0
Saturday 19 Oct 2019 12:41

معکم معکم لا مع عدوکم

معکم معکم لا مع عدوکم
اداریہ
آج چہلم امام حسین علیہ السلام ہے، آج کے دن زیارت اربعین پڑھنے کی بہت زیادہ فضلیت بیان کی گئی ہے، یہان تک کہ اسے مومن کی علامتوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ اس زیارت کے آخر میں آیا ہے، معکم معکم لا مع عدوکم۔ پس ہم آپکے ساتھ ہیں اور آپکے ساتھ ہیں، آپکے دشمن کے ساتھ نہیں ہیں۔ یہ وہ جملے ہیں جو نواسہ رسول امام حسینؑ سے محبت کرنے والا اور آپکی لازوال تحریک کو اپنے لیے مشعل راہ سمجھنے والا ہر شخص اپنی زبان پر لانا سعادت سمجھتا ہے۔ 61 ہجری بہتر جانثاروں نے سید الشہداء کی رہبری میں ایسی کونسی جنگ لڑی اور ایسا کونسا راستہ اپنایا کہ آج دنیا کا ہر حریت پسند معکم معکم کی صدائیں بلند کرتا ہے۔ 61 ہجری میں 72 محدود ساتھیوں کیساتھ کربلا کے لق و دق صحرا میں شہید ہونیوالے نواسہ رسولؑ نے ایسا کیا معرکہ لڑا کہ آج تقریباَ چودہ سو سال کے بعد انسانیت اس معرکے کو اپنے لیے نصب العین قرار دیتی ہے؟۔ رجب 60 ہجری میں "میرے جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا" کے سلوگن سے مدینہ رسول سے چلنے والی تحریک خانہ خدا سے ہوتی ہوئی کربلا تک پہنچی۔

اہل باطل نے اس تحریک کے مرد جانثاروں کو تہیہ تیغ کیا اور ان کی لاشوں پر گھوڑے دوڑا کر ان کی لاشوں کو کھلے صحرا میں بے گور و کفن چھوڑ دیا تاکہ جنگل و صحرا کے حیوانات ان لاشوں کی باقیات کو بھی کھا جائیں اور یوں کربلا میں کام آنے والے ان شہداء کا نام و نشان مٹ جائے۔ یزید اور اہل یزید کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کربلا کے جس لٹے پٹے کارواں کو وہ اہل حجاز و شام کے سامنے عبرت کا نسان بنانے کیلئے بازاروں اور درباروں میں پھرا  رہے ہیں، وہی کاروان یزید اور یزیدیت کی بظاہر عظیم فتح کو ایسی عبرتناک شکست میں تبدیل کر دیگا کہ کربلا کا نام آتے ہی یزید اور یزیدیت کے ایوان کانپنے لگیں گے۔ کربلا میں یزید کی بظاہر فتح خاندان ابوسفیان کیلئے ایسی لعنت میں تبدیل ہو گئی جو تاابد انکے ساتھ مخصوص ہو گئی اور آج سینکڑوں سال گزرنے کے بعد بھی ہر باشعور انسان یزید کے اس پہیمانہ اقدام سے نفرت و بیزاری کا اعلان کرتا ہے۔ امام حسینؑ کا چہلم حقیقت میں کربلا کی ابدی فتح کا اعلان ہے، خاندان اہل بیتؑ نے دس محرم سے بیس صفر تک ایک ایسا معرکہ لڑا جسکی مثال نہیں ملتی۔ اسیران کربلا نے شمشمیر پر خون کی فتح کو ببانگ دہل ثابت کردیا۔

اس معرکہ حق و باطل میں اگرچہ نواسہ رسولؑ اور آپ کے بہتر جانثاروں کا بے گناہ خون بہا اور مخدورات عصمت و طہارت کو شام غریباں اور کوفہ و شام کے بازاروں اور درباروں میں سخت ترین مراحل سے گزرنا پڑا، لیکن امام حسینؑ جس سلوگن اور نعرے کو مدینہ سے لیکر چلے تھے، وہ آج بھی ہر آزاد منش حریت پسند کے قلب و ذہن میں گونج رہا ہے، "حیسنؑ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا" مثلی لا یبایع مثلہ۔
 
   حسینؑ تم نہیں رہے تمہارا گھر نہیں رہا            مگر تمہارے بعد ظالموں کا ڈر نہیں رہا
مدینہ و نجف سے کربلا تک ایک سلسلہ            اِدھر جو آگیا وہ پھر اِدھر اٗدھر نہیں رہا
   صدائے استغاثہ حسینؑ کے جواب میں           جو حرف بھی رقم ہوا وہ بے اثر نہیں رہا
کوئی بھی ہو کسی طرف کا ہو کسی نسب کا ہو
جو تم سے منحرف ہوا وہ معتبر نہیں رہا
خبر کا کوڈ : 822882
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب