0
Wednesday 16 Oct 2019 15:32

حالیہ پر تشدد مظاہرے اور عراق کا مستقبل (2)

حالیہ پر تشدد مظاہرے اور عراق کا مستقبل (2)
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
عراقی معاشرہ، علاقائی، لسانی اور عقائد و نظریات کے حوالے سے واضح طور پر تین چار حصوں میں منقسم ہے۔ یہاں پر امن و امان کو متاثر کرنا اور کسی بھی ایشو کو لیکر ماحول میں انتشار پھلانا کوئی مشکل کام نہیں اور عراق میں موجود اسی ماحول اور فضا سے داعش جیسے دہشت گرد گروپ نے استفادہ کیا۔ مذہبی انتشار کے علاوہ صدام کے باقیات اور بعث  پارٹی کے افراد کی ایک بڑی تعداد ہر شہر اور قصبے میں موجود ہے۔ یہ وہ گروہ ہے جس نے ماضی میں اقتدار کے مزے اڑائے ہیں اور اس وقت دیوار سے لگا ہوا ہے. لہذا اس کے اندر بغاوت کا عنصر ہر وقت آمادہ رہتا ہے۔ اس وقت یہ گروہ "الصرخیہ" کے عنوان سے عراق میں سرگرم  ہے اور اسکی بیرونی پشت پناہی سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔ عراق کی موجودہ نسل نے صدام دور کے مظالم اور اس دور میں مخالفین کے ساتھ جو رویہ رکھا جاتا تھا، نزدیک سے نہیں دیکھا ہے اور نہ ہی وہ اس پرتشدد ماحول کو درک کر سکتے ہیں۔ وہ موجودہ حکومت کے معمولی سخت روئیے یا عدم توجہ پر بھڑک اٹھتے ہیں اور حکومت مخالف مظاہروں اور اقدامات میں شدت آ جاتی ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق نئی نسل کو مشتعل کرنے اور اپنے حامیوں کو میدان میں لانے کیلئے علاقے میں سرگرم، امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کی منحوس مثلت پیش پیش رہی اور  اس میں بغداد میں موجود امریکی سفارتخانے کے کردار کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سوشل میڈیا پر "العراق ینتقص"، یعنی "عراق بیدار ہو جاؤ" کا ٹیگ بنانے والوں میں اسی مثلث کا کردار ہے۔ سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق اس موضوع پر 99 فیصد ٹوئیٹ سعودی عرب کے اندر سے کیے گئے، جبکہ روباٹ کو بھی استعمال کیا گیا۔ سوشل میڈیا نے مظاہرین کو بھڑکانے، انہیں میدان میں لانے اور ماحول سازی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ پر امن مظاہروں کو پرتشدد مظاہروں میں تبدیل کرنے میں بھی سوشل میڈیا کا کردار نظر انداز نہیں کیاجا سکتا۔ عراق کے داخلی مسائل میں مداخلت اور ان مظاہروں کو پرتشدد مظاہروں میں تبدیل کرنے میں بیرونی طاقتوں کے پاس کئی وجوہات تھیں۔ امریکہ اور اسکے حواری عراق کی موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی سے ہرگز راضی نہیں ہیں، وہ عراق کی آزاد اور خودمختار خارجہ پالیسی کو اپنے اہداف کے راستے میں بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ عبدالمہدی کی حکومت کو ابھی ایک سال سے بھی کم مدت ہوئی ہے، لیکن انہوں نے اپنی خارجہ سیاست کو آزادی و خودمختاری کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر عراق نے ایران کے خلاف امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں کا ساتھ نہیں دیا اور امریکہ کیطرف سے سمندری سیکوریٹی نظام میں شمولیت سے انکار کیا۔

موجودہ حکومت نے شام اور عراق کے درمیان الدوکمال کے علاقے میں القائم بارڈر کو کھولنے کے حوالے سے امریکہ کی ڈکٹیشن کو قبول نہیں کیا، عراق کی رضاکارنہ فورس حشد الشعبی پر ہونے والے حملوں میں اسرائیل کو ذمہ دار قرار دیا، امریکہ کی ناراضگی کے باوجود روس سے ایس 400 دفاعی نظام کی خریداری اور بعض یورپی ممالک سے تجارتی لین دین،  یہ وہ چند وجوہات ہیں جن پر امریکی غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ امریکہ اور اسکے حواریوں نے حالیہ مظاہرین کو عراقی حکومت کے خلاف بھڑکا کر عادل عبدالمہدی کو پیغام دیا ہے کہ وہ امریکہ کے بغیر عراق میں اپنی حکومت کو نہیں چلا سکتے۔ برطانیہ میں سابق ایرانی سفیر سید حلال سادیتاں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ عراق کے مختلف علاقوں اور حکومت کی طرف سے سروسز فراہم کرنے کا فقدان ہے، لیکن بعض داخلی اور بیرونی عناصر اس سے غلط استفادہ کر رہے ہیں، میرے خیال میں داخلی طاقتوں سے زیادہ بیرونی قوتیں طاقتور اور سرگرم ہیں۔ ایک اور بیرونی عامل عراقی حکومت کیطرف سے اسرائیل کو حشد الشعبی کے خلاف حملوں کا ذمہ دار ٹھہرانا ہے، البتہ سب سے اہم عامل جسے انفرادی  نہیں، بلکہ خطے کی سیاسی و عمومی صورت حال کے تناظر میں دیکھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے۔ عراق اس وقت استقامتی و مزامتی بلاک کا ایک اہم رکن ہے اور عراق ایران تعلقات، اس وقت اعلیٰ ترین سطح پر ہیں، سامراجی طاقتوں نے جسطرح ایران میں حکومت خلاف مظاہرے کروانے کی کوشش کی، تاکہ استقامت کے بلاک کا مرکز کمزور ہو جائے۔

جب اس میں اسے ناکامی ہوئی تو اب وہ مقاومتی بلاک کے پر و بال کاٹنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عراق کے حالیہ مظاہروں میں حشد الشعبی کے ساتھ ساتھ ایران کے خلاف بھی نعرے لگائے گئے۔ ایک اور اہم پہلو جس پر تقصیل سے گفتگو کرنے کی ضرورت ہے، وہ ان مظاہروں کی ٹائمنگ ہے۔ اربعین حسینیؑ اور  ملین مارچ کے موقع پر یہ مظاہرے بہت سے پیغامات کے حامل ہیں۔ اربعین ملین مارچ میں شرکت کرنے والوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ بہرحال بڑھتا ہوا یہ امریکہ  و اسرائیل مخالف اجتماع سامراجی طاقتوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھتا ہے، وہ اسے ناکام بنانے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ پرامن مظاہروں کو پر تشدد مظاہروں میں تبدیل کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ دنیا بھر میں عراق کو ناامن دکھایا جائے اور زائرین کم سے کم تعداد میں اس اجتماع  میں شرکت کریں۔ آخر میں اس بات سے آرٹیکل کو ختم کرتے ہیں کہ اس وقت حکومت عراق کی کوششوں سے مظاہرے تھم گئے ہیں، لیکن مستقبل میں مظاہروں کے دوبارہ شروع نہ ہونے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ مظاہروں کے داخلی و خارجی عوامل راکھ کے نیچے اس چنگاری کی مانند ہیں، جو کسی بھی وقت دوبارہ بھڑک سکتی ہے۔

ختم شد۔۔
خبر کا کوڈ : 822142
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے