0
Friday 18 Oct 2019 05:50

پارا چنار، سوال کرتا ہے!

پارا چنار، سوال کرتا ہے!
تحریر: سید شاہریز علی
 
پاراچنار کا شمار وطن عزیز کے جنت نظیر مقامات میں ہوتا ہے، یہاں کے باسی اپنے علاقہ کی طرح خوبصورت اور اس سے کہیں زیادہ حسین دلوں کے مالک ہیں، ان دلوں میں مذہب، وطن اور انسانیت کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، پڑوسی ملک افغانستان کیساتھ متصل سرحد، محبان اہلبیت علیہم السلام کی اتنی بڑی تعداد میں موجودگی، علاقہ کی اہم سٹریٹیجک صورتحال، مذہب و وطن سے والہانہ محبت اور اصولوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کیوجہ سے اس علاقہ کے عوام نے شدید جانی و مالی نقصانات اور مصائب و مشکلات برداشت کی ہیں۔ یہاں ہر گاوں بلکہ ہر خاندان سے کوئی نہ کوئی شہید یا زخمی ضرور ہے۔ مگر یہ شہادتیں پاراچنار کے عوام کو مذہب اور وطن سے قربتوں اور محبتوں کو کم نہ کرسکیں، آج بھی پورے پاکستان میں امن قائم ہونے کے باوجود اگر کوئی قوم سیکورٹی محاصرہ میں موجود ہے تو وہ کوئٹہ کے ہزارہ شیعہ کے بعد پاراچنار کے طوری بنگش قبائل ہیں۔ پاراچنار کے عوام پر کبھی طالبان اور فرقہ پرست دہشتگردوں نے جنگیں مسلط کیں تو کبھی خودکش حملوں اور بم دھماکوں میں یہاں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ پاراچنار کے قبرستانوں میں ہر دوسری قبر پر لگے علم عباس علیہ السلام اس بات کی چیخ چیخ کر گواہیاں دے رہے ہیں کہ ان کا خون ناحق بہایا گیا۔
 
پاراچنار کے طوری و بنگش قبائل نے  2007ء سے لیکر 2011ء تک ایک ایسی جنگ کا سامنا کیا کہ جس میں اس ملک خداداد پاکستان میں رہتے ہوئے بھی وہ غزہ کی مانند دہشتگردوں کے محاصرہ میں تھے، محاصرہ بھی ایسا کہ ایک سڑک جوکہ کرم سے ٹل، ہنگو اور کوہاٹ سے ہوتی ہوئی، پشاور تک جاتی ہے، نہ جانے یہ کیسے دہشتگرد تھے کہ انہوں نے چار سال تک اس سڑک کو بند رکھا اور ریاست بے بس رہی۔ پاراچنار کے عوام کے اس درد کو الفاظ کی صورت میں بیان کرنے کا خیال اس وقت آیا کہ جب چند دن قبل ضلع کرم کے ہی علاقہ ٹوپکی میں فائرنگ کا ایک واقعہ پیش آیا، جس کے بعد ایک مرتبہ پھر فرقہ پرستوں نے اس ذاتی دشمنی کے واقعہ کو فرقہ وارنہ رنگ دینے کی کوشش کی۔ کسی کو بے گناہ قتل کرنا یقیناً قابل مذمت اقدام ہے، ٹوپکی واقعہ کے بعد کرم کے اہلسنت نشین علاقہ صدہ میں اس واقعہ کیخلاف فرقہ پرست جماعت کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے کارندوں نے بڑی منصوبہ بندی کے تحت احتجاج شروع کیا، اس احتجاج کو فوری طور پر فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی گئی، اشتعال انگیز تقاریر کا آغاز ہوا اور حسب معمول اسی ایک ہی نعرے سے صدہ گونج اٹھا کہ کافر کافر شیعہ کافر۔
 
پاراچنار کے بزرگان کے مطابق مظاہرین نے وہاں سے گزرنے والے شیعہ مسافروں کی تین گاڑیوں کو نذر آتش کردیا۔ محسوس یوں ہورہا تھا کہ صدہ کے یہ مظاہرین ان دو افراد کے قتل کی آڑ میں شائد پھر کچھ نیا ڈرامہ شروع کرنا چاہتے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ صدہ کے ان مظاہرین نے کس دیدہ دلیری سے مسافروں پر تشدد کیا، ان کی گاڑیوں کو نذر آتش کیا اور مسلسل نہ صرف ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتے رہے، بلکہ ایک مرتبہ پھر کسی نئی جنگ کے آغاز کا جواز فراہم کرتے رہے۔ محض چند روز قبل پاراچنار (جوکہ پاک فوج کے سیکورٹی) محاصرے میں ہے، مسلح طالبان کا جتھہ مبینہ طور پر ایک سکول پر حملہ کی نیت سے آسانی سے داخل ہوجاتا ہے، جسے مقامی لوگ اپنی تحویل میں لے لیتے ہیں، ان طالبان کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا جاتا، فوری طور پر سیکورٹی فورسز کے اعلیٰ افسران موقع پر پہنچ جاتے ہیں اور ان طالبان دہشتگردوں کو عوام کی تحویل سے بحفاظت لیکر ساتھ لے جاتے ہیں۔ اس موقع پر نہ تو عوام ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی محاذ آرائی سامنے آتی ہے، یہ سب جانتے ہوئے کہ انہی طالبان نے کئی ماوں کی گودیں اور کئی خواتین کے سہاگ اجاڑے۔
 
 یہاں پاراچنار میں بسنے والے ہر محب وطن شہری کے ذہن میں یقیناً چند سوالات ضرور پیدا ہوتے ہین، کہ جب پہلے تو ایسے سیکورٹی محاصرہ، جس میں شناختی کارڈ کی چیکنگ کے بغیر کوئی پاراچنار میں داخل نہیں ہوسکتا، 28 مسلح طالبان کیسے یہاں تک پہنچ گئے۔؟ یہاں آپ ان دہشتگردوں کو اپنی تحویل میں لینے کیلئے فوری طور پر پہنچے تاہم صدہ میں جب تک مشتعل مظاہرین نے بے گناہ مسافروں کی گاڑیوں کو نذر آتش نہیں کردیا، اس وقت تک کوئی انتظامیہ یا حکومت کا نمائندہ کیوں نہ پہنچا۔؟ کیسے وہاں ایک مسلمان مسلک کو سرعام گالیاں دینے کی اجازت دی گئی۔؟ اگر ماضی کے دریچوں میں جائیں تو بھی ایسے ہی سوالات ہیں جن کے جواب پاراچنار کے مظلوم لوگوں نہیں ملے۔ یہ محب وطن شہری ریاست پاکستان سے یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر میرے علاقہ میں ہی اتنی دہشتگردی کیوں ہوئی۔؟ اگر کرم بارڈر پر واقع ایک حساس علاقہ تھا، تو پاراچنار سے محض 35 کلو میٹر دور صدہ کے علاقہ میں آج تک کوئی دھماکہ کیوں نہیں ہوا۔؟ کیا دہشتگردوں کو صدہ کا راستہ معلوم نہیں تھا، یا ان کا اس علاقہ میں داخلہ مشکل تھا۔؟ حالانکہ میں پاکستانی شہری ہونے کے ناطے اپنے مذہب اور عقیدہ کے مطابق دہشتگردی کی بھرپور مخالفت اور مذمت کرتا ہوں، چاہے وہ جس کے بھی خلاف ہو۔
 
پاراچنار کے شہریوں کے یہ سوالات بھی یقینی طور پر تشنہ ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں کوئی علاقہ غزہ کی مانند 4 سال تک محاصرہ میں رہے۔ اور دنیا کی صف اول میں شمار ہونے والی قابل فخر فوج 2007ء سے 2011ء تک میرے علاقہ کی طرف کیوں نہ آئی۔؟ دہشتگرد اتنے مضبوط اور ماں کہلانے والی ریاست اتنی کمزور ہو جائے کہ اس نے اپنے بچوں کو ظالموں کے نرغے میں چھوڑ دیا۔؟ دہشتگرد ایک سڑک کو چار سال تک بند کئے بیٹھے رہے اور ہمیں پڑوسی ملک سے ہوکر اپنے ملک میں داخل ہونا پڑا۔ آخر آج تک پاراچنار میں ہونے والے کسی بھی دھماکے کا ذمہ دار سامنے کیوں نہیں آسکا۔؟ کیا آج تک کسی بھی دہشتگردی کی کارروائی میں میرے مسلک کا شہری ملوث پایا گیا۔؟ میں کیسے بھول جاوں وہ منظر جب ایک طرف دہشتگردوں نے دھماکہ کرکے میرے لوگوں کو شہید کیا اور پھر ریاست کے ٹینکوں نے انہی غمزدہ پرامن شہریوں کو روندھا۔؟ ایف سی کے سابق کمانڈنٹ ملک عمر کو تین شہریوں کو سیدھا فائر مارنے اور درجنوں کو زخمی کرنے پر آج تک سزاء کیوں نہیں دی گئی۔؟ میرا اسلحہ تو کبھی ریاست کیخلاف نہیں اٹھا، پھر آپ مجھے کیوں کہتے ہیں کہ اسلحہ دو۔؟
 
ذمہ داروں کو پاراچنار کے اس محب وطن شہری کے اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ جب تمام تر قبائلی علاقوں میں پاک فوج کا داخل ہونا اور پاکستان کا قومی پرچم لہرانا جرم بن چکا تھا تو کیا پاراچنار وہ واحد علاقہ نہیں تھا جہاں اس وقت بھی پاک فوج کو سلیوٹ کیا جاتا تھا، اور گھر گھر علم عباس علیہ السلام کیساتھ ساتھ قومی پرچم بھی لہراتا نظر آتا تھا۔؟ میرے بھائیوں کو ذبح کرکے، ان کے ٹکڑے کرکے بھیجے گئے، میرے گاوں کے گاوں، امام بارگاہ، مساجد کو دہشتگردوں نے نذر آتش کیا، اس وقت آپ کہاں تھے۔؟ جب میری ماوں بہنوں کی ناموس تک خطرے میں تھی، سعودی عرب کے دفاع کیلئے جانے والی میری یہ فوج اس وقت یہاں کیوں نہ آئی۔؟ کیا میرے جوانوں کا خون کشمیر اور فلسطین کے شہداء کے خون کیطرح نہیں تھا۔؟ پرقیوم میں شہید ہوکر مثل شہزادہ قاسم علیہ السلام ٹکڑوں میں تقسیم ہوکر آنے والے ساجد حسین کی لاش کیا، آج بھی اس کی سات بہنوں کو خون کے آنسو نہیں رلاتی۔؟ شہداء کی ماوں کی چیخیں کیا ہمیں سکون کی نیند سونے دیتی ہوں گی۔؟ کیا آج بھی ہم ہزاروں یتیم بچوں کو دیکھتے ہوں گے تو ہمارے جگر نہیں پھٹتے ہوں گے۔؟
 
یہ سوال ایک نہیں بلکہ ہر پاراچنار کے شہری کی آواز ہے، ریاست کو ان سوالوں کے جواب دینا ہوں گے، پاراچنار کے عوام دہشت گردی کا شکار ہونے اور ان مظالم کو سہنے کے باوجود لائق تحسین ہیں، یہ لوگ جنہوں نے ہمیشہ وطن عزیز کے تحفظ کی بات کی، حب الوطنی کی بات کی۔ کسی غیر سے مدد نہیں مانگی۔ کبھی اقوام متحدہ یا کسی بیرونی دروازے کو نہیں کھٹکھٹایا، اگر انصاف بھی مانگا تو اپنی ہی ریاست سے، سوال بھی کیا تو اپنی ہی ریاست سے، کیونکہ ریاست ماں کے جیسی ہوتی ہے۔ آج وقت آن پہنچا ہے کہ ریاست پاراچنار کے عوام کے ان دکھوں کا مداوا کرے، ان کے زخموں پر مرحم رکھے۔ ان شہداء کو تو واپس نہیں لایا جاسکتا، مگر زیادتیوں کا ازالہ ضرور کیا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ آرمی چیف نے ہزارہ قبائل کے سربراہ سعادت علی ہزارہ کے سامنے قبول کیا کہ ماضی میں ہم سے غلطیاں ہوئیں، شائد یہاں محض ان غلطیوں کو تسلیم کرنے سے ہی پاراچنار کے عوام کے کو حوصلہ مل جائے، ان ماوں کے آنسو رک جائیں جو اپنے گوشہ جگر کو راتوں کی تاریکیوں میں چھپ چھپ کر یاد کرتی ہیں۔ ریاست کوشش کرے کہ آئندہ ایسا کوئی موقع نہ ملے کہ جس پر پاراچنار کے محب وطن شہریوں کو ریاست سے کوئی شکوہ ہو۔
خبر کا کوڈ : 822728
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب