0
Saturday 26 Oct 2019 16:01

آزادی سے پہلے برصغیر کے مسلمان معاشرے میں فرقہ وارانہ تشدد (۲)

آزادی سے پہلے برصغیر کے مسلمان معاشرے میں فرقہ وارانہ تشدد (۲)
تحریر: حمزہ ابراہیم

گذشتہ سے پیوستہ
بیسویں صدی کے اوائل میں  شیعہ مخالف تشدد:

پشتو کے عظیم شاعر غنی خان اپنی  کتاب ”پشتون“ کے دسویں باب  ”سیاست“ میں لکھتے ہیں: ”وادیٴ تیراہ میں سنی مسلمانوں کی ایک وسیع، متحرک اور نر آبادی ہے جبکہ ایک چھوٹی، ذہین اور چالاک شیعہ اقلیت بھی بستی ہے، دونو ں فرقے خالص آفریدی خون اور وجود کے مالک ہیں، وہ (برطانوی) ہند اور افغانستان کے بیچ میں آ گئے ہیں اور انھیں اسکی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے، جب (افغان بادشاہ) امان الله خان نے تھوڑا سر اٹھایا اور جیسا کہ وہ تھا، ایک لا پرواہ اور لاابالی پٹھان جو کود پڑتا ہو، گورے صاحبوں کو یہ پسند نہ آیا اور جب امان اللہ اپنی ملکہ کے ہمراہ یورپ کے مراکز ِ اقتدار میں ڈانس کر رہا تھا، حسد اور مہم جوئی نے بھوک اور جہالت اور مسیحی سونے کی چمک کے ساتھ مل کر افغانستان کے مرکزِ اقتدار میں تباہ کن لشکر کی شکل اختیار کر لی تھی۔ تیراہ کے شیعہ اپنے پڑوسیوں سے زیادہ ذہین تھے۔ امان الله کھلے ذہن کا آدمی اور اسلام کے مختلف فرقوں کو برداشت کرنے والا شخص تھا۔ تیراہ کے شیعہ اس سے محبت کرتے اور اسکی حمایت کرتے تھے۔ وہ جوان بادشاہ کی حمایت میں جنوب سے دفاعی لشکر بھیجنے کو تیار تھے۔ لیکن ٹھہرئیے! افغان مولویوں کی رنجش کے ساتھ ساتھ تیراہ میں بھی فصیح و بلیغ مولوی منظرِ عام پر آ ئے۔

لیکن وہ شیعوں کے بجائے سنیوں سے مخاطب تھے۔  اور ایسے میں جب افغانستان کی علم میں ڈوبی داڑھیاں اور بھاری پگڑیاں نوجوان بادشاہ کے غیر اسلامی، غیر پختون اور  ”عیسائی“ طور طریقوں کے خلاف تقدس  بھرے غیظ و غضب سے ہل رہی تھیں، تیراہ میں وہ شیعوں کے خلاف جنبش میں آئیں، جنہیں حضرت عثمان ذوالنورین کا قاتل قرار دیا گیا۔  عشاقِ عثمان کی اکثریت برطانوی ہندوستان کے سیٹلڈ  ایریاز (پختون شہری علاقوں) سے آئی تھی۔ شیعہ قتل کرنے والے کو  جنت اور حوروں کی نوید سنائی گئی۔ آفریدیوں نے اس پر کان دھرے۔ سونے اور حوروں کی پیشکش ان کیلئے بہت پر کشش تھی۔ انہوں نے اپنی رائفلیں سنبھالیں اور جنت کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ اس کے بعد جو ہوا وہ نہ صرف شیعوں، بلکہ مویشیوں اور درختوں کی خوفناک تباہی تھی۔ جن وادیوں میں شیعہ رہتے تھے، وہ ویران ہو گئیں۔ ان کے میوہ جات کے باغات کے بے شمار درخت کاٹ ڈالے گئے۔ سینکڑوں سال پرانے بادام اور چنار کے درخت  چلتی ہوئی آریوں کا شکار ہوئے۔ شیعہ ایسے تباہ ہوئے کہ انہیں امان الله خان کی حمایت کا خیال بھی بھول گیا۔

انہوں نے اپنے عقل کی قیمت اپنے خون اور آنسوؤں سے ادا کی، اور امان اللہ نے اپنی بصیرت کی قیمت اپنے تاج و تخت سے ادا کی۔ اپنی آزادی کے اظہار کی جرات کرنے کے جرم میں وہ اپنی واحد سلطنت سے اور افغانستان اپنے اکلوتے (صحیح معنوں میں) بادشاہ سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اور ایک ارمان کی مدد کرنے کے جرم میں شیعہ اپنے بچوں اور باغات سے محروم ہو گئے۔ ایک بے حس، زیرک اور موثر منصوبہ بندی کی مدد سے کیا گیا بے رحمانہ عمل!۔ میں یہ فیصلہ کرنا آپ پر چھوڑتا ہوں کہ اس خون ریزی، دہشت، سیاہی اور نفرت  سے کس نے فائدہ اٹھایا؟ یہ قبائلی علاقوں میں اس قسم کی ہزاروں داستانوں میں سے محض ایک داستان ہے۔ اسکا ایک ایک لفظ سچ ہے۔ کچھ سنیوں کو شاید پتا نہ ہو کہ کس نے ان کو استعمال کیا، لیکن شیعوں کو خوب معلوم ہے کہ ان پر کس نے ضرب لگائی۔ کچھ پختوں امان الله کو بچانے میں ناکام رہے، لیکن وہ جانتے ہیں کہ کیوں؟“ [9]۔ یہ مختصر کتاب ”دی پٹھان“ کے عنوان سے انگریزی میں ترجمہ بھی ہو چکی ہے۔ معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کا ایک پیمانہ اقلیت کا تقیہ کرنا ہے۔ اگر کمزور گروہ سے تعلق رکھنے والے لوگ انفرادی زندگی میں اپنا مذہب و مسلک یا دوسری شناخت چھپانے لگ جائیں تو یہ اس معاشرے میں ان کو برداشت نہ کئے جانے کی علامت ہوتی ہے۔

چنانچہ نارمن ہولسٹر اپنی کتاب "دی شیعہ آف انڈیا" کے صفحہ  181 پر لکھتے ہیں کہ: ”کچھ عشروں تک مردم شماری میں شیعہ اور سنی مسلمانوں کو الگ الگ گنا جاتا رہا۔ 1911ء اور 1921ء کی مردم شماری میں اکثر ریاستیں اور  صوبے شامل تھے، لیکن نتائج غیر تسلی بخش تھے۔ مثال کے طور پر 1921ء میں بہار اور اڑیسہ کی مردم شماری میں صرف تین ہزار سات سو افراد نے خود کو شیعہ ظاہر کیا، جبکہ مردم شماری کے سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ : یقینی بات ہے کہ یہ اعداد و شمار مکمل نہیں ہیں کیوں کہ بہت سے شیعوں نے اپنا مسلک ظاہر کرنے سے اجتناب برتا'۔ پٹنہ کی قانون ساز کونسل میں مردم شماری سے ایک دن پہلے ایک شیعہ رکن اسمبلی نے یہ اعلان کیا کہ شیعہ مسلکی بنیادوں پر اپنا الگ اندراج نہیں کروائیں گے۔ اس وقت لگائے گئے اندازے کے مطابق شیعہ آبادی  کم از کم سترہ ہزار، یعنی مردم شماری میں ظاہر ہونے والی تعداد سے پانچ گنا زیادہ تھی۔ پٹنہ شہر میں اندازہ دس ہزار کا تھا جبکہ مردم شماری میں صرف ایک ہزار افراد نے اپنا شیعہ ہونا ظاہر کیا۔ چنانچہ 1931ء اور 1941ء کی مردم شماری میں شیعوں کا الگ اندراج کرنے کی کوشش ترک کر دی گئی“۔

قیام پاکستان سے پہلے شمالی ہندوستان میں ہندو مسلم تصادم اتنا شدید نہیں تھا جتنا کانگریسی علماء کی کوششوں سے شیعہ سنی تصادم شدید کر دیا گیا تھا[10]۔  1940 میں ہی بات بم دھماکوں تک پہنچ چکی تھی۔ نارمن ہولسٹر اپنی کتاب "دی شیعہ آف انڈیا" کے صفحہ 178 میں لکھتے ہیں: "محرم میں شیعوں اور سنیوں کے درمیان جھگڑے معمول بن چکے ہیں۔ شہروں میں پولیس کو جلوس  کے ساتھ جانا پڑتا ہے، جلوس بھی مخصوص راستوں سے ہی گزر سکتا ہے۔  محض ایک دن کے اخبارات میں چھپنے والے یہ جملے معاملے کی سنگینی کا احساس دلاتے ہیں۔ ان سے پتا چلتا ہے کہ اگر حکومت حالات کو کنٹرول میں نہ رکھے تو کیا کچھ ہو سکتا ہے: 'مناسب اقدامات نے نا خوشگوار واقعات کو ہونے سے پہلے روک لیا'، 'محرم پر امن طریقے سے گزرا'، سب دکانیں بند رہیں تاکہ امن برقرار رہے' ، 'الہٰ آباد سے بیس کلو میٹر دور متعدد خواتین نے جلوس ِعزا کے سامنے ڈیرہ ڈال دیا، وہ اپنے علاقے سے جلوس گزرنے پر احتجاج کر رہی تھیں '، 'امن دشمنوں کی طرف سے متوقع فساد کو روکنے کیلئے پولیس نے مناسب اقدامات کئے'، 'مہندی کے جلوس پرپولیس کا  لاٹھی چارج، مسلمان محرم نہ منا سکے، تعزیہ کا جلوس برآمد نہ ہو سکا، ہندو اکثریت والے علاقوں میں کاروبار جاری رہا '، 'جلوسِ عزا پر بم حملہ'۔ 

اگرچہ اس قسم کے سب واقعات کی وجہ فرقہ وارانہ تعصب نہیں، لیکن اکثر واقعات کے پیچھے فرقہ واریت ہی ہے۔ برڈ ووڈ کے بقول بمبئی میں، جہاں ماہ محرم کے پہلے چار دن مختلف گروہ دوسروں کے تابوت خانوں میں جا کر سلام کرتے ہیں، خواتین اور بچوں سمیت لوگ وہاں جاتے ہیں، لیکن پولیس نے ہدایت کی ہے کہ سنیوں کو نہ آنے دیا جائے تاکہ کوئی دہشتگردی کا واقعہ نہ ہو جائے " [11]۔ مسلکی فتنہ انگیزی کے ساتھ ساتھ  کانگریس کے اتحادی علماء کی طرف سے جناح کے مسلک کو بنیاد بنا کر انکو سیاسی قیادت کیلئے نا اہل ثابت کرنے کی کوشش ہوتی تھی۔ لیکن عوام اپنے مفادات کو مسلکی اختلاف پر ترجیح دیا کرتے ہیں۔ مسلمان عوام یہ بھی جانتے تھے کہ ہندو مسلم الگ قومیت کے برعکس شیعہ سنی میں الگ ثقافت اور الگ جغرافیائی وحدت کا سوال نہیں ہے۔ کانگریسی علماء اپنے کمزور سیاسی پروگرام اور تحریک خلافت میں ہونے والی حماقتوں کی تاریخ کی وجہ سے مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ مسلم لیگ مسلمان عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہی کہ شیعہ سنی فساد بھڑکانے سے کانگریس کا مقصد مسلمانوں کے آئینی حقوق کے معاملے کو پس پشت ڈالنا ہے۔

جنگ عظیم دوم کے دوران آزادی کی تحریک نے سب کو اپنی طرف متوجہ کر لیا تو شیعہ مخالف تشدد میں کافی کمی آ گئی لیکن پاکستان بننے کے بعد شیعوں پر حملے دوبارہ شروع ہو گئے تھے[12]۔ جس میں ”تنظیمِ اہلسنت“ اور ”مجلسِ احرار“ کا وہی کردار تھا جو نوے کی دہائی میں سپاہِ صحابہ کے عنوان سے اور آج کل اہلسنت و الجماعت کے لیبل سے  پیش کیا گیا ہے۔ لکھنو کے شیعہ سنی فسادات کے معمار، جعلی سیکولر نیشنلسٹ،  مولانا حسین احمد مدنی کے شاگرد ہجرت کر کے پاکستان آ گئے اور شہر بہ شہر فسادات بھڑکائے۔ ان شاگردوں میں مولانا نورالحسن بخاری، مولانا عبدالستار تونسوی، مولانا سرفراز گکھڑوی، مولانا دوست محمد قریشی، مولانا مفتی محمود وغیرہ شامل ہیں۔ 1949ء میں چوٹی زیریں اور 1950ء میں نارووال میں محرم کے جلوس پر حملے ہوئے۔  1955ء میں پنجاب میں پچیس مقامات پر عزاداری کے جلوسوں اور امام بارگاہوں پر حملے کیے گئے، جن میں سینکڑوں لوگ زخمی ہوئے۔ اسی سال کراچی میں ایک مولانا صاحب نے افواہ اڑائی کہ شیعہ ہر سال ایک سنی بچہ ذبح کر کے نیاز پکاتے ہیں، اس افواہ کے زیر اثر کراچی میں ایک بلتی امامبارگاہ پر حملہ ہوا اور بارہ افراد شدید زخمی ہو گئے۔

1957ء میں ملتان کے ضلع مظفر گڑھ کے گاؤں سیت پور میں محرم کے جلوس پر حملہ کر کے تین عزاداروں کو قتل کر دیا گیا۔ جون 1958ء میں بھکر میں ایک شیعہ خطیب آغا محسن ؒکو قتل کر دیا گیا۔ قاتل نے اعترافی بیان میں کہا کہ تنظیم اہلسنت کے مولانا نور الحسن بخاری کی تقریر نے اس کو اس جرم پر اکسایا تھا، جس میں شیعوں کو قتل کرنے والے کو غازی علم دین شہید سے نسبت دی گئی تھی اور جنت کی بشارت دی گئی تھی۔ 3 جون 1963ء کو بھاٹی دروازہ لاہور میں عزاداری کے جلوس پر پتھروں اور چاقوؤں سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں دو عزادار قتل اور سو کے قریب زخمی ہوئے۔ اس سال دہشت گردی کی بدترین واردات سندھ کے ضلعے خیر پور کے گاؤں ٹھیری میں پیش آئی، جہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق عاشورا کے دن 120 عزاداروں کو کلہاڑیوں اور تلواروں کی مدد سے ذبح کیا گیا[12]۔

دو سو سالہ مسئلہ:

مذہب کی بنیاد پر قتل کرنے والوں کے لیبل بدلتے رہے ہیں، لیکن فکر وہی سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کی ہے۔ وہ معاشرے میں اپنے مخالفین کا قتل عام کر کے ایک یو ٹوپیا قائم کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ شاہ اسماعیل دہلوی لکھتے ہیں: "آن جناب (سید احمد بریلوی) کی اطاعت تمام مسلمانوں پر واجب ہوگئی ہے۔ جس کسی نے آں جناب کی امامت قبول کرنے سے انکار کیا تو وہ باغی ہے، اس کا خون حلال ہے اور اس کا قتل کفار کے قتل کی طرح عین جہاد ہے اور اس کی ہلاکت تمام اہل فساد کی ہلاکت کہ یہی اللہ کی مرضی ہے۔ چوں کہ ایسے اشخاص کی مثال حدیثِ متواترہ کی رو سے جہنم کے کتوں اور ملعون شریروں جیسی ہے۔ یہ اس ضعیف کا مذہب ہے، پس اس ضعیف کے نزدیک اعتراض کرنے والوں کے اعتراض کا جواب تلوار کی ضرب ہے"[13]۔ اگرچہ دنیائے عرب میں داعش نے اب ظہور کیا ہے، لیکن ہمارے علاقے کے لوگ دو سو سال سے اس مصیبت میں مبتلا ہیں۔ اس وقت سے جب نہ حجاز میں سعودی عرب تھا نہ امریکا سپر پاور بنا تھا۔ یہ کہنا کہ یہ بیرونی قوتوں کی سازش ہے، اور افغان جہاد سے پہلے اس علاقے میں ایسا کچھ نہ تھا، دراصل غلط جگہ پر نشانہ لگانا ہے۔ بیرونی ہاتھوں پر ذمہ داری ڈالنے کا مطلب ہے کہ ہم خود کچھ نہیں کر سکتے۔ اس سوچ کو بدل کر اس مسئلے کی مقامی حیثیت کو تسلیم کرکے اس کے حل کی ذمہ داری قبول کرنے اور اپنی آنے والی نسلوں کو صحیح صورت حال سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ جب مرض کی تشخیص ٹھیک ہو جائے تو علاج بھی ہو جایا کرتا ہے۔

حوالہ جات:

[1]. Zaidi, “Covering Faith–Based Violence: Structure and Semantics of News Reporting in Pakistan”, in: J. Syed, E. Pio, T. Kamran, A. Zaidi (eds), Faith Based Violence and Deobandi Militancy in Pakistan. Palgrave Macmillan, London, (2016).

[2]. ڈاکٹر مبارک علی، ”المیہٴ تاریخ“، باب9، 10؛صفحات82، 95۔105؛فکشن ہاؤس لاہور، (2012)۔

[3]. Charles Allen, "God's Terrorists: The Wahhabi Cult and the Hidden Roots of Modern Jihad", pp. 63–64, Abacus, (2006).

[4]. Metcalf, “Islamic revival in British India: Deoband, 1860–1900”, p. 58, Princeton University Press (1982(

[5]. ڈاکٹر مبارک علی، ”المیہ ٔتاریخ“، باب 11،صفحات 107 ۔ 121، فکشن ہاؤس لاہور، (2012).

[6]. مرتبہ خواجہ احمد فاروقی، ’’دہلی اردو اخبار ‘‘، 22 مارچ 1840ء، شائع کردہ شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی، جمال پرنٹنگ پریس دہلی،( 1972)۔

[7]. کنہیا لال، ”تاریخ لاہور“، صفحہ 305، وکٹوریہ پریس لاہور، (1884)۔

[8]. مولوی نور محمد چشتی، ”یادگارِ چشتی“، مرتبہ گوہر نوشاہی، صفحہ 237، مجلسِ ترقیٴ اردو ادب، لاہور، مطبوعہ (1859)

[9]. Khan Abdul Ghani Khan, “The Pathans”, pp. 48 – 49.

[10]. V. Dhulipala, “Rallying the Qaum: The Muslim League in the United Provinces, 1937–1939”. Modern Asian Studies, 44(3), 603–640, (2010).

[11]. Hollister, " The Shia of India", p–178, Luzac and Company Ltd, London (1953)

[12]. Andreas Rieck, "The Shias of Pakistan: An Assertive and Beleaguered Minority"; pp. 94 – 97, 110; Oxford University Press, (2016).

[13]. مکاتیبِ سید احمد شہید، مخطوطہ عکسی ایڈیشن، صفحہ 75۔
خبر کا کوڈ : 823800
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب