0
Sunday 20 Oct 2019 21:30

امام حسین (ع) کو کس کے حکم پر قتل کیا گیا؟

امام حسین (ع) کو کس کے حکم پر قتل کیا گیا؟
تحریر: عالیہ شمسی

میری حیرت کی انتہا نہ رہی، جب میں نے یہ سنا کہ مفتی منیب الرحمان جیسا شخص یہ کہہ رہا ہے کہ مجھے کسی کتاب میں اس کا حوالہ نہیں ملا کہ امام حسین علیہ السلام کے قتل کا حکم یزید نے دیا تھا۔ جو بندہ رویت ہلال کمیٹی کا چیئرمین ہونے کے ساتھ ساتھ تنظیم المدارس کا اور دارالعلوم نعیمیہ کراچی کا صدر بھی ہو، جناح یونیورسٹی میں پروفیسر بھی ہو اور گذشتہ تین عشروں سے گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کے طلبہ اور طالبات کو تفسیر، حدیث اور اور فقہ کی تعلیم دیتا ہو، کیا وہ اتنا بڑا جاہل ہوگا، جسے اتنا بھی نہیں پتہ کہ امام حسین علیہ السلام کے قتل کا حکم کس نے دیا تھا۔؟ یہ یزیدی ٹولے کی بہت بڑی سازش ہے، یہ مفتی نہیں بلکہ اس کی زبان میں کوئی اور بول رہا تھا۔ یزیدی ٹولہ آج بھی یہ کہتے نہیں تھکتا کہ امیر یزید بن معاویہ بے گناہ ہے، وہ قتل حسین میں ملوّث نہیں، جبکہ محدثین کرام لکھتے آرہے ہیں کہ یزید پلید ہی نے امام کے قتل اور ان کے ساتھ لڑائی کے احکامات جاری کیے تھے۔

یزید نے کوفہ کے گورنر کو لکھا تھا کہ حسین نے تیرے شہر میں آنے کو منتخب کیا ہے، اب یہ تیرے اوپر منحصر ہے کہ تو آزاد زندگی گزارنا چاہتا ہے یا غلامی کی زندگی، اور کوفہ کے گورنر ملعون ابن زیاد نے اپنی زندگی گزارنے کے لیے امام کو قتل کرکے سر یزید کے پاس بھیج دیا۔ ذیل میں حوالہ جات ملاحظہ کیجیے:
امام ذهبی لکھتے ہیں کہ: "خرج الحسين إلي الكوفة، فكتب يزيد إلي واليه بالعراق عبيد الله بن زياد: إن حسينا صائر إلي الكوفة، وقد ابتلي به زمانك من بين الأزمان، وبلدك من بين البلدان، وأنت من بين العمال، وعندها تعتق أو تعود عبدا. فقتله ابن زياد وبعث برأسه إليه" امام حسینؑ نے جب کوفے کی طرف حرکت کی تو یزید نے والی عراق عبيد الله بن زياد کو لکھا کہ حسین کوفے کی طرف جا رہا ہے، اس نے دوسرے شہروں کی بجائے آنے کے لیے تمہارے شہر کا انتخاب کیا ہے، تم میرے قابل اعتماد ہو، پس تم خود فیصلہ کرو کہ تم نے آزاد رہ کر زندگی گزارنی ہے یا غلام بن کر۔ اس پر ابن زیاد نے حسین کو قتل کیا اور اس کے سر کو یزید کے لیے بھیجا۔ (شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان الذهبي الوفاة: 748هـ، تاريخ الإسلام ج 5 ص 10 دار النشر: دار الكتاب العربي - الطبعة: الأولى، تحقيق: د. عمر عبد السلام تدمرى محمد بن أحمد بن عثمان بن قايماز الذهبي أبو عبد الله الوفاة: 748، سير أعلام النبلاء ج 3 ص 305 دار النشر: مؤسسة الرسالة - بيروت - التاسعة، تحقيق : شعيب الأرناؤوط , محمد نعيم العرقسوسي)

یہی بات ابن عساکر  نے بھی نقل ہے ہے: تاريخ دمشق، ج 14، ص 213 ـ و در حاشيه بغية الطالب، ج 6، رقم 2614.تاريخ دمشق، ج 14، ص 213 ـ و در حاشيه بغية الطالب، ج 6، رقم 2614.
علامہ جلال الدین سيوطی نے بھی لکھا ہے کہ: "فكتب يزيد إلي واليه بالعراق، عبيد الله بن زياد بقتاله" يزيد نے عبيد الله بن زياد کہ جو والی عراق تھا، کو امام حسین (ع) کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا۔ (تاريخ الخلفاء، ص 193، چاپ دار الفكر سال 1394 هـ. بيروت)
ابن زياد نے مسافر بن شريح يشكری کو لکھا کہ: "أما قتلي الحسين، فإنه أشار علي يزيد بقتله أو قتلي، فاخترت قتله" میں نے حسین کو اس لیے قتل کیا ہے کہ مجھے حسین کے قتل کرنے یا خود مجھے قتل ہونے کے درمیان اختیار دیا گیا تھا اور میں نے ان دونوں میں سے حسین کو قتل کرنے کو انتخاب کیا۔ (الكامل في التاريخ، ج 3، ص 324. لابن اثیر)

ابن زياد نے امام حسين (ع) کو خط لکھا کہ: "قد بلغني نزولك كربلاء، وقد كتب إلي أمير المؤمنين يزيد: أن لا أتوسد الوثير، ولا أشبع من الخمير، أو ألحقك باللطيف الخبير، أو تنزل علي حكمي، وحكم يزيد، والسلام" "مجھے خبر ملی ہے کہ تم کربلا میں پہنچ گئے ہو اور یزید نے مجھے کہا ہے کہ بستر پر آرام سے نہ سوؤں اور پیٹ بھر کر کھانا نہ کھاؤں، مگر یہ کہ یا تم کو خدا کے پاس روانہ کر دوں یا تم کو یزید کی بیعت کرنے پر راضی کروں۔" اتنے حوالہ جات کے باوجود بھی اگر کسی کو سمجھ نہ آئے تو اسے چلو بھر پانی لے کر ڈوب مرنا چاہیئے، خاص طور مفتی منیب اور اس کے حواریوں کو تو شرم سے ہی مر جانا چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 824270
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب