہ دیا کہ ’’لگتا یہی ہے ان حملوں میں ایران ہی ملوث ہے‘‘ تاہم اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا، جبکہ اسرائیل کا یہاں کردار ’’شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار‘‘ والا دکھائی دیا۔ اسرائیل مسلسل شور مچاتا رہا کہ ایران نے آئل تنصیبات پر حملہ کیا ہے، اس لئے سعودی عرب فوری طور پر ایران پر حملہ کر دے۔ وغیرہ وغیرہ۔

سعودی سربراہی میں قائم 41 ملکی عسکری اتحاد کی فوجی قیادت جانتی ہے کہ جنگ بچوں کا کھیل نہیں اور اس کی فوجی قیادت کو یہ بھی علم ہے کہ ایران کی دفاعی پوزیشن کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنرل راحیل شریف نے انتہائی ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے محمد بن سلمان کو قائل کر لیا کہ ایران کیساتھ جنگ کی صورت میں سعودی عرب کو بیک وقت کئی محاذوں پر لڑنا پڑے گا۔ یمن، لبنان، عراق، شام حتیٰ پاکستان سے بھی ردعمل آنے کا احتمال ہے۔ راحیل شریف کی بات شائد محمد بن سلمان کی سمجھ میں آگئی، جس پر سعودی عرب نے محتاط رویہ اختیار کر لیا۔ ادھر اس معاملے میں امریکہ کی صورتحال غیر جانبدارانہ ہوتی جا رہی ہے۔ امریکی شور شرابے میں پہلے سا دم خم نہیں رہ گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ تو اپنی روایتی کھلنڈرے پن کا مظاہرہ کر رہا ہے، مگر سعودی عسکری اتحاد کی طرح امریکی مسلح افواج بھی ایران کی دفاعی طاقت سے آگاہ ہیں۔ امریکی آرمی چیف اور سی آئی اے چیف نے بھی ٹرمپ کو اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی، جس میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کی صورت میں ممکنہ امریکی نقصان کا خاکہ ٹرمپ کو دکھایا گیا۔ جس کے بعد ٹرمپ نے پالیسی بدل لی۔

اب صورتحال یہ دکھائی دے رہی ہے کہ امریکہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان جنگ نہیں چاہتا اور نہ ہی خود اس معاملے میں ملوث ہونا چاہتا ہے۔ امریکی صدر کو سی آئی اے کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر ایران سعودی عرب کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو اس میں ایران یا سعودی عرب کا نقصان تو ہونا ہی ہے، اس میں امریکی مفادات زیادہ متاثر ہوں گے۔ امریکی معیشت پہلے ہی ڈانواں ڈول ہے، جنگ کی صورت میں امریکہ معاشی اعتبار سے بہت کمزور ہو جائے گا، جس کا اب واشنگٹن متحمل نہیں ہوسکتا، اس لئے جتنا ممکن ہو، اس تصادم کو روکا جائے۔ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے حالات کے مذکورہ تجزیے کے بعد عمران خان کو یہ ٹاسک سونپا ہے کہ وہ ایران سعودی عرب کے درمیان تصادم کی صورتحال کو روکنے میں کردار ادا کریں۔ عمران خان اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے بعد واپس آرہے تھے کہ اچانک ان کا طیارہ واپس بلوا کر دوبارہ ٹرمپ سے ملاقات کروائی گئی، جس میں امریکی صدر نے عمران خان کو مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے ایران سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کم کروانے کا ٹاسک دیا ہے۔

اس میں یہ معاملہ نہیں کہ امریکہ کو سعودی عرب کی بقاء درکار ہے بلکہ امریکہ نہیں چاہتا کہ اسرائیل صفحہ ہستی سے مٹ جائے، کیونکہ ایران سعودیہ جنگ کی صورت میں اسرائیل بھی لپیٹ میں آجائے گا اور اس کا انجام اسرائیل کے مکمل خاتمہ کی صورت میں نکلے گا۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کو مشرق وسطیٰ میں قیام امن کیلئے فعال کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے عمران خان نے ایران کا دورہ کیا، جہاں ایرانی قیادت نے محتاط انداز میں مثبت ردعمل دیا ہے۔ عمران خان نے ایرانی قیادت کو ایران سعودیہ جنگ کی صورت میں اپنی پوزیشن سے بھی آگاہ  کیا ہے۔ عمران خان نے تہران میں ایرانی قیادت کو بتایا کہ پاکستان سعودی عرب کا اسٹریٹجک اتحادی جبکہ ایران کا ہمسایہ اور دوست ہے، اگر ایران سعودیہ کے درمیان تصادم ہوتا ہے تو اس صورت میں پاکستان اور پورے خطے پر اس کے بہت بُرے اثرات مرتب ہوں گے، اگر سعودی عرب اور ایران میں جنگ ہوتی ہے تو یہاں پاکستان میں حکومت کیلئے بہت ہی مشکل صورتحال پیدا ہو جائے گی۔

اسٹرٹیجک معاہدے کا پارٹنر ہونے کی حیثیت میں پاکستان حملوں کے بعد سعودی عرب کی آزادی و خود مختاری کی حفاظت کا ذمہ دار ہے، لیکن یہ صورتحال پاکستان کو ایران سے براہ راست محاذ آرائی سے دوچار کر دے گی، جس کے انتہائی تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے، تاہم اس پیچیدگی سے بچنے کیلئے ہم ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کو کم کرانا چاہتے ہیں۔ اب عمران خان سعودی عرب جا رہے ہیں۔ ایرانی قیادت کیساتھ ہونیوالی بات چیت سے سعودی قیادت کو آگاہ کریں گے اور ان کا موقف سنیں گے۔ پاکستان نے اس حوالے سے دونوں ملکوں کی قیادت کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پلیٹ فارم دینے کی بھی پیشکش کی ہے اور عمران خان نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت اسلام آباد میں ایک میز پر بیٹھ سکتی ہے۔ اس صورتحال میں سعودی قیادت کا ردعمل سامنے آنے کے بعد ہی پتہ چل سکتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 822052
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے