0
Friday 18 Oct 2019 20:44

جو بچپن میں یتیم ہوئے، انہیں وزیراعظم کی قرض سکیم سے قرضہ نہیں ملیگا

ایسے جوانوں کیلئے سٹیزن پورٹل نے بھی اپنا دروازہ بند کر دیا 
جو بچپن میں یتیم ہوئے، انہیں وزیراعظم کی قرض سکیم سے قرضہ نہیں ملیگا
رپورٹ: عمران خان

غربت خود ایک مسئلہ ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے کی وہ کوکھ بھی ہے کہ جہاں سے گوں ناگوں مسائل اور جرائم جنم لیتے ہیں، جو کہ وقت گزرنے کے ساتھ اتنے قوی الجثہ ہوجاتے ہیں کہ افراد، اداروں یا ریاستوں کیلئے ان پہ قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے۔ گزشتہ روز دنیا بھر میں غربت کے خاتمے کا عالمی دن منایا گیا۔ اس دن کی مناسبت سے حکومتی اعداد و شمار کو ملحوظ رکھیں تو پاکستان کا شمار ان ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے، جہاں غربت کے خاتمے کیلئے ضروری اقدامات ہنگامی بنیادوں پہ جاری ہیں اور یہ سلسلہ گر یونہی جاری رہا تو پاکستان کا شمار عنقریب غربت پہ قابو پانے والے ممالک میں ہو گا۔ تاہم غربت و افلاس کے باعث خودکشیوں کے بڑھتے رجحان کی جانب دیکھیں، اجتماعی خودکشیوں والے کیسز کو مدنظر رکھیں کہ جس میں مفلس، فاقہ ذدہ والدین نے اپنے ساتھ ساتھ اپنے جگر پاروں کو بھی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے موت کی ابدی نیند سلایا، صحراؤں میں غذائی قلت سے ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد کے اعداد و شمار سامنے رکھیں، تمام تر حکومتی کوششوں کے باوجود گداگری میں اضافے کو مدنظر رکھیں یا لنگر خانوں میں لوگوں کے ہجوم کو ملحوظ رکھیں.

چوری، ڈکیتی، سٹریٹ کرائم کے بڑھتے سیلاب یا جرائم پیشہ بچوں کی تعداد میں ہونے والے مسلسل اضافے کو دیکھیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ حکومتی اعداد و شمار مکر و فریب اور سراب کی مانند ہیں۔ غربت کے اسباب، محرکات، اثرات اس سے نمٹنے کیلئے ضروری اقدامات پہ بحث ذیل تحریر کا مقصود نہیں ہے، بلکہ غربت کی روک تھام کے عالمی دن کے موقع پر حکومت نے جو پروگرام متعارف کرایا ہے، اس میں پائے جانے والے ایک سقم کی جانب توجہ دلانا مقصود ہے۔ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے کامیاب جوان پروگرام کا افتتاح کیا۔ کامیاب جوان پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو کاروبار، اعلٰی تعلیم اور ہنر کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس سلسلے میں نوجوانوں کو 10ہزار سے 50 لاکھ تک قرض مل سکے گا۔ پرواگرام کے ابتدائی فیز میں نوجوان گھر بیٹھے اس کیلئے آن لائن درخواست  دیں گے۔ کنونشن سینٹر اسلام آباد میں کامیاب جوان پروگرام کی افتتاحی تقریب ہوئی۔ اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کامیاب جوان پروگرام کی سب سے اہم چیز میرٹ ہے۔ہم نے اس پروگرام کیلئے 100 ارب مختص کیے ہیں، یہ قرضے نوجوانوں کیلئے ہیں، 25 ارب روپے صرف خواتین کیلئے ہوں گے۔ ایک لاکھ تک قرضہ بلاسود دیا جائے گا، یہ قرضے 45 کمزور اضلاع میں دیے جائیں گے،5 لاکھ سے 50 لاکھ روپے تک قرضے میرٹ پر دیے جائیں گے، قرضہ میرٹ پر ملے گا کوئی سفارش نہیں چلے گی، ہم نے سب کو قرض دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں 10 لاکھ نوجوانوں کو قرضے دیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مدینہ کی ریاست پہلے دن ہی نہیں بن گئی تھی، آہستہ آہستہ تبدیلی لے کر آرہے ہیں، مدینہ کے لوگوں نے اپنے کردار کو بدلا۔ پاکستانی قوم بہت جلد ایک عظیم قوم بنے گی، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ کامیاب نوجوان پروگرام کے ابتدائی فیز میں درخواستیں صرف آن لائن ہی جمع ہو سکیں گی۔ جس کا جواب تیس دن کے اندر آن لائن ہی موصول ہو گا۔ آن لائن درخواست فارم کو اس طریقے سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اس میں 25 سے 40 سال کے وہ یتیم نوجوان کہ جن والد ان کے بچپن میں ہی انتقال کر گئے، سرے سے درخواست دینے کے اہل ہی نہیں ہیں۔ کامیاب جوان آن لائن درخواست فارم کو اس طریقے سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ کسی ایک بھی شق کا جواب دیئے بغیر آپ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ فارم میں درخواست گزار کے نام اور نادرا کے شناختی کارڈ نمبر کے بعد والد کا نام اور ان کا شناختی کارڈ نمبر طلب کیا گیا ہے۔ والد کا شناختی نمبر 13ہندسوں یعنی نادرا کارڈ کا ہونا لازم قرار دیا گیا ہے، نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کا قیام مشرف دور حکومت میں 2000ء عمل میں لایا گیا تھا۔ اس سے قبل مینوئل شناختی کارڈ تھے، جن کے ہندسوں کی تعداد 8 تھی۔

اب جن درخواست گزاروں کے والد نادرا کے قیام سے قبل چل بسے تو عملی طور پر ان تمام امیدواروں کو کامیاب جوان پروگرام میں شریک ہونے سے روک دیا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاملہ آن لائن فارم ڈیزائن کرنے والوں کے ذہن میں نہیں تھا اور کیا وہ اتنے ہی سسٹم سے نابلد تھے کہ انہیں پاکستان میں نادرا کی اپنی پیدائش کی تاریخ معلوم نہیں تھی۔ سوال یہ بھی ہے کہ کتنے لاکھ نوجوان اس چھوٹی سی ترکیب سے عملی طور پر اس پروگرام سے باہر کر دیئے گئے۔؟ اصولی طور پر چونکہ یہ مسئلہ نادرا سے متعلق تھا تو نادرا کو ہی اس مسئلہ کا حل دینا چاہیئے تھا اور ضروری بھی تھا۔ اب جو بھی پاکستانی شہری نادرامیں رجسٹر ہے اور نادرا اس کے والد کانام اس کے شناختی کارڈ پہ درج کرتا ہے ۔تو ضروری تھا کہ اس کے والد کو کوئی 13 ہندسوں کا شناختی نمبر خود کار سسٹم کے تحت درج کرکے نادرا اپنے پاس ریکارڈ کی صورت محفوظ کرتا، مگر ایسا کچھ نہیں۔ جن افراد کے والدین نادران کے قیام سے قبل وفات پا گئے، حکومت نے نئے شناختی سسٹم میں ان کیلئے کوئی گنجائش نہیں رکھی، باالفاظ دیگر ریاست ان کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکاری ہے۔

آن لائن درخواست فارم کے ستائے امیدواروں نے جب اس سلسلے میں نادرا سے مدد مانگی تو نادرا نے ان امیدواروں کو براہ راست وزیراعظم عمران خان سے رابطہ کرنے کا مشورہ دے رہا ہے۔ یعنی سٹیزن پورٹل پہ شکایت۔ مگر رکیئے۔ یہ بھی اتنا آسان نہیں۔ کیونکہ سٹیزن پورٹل کا ڈیزائن انہوں نے ہی ترتیب دیا ہے کہ جنہوں نے کامیاب جوان پروگرام کا آن لائن درخواست فارم ترتیب دیا ہے۔ سٹیزن پورٹل میں کوئی بھی شہری، کسی دوسرے شہری کے خلاف، ادارے کے خلاف تو شکایت درج کرا سکتا ہے مگر رائج سسٹم کے خلاف شکایت یا سسٹم کی خرابی بتانے کا نظام سرے سے پورٹل کا حصہ ہی نہیں ہے۔ سٹیزن پورٹل میں درخواست فارم کے اندر خامی یا خرابی کی شکایت کامیاب جوان کا امیدوار کیسے کرے گا، یہ یا تو وزیراعظم بتا سکتے ہیں، یا پھر اس فارم اور پورٹل کے ڈیزائن کنندہ۔ تاحال معاملہ یہ ہے کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس پروگرام میں اپنا نام بھی درج نہیں کر پا رہی۔ مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق نوجوانوں کی یہ بڑی تعداد خود کو درپیش یہ حقیقی مسئلہ سٹیزن پورٹل پہ بھی شکایت کی صورت میں درج کرانے سے قاصر ہے۔ 
خبر کا کوڈ : 822793
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے