0
Tuesday 15 Oct 2019 13:48

بھارت میں خواتین پر ہورہے مظالم

بھارت میں خواتین پر ہورہے مظالم
رپورٹ: جے اے رضوی
 
آئے دن خواتین کو انکے حقوق اور اختیارات فراہم کرنے پر زور دیا جاتا ہے، لیکن اس کے بعد عمل کے نام پر زیادہ کچھ سامنے نہیں آتا، بعض حلقوں کی طرف سے مسلم خواتین کی زبوں حالی و پریشانی کا رونا بھی رویا جاتا ہے، لیکن ایسے لوگ اپنے جہاں سے کتنے بے خبر ہیں، یہ ان اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے، جو آئے دن ریاستی اسمبلیوں سے لیکر بھارتی پارلیمنٹ تک پیش کئے جاتے ہیں۔ بیشتر گھر کی چار دیواری کے اندر نئی شادی شدہ لڑکیوں کا جینا دشوار ہوگیا ہے، جہیز کے نام پر انہیں مختلف مظالم کا شکار بنایا جارہا ہے، بہو بیٹیوں کو زندہ جلا دینا، معاشرے کی ایک عادت بن گئی ہے۔ اکیسویں صدی میں بھی بھارت کے کئی علاقے ایسے ہیں، جہاں خواتین کی خرید و فروخت جاری ہے۔ جہیز کے کم ملنے پر باراتیں واپس جانا بھی ایک معمول بن گیا ہے۔ ہندوستانی معاشرے میں آج عام خاتون کی حالت کیا ہے اور اسے کس بے دردی کے ساتھ ہوس کا شکار بنایا جارہا ہے، کبھی جہیز کے نام پر تو کبھی مردوں کے حقوق کی ادائیگی کا حوالہ دیکر، خواتین کو مارا پیٹا اور زندہ جلایا جارہا ہے، اس کا ایک اندازہ بھارتی وزارت داخلہ کی حالیہ رپورٹ سے ہوتا ہے۔

جس میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت میں خواتین پر ظلم و زیادتی کے واقعات بڑھ کر دوگنا ہوگئے اور نوبت یہ آگئی ہے کہ اوسطاً ہر چھ منٹ میں کوئی نہ کوئی عورت کسی نہ کسی جرم کی لپیٹ میں آجاتی ہے، ہر 47 ویں منٹ پر ایک عورت کی آبروریزی کی جاتی ہے یعنی محض 12 گھنٹے میں اپنی قسمت پر آنسو بہانے والی خواتین کی تعداد میں 15 کا اضافہ ہوتا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر پی) کی رپورٹ تو یہ بھی بتاتی ہے کہ بھارت کی ہر پانچ خواتین میں سے ایک کو جنسی یا جسمانی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ہر تیسری عورت کو اپنے شوہر یا کسی رشتہ دار کی سختی و تشدد سے دوچار ہونا پڑتا ہے، یہی نہیں اوسطاً 17 خواتین کو یومیہ زبردستی موت کو منھ میں دھکیل دیا جاتا ہے اور اس طرح ایک سال میں 90 ہزار کے قریب عورتیں مردوں کے ہاتھوں کسی نہ کسی جرم کا شکار بنتی ہیں۔ ان مردوں میں خاوند کے علاوہ دوسرے جانے پہچانے لوگ پروسی، رشتہ دار یہاں تک کہ مذہبی رہنما اور باپ و بھائی بھی شامل ہوتے ہیں۔ اگرچہ تمام ظلم و زیادتی بلکہ بہیمت کے خلاف قوانین موجود ہیں، لیکن حکومتی سطح پر جتنے بڑے دعوے خواتین کے حقوق کے حوالے سے کئے جارہے ہیں اسی رفتار سے خواتین پر مظالم بڑھ رہے ہیں۔

دراصل جہیز کے لئے عورتوں کو زندہ جلانے کا عمل ہو یا ان کی خرید و فروخت کا طرہقہ، ان کی کمزوری و لاچاری سے فائدہ اٹھانا ہو یا رحم مادر میں انکی نسل کشی، بیماری نہیں بلکہ علامت کا درجہ رکھتا ہے اور اس پر ہندوستانی معاشرہ محض اس خوف و مصلحت سے غور کرنے میں گھبراتا ہے کہ کہیں وہ خود ننگا نہ ہوجائے، جس کے بعد دوسروں پر انگلی اٹھانے میں اسے شرم محسوس ہوگی، حالانکہ یہ وہ لعنت ہے، جس نے دنیا بھر کی نظر میں بھارت کو رسوا و بے نقاب کردیا ہے۔ ہاں اگر کچھ ہورہا ہے تو بس مسلم خواتین کے حقوق کے نام پر واویلا اور انکے مردوں کو جیلوں کی زینت بنایا جارہا ہے۔ برسوں پہلے جسٹس مرتضٰی علی نے مشورہ دیا تھا کہ نئی نسل کو جہیز مخالف تعلیم شروع سے دی جائے تاکہ وہ سمجھ سکے کہ جہیز کیا ہے اور عورت کی حیثیت اسکوٹر، ٹی وی سیٹ یا کار سے کہیں زیادہ ہے، جس کو مال و متاع کی لالچ میں مار ڈالنا نہایت ہی شرمناک ہے۔ جہیز کی لعنت سے مسلم معاشرہ پاک و صاف ہے، یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن مسلمانوں میں آج بھی بہوؤں کی زندہ جلا ڈالنے کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ آخرت کا عقیدہ اور احتساب کا تصور ہے۔

اس کے علاوہ اسلام کے وہ عائلی قوانین ہیں، جن کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کہا جاتا ہے، ان قوانین میں یہ گنجائش ہے کہ زوجین میں اختلافات اتنے شدید ہوجائیں کہ ان کے درمیان صلح و نبھاہ کی کوئی گنجائش نہ رہے تو وہ علیحدگی اختیار کرسکتے ہیں، جبکہ بھارت کے موجودہ قوانین کی رو سے عام لوگوں کی ازدواجی زندگی کے انتہائی بگاڑ کو بھی شوہر و بیوی کی علیحدگی یعنی طلاق کے لئے کافی نہیں سمجھا جاتا ہے، بھارتی قوانین کے تحت اگر بیوی کو طلاق دی جائے تو اسے تا عمر نان و نفقہ ادا کرنا پڑتا ہے، جس سے دامن بچانے کے لئے بہوؤں اور بیویوں کو جلا کر مار ڈالنے کا طریقہ آزمایا جارہا ہے۔ اب اگر اس بگاڑ کی اصلاح کی صلاحیت اور قانونی گنجائش مسلم پرسنل لاء بورڈ میں موجود ہے تو اسے بھی حکومت شدید نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ بھارتی پارلیمنٹ میں 1986ء میں مسلم مطلقہ خواتین کے نان نفقہ کے بارے میں ایک قانون بنایا گیا تھا، تب سارے ترقی پسند اور تنگ نظر افراد اس کے خلاف صف آراء ہوگئے تھے۔

لیکن اپنے سماج میں بہوؤں کو زندہ جلاکر مار ڈالنے کے خلاف کسی سیاسی پارٹی، سماجی تنظیم یا لیڈر کو تحریک چلانے کی توفیق نہیں ہوئی، وشو ہندو پریشد، شیو سینا، آر ایس ایس اور اسی طرح کی دوسری جماعتیں جو خود کو ہندو سماج کا محافظ کہتی پھرتی ہیں، انہیں بھی اپنے سماج کی اصلاح کے لئے جد و جہد کا حوصلہ نہیں ہوا۔ صرف زبانی خانہ پری کے لئے ایک آدھ بیان اخباروں میں آجاتا ہے اور جہیز کے لئے ہورہے مظالم کے خلاف لڑنے کے واسطے عام عورتوں کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ خواتین پر یلغار کا ایک اور پہلو انہیں بازار کی شئے بنا دینا ہے، ہمارا سماج عورتوں کو فلموں، ٹی وی میں، اشتہارات میں، سائبر نیٹ ورک میں اور پرنٹ میڈیا میں بکاؤ مال کے طور پر عرصہ سے پیش کررہا ہے اور اس پر احتجاج کرنے یا اس پر قابو پانے کی کسی کو کوئی فکر نہیں ہے۔ اسی طرح معاشی میدان میں عورتوں کی پسماندگی سب پر ظاہر ہے۔ اس تمام ظلم و زیادتی اور حق تلفی کا خاتمہ اس وقت تک نہیں ہوگا، جب تک کہ خواتین بھی تعلیم کے زیور سے آراستہ نہ ہوں، جبکہ دین اسلام نے تعلیم کے دروازے بہت پہلے سے مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کے لئے بھی کھول رکھے ہیں۔
 
خبر کا کوڈ : 822082
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب