0
Monday 28 Oct 2019 09:09

دہشتگردی کا نیا امریکی ورژن کیا ہوگا۔؟

دہشتگردی کا نیا امریکی ورژن کیا ہوگا۔؟
رپورٹ: ایس اے زیدی
 
امریکی حکام کی جانب سے باقاعدہ طور پر تصدیق کر دی گئی ہے کہ دہشتگردوں کی تنظیم داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو شام میں ایک امریکی کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا گیا ہے۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو شام میں امریکی فوج نے ایک آپریشن میں ہلاک کر دیا۔ واشنگٹن میں میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ فوج نے ایک کمپاﺅنڈ میں تقریباً 2 گھنٹے تک کارروائی کی اور مشن کی تکمیل کے بعد انتہائی حساس مواد اور معلومات جمع کی گئیں، جو داعش کے مستقبل کے منصوبوں سے متعلق تھیں۔ گذشتہ ماہ ہم نے اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن کو مارا، جو لوگوں، ہمارے ملک اور دنیا کے بارے میں برے ارادے رکھتے تھے، لیکن اب ہم نے انہیں مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ بغدادی میرے صدر بننے سے قبل بڑے عرصے سے سرگرم تھے، لیکن امریکا کے کمانڈر انچیف کی حیثیت سے میرے احکامات تھے کہ ان کا مکمل خاتمہ کیا جائے اور ایک مرتبہ یاد دہانی کراتے ہیں کہ ہم داعش کے باقی ماندہ دہشت گردوں کا پیچھا کریں گے۔ کارروائی میں تعاون کرنے والے ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی صرف دوسرے ممالک اور لوگوں کی مدد سے ممکن ہوسکی، جس کا اعتراف ضروری ہے۔
 
قبل ازیں میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ ابوبکر البغدادی کو شام میں کارروائی کے دوران مارا گیا، تاہم باقاعدہ اعلان امریکی صدر کی جانب سے متوقع تھا۔ ایک امریکی عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا تھا کہ ابوبکر البغدادی کو رات گئے ایک چھاپے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایک اور عہدیدار کا کہنا تھا کہ ابوبکر البغدادی کو شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں مارا گیا، تاہم داعش کے سربراہ کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کرسکتے، کیونکہ اس حوالے سے مزید کوئی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ عراق اور شام کے وسیع علاقے پر داعش نے جون 2014ء میں قبضہ کرکے اپنی حکومت کے قیام کا اعلان کر دیا تھا۔ داعش نے اپنی حکومت کو الدولت الاسلامیہ کا نام دیا تھا جبکہ ابوبکر البغدادی نے خلیفہ ہونے کا اعلان کیا تھا، اس کے بعد متعدد مرتبہ ابوبکر البغدادی کے زخمی اور ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آتی رہیں، تاہم کبھی ان خبروں کی تصدیق نہ ہوسکی تھی۔ مارچ 2017ء میں یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ابوبکر البغدادی امریکا کی اتحادی افواج کی مدد سے عراقی فورسز کی جانب سے موصل میں شروع کیے گئے آپریشن کے دوران مبینہ طور پر فرار ہوگیا ہے جبکہ اس نے فرار ہونے سے قبل موصل جنگ کی کمانڈ مقامی کمانڈر کے سپرد کر دی تھی۔ بعد ازاں جون 2017ء میں روس کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا تھا کہ شام کے شہر رقہ میں روسی فضائیہ کی بمباری میں داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کی اطلاعات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

عراقی وزارت داخلہ کے حکام نے 13 فروری 2018ء کو دعویٰ کیا تھا کہ عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی زندہ ہیں اور ایک فضائی کارروائی میں زخمی ہونے کے بعد وہ شام کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ 2014ء میں خبریں آئی تھیں کہ لبنان میں ایک خاتون اور ایک بچہ قید ہیں، جن کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ ابوبکر البغدادی کی اہلیہ اور بچہ ہے۔ اپریل 2019ء میں امریکا نے شام، افغانستان سمیت دیگر ممالک میں پرتشدد کارروائیوں میں سرگرم دہشت گرد تنظیم داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر اڑھائی کروڑ ڈالر (3 ارب 54 کروڑ 15 لاکھ روپے) کا انعام مقرر کیا تھا۔ اسی دوران ابوبکر البغدادی 5 سال میں پہلی مرتبہ ایک ویڈیو میں منظر عام پر آیا تھا، خیال رہے کہ گذشتہ برس جولائی میں داعش کی جانب سے قرار دیا گیا تھا کہ ان کے سربراہ ابوبکر البغدادی کے بیٹے شامی فوج سے لڑتے ہوئے ہلاک ہوگئے۔ ابوبکر البغدادی کے بیٹے کی ہلاکت کی خبر تنظیم کے سوشل میڈیا اکاﺅنٹ پر سامنے آئی تھی، جس میں ایک نوجوان کی تصویر، جس کے ہاتھ میں رائفل تھا، بھی شیئر کی گئی اور اس کا نام حذیفہ البدری بتایا گیا۔ داعش سے قبل دہشتگردی کی دنیا میں القاعدہ کا سکہ چلتا تھا اور اس تنظیم کو دہشتگردی کی دنیا کی سب سے خطرناک تنظیم کہا جاتا تھا، تاہم ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی امریکی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت آج تک ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔
 
القاعدہ کا خالق بھی امریکہ کو ہی مانا جاتا ہے، اس دہشتگرد تنظیم نے ہمیشہ وہ کام کئے، جو امریکہ کے مفاد میں ہوتے تھے، وہ ملک جہاں امریکہ حملہ آور ہونا چاہتا تھا، القاعدہ وہاں اسے جواز فراہم کرتی اور امریکی فوجی وہاں اتار دیئے جاتے، جس کی واضح مثال افغانستان ہے۔ القاعدہ کی کمزور ہوتی ساکھ کیوجہ سے امریکہ اس سے بھی خطرناک ایک ایسے گروہ کی ضرورت کو شدت سے محسوس کر رہا تھا کہ جو انسانیت سے بالکل عاری ہو، کیونکہ طالبان کی متشدد کارروائیوں میں دھماکے کرنا شامل تھا، انسانوں کے گلے کاٹنا القاعدہ کی دریافت تھا، اس کے بعد داعش کو ایک ایسے گروہ کی صورت میں متعارف کرایا گیا، جو کہ ان سے بھی دو ہاتھ آگے تھا۔ بم دھماکوں اور انسانوں کے گلے کاٹنے سے بڑھ کر زندہ انسانوں کو بموں سے اڑانا، بچوں اور خواتین کا بے رحم قتل، مخالفین کو زندہ جلانا، ان کے جسم کے اعضاء کاٹنا اور ان کی ویڈیوز بنانا، خانہ کعبہ جیسے معتبر مقام تک پر حملے کی دھمکی جیسے اقدامات ایسے تھے، جو داعش کو طالبان اور القاعدہ سے بھی زیادہ خطرناک ثابت کر رہے تھے، اس کے علاوہ داعش کا میڈیا سسٹم القاعدہ سے خاصا مضبوط اور فعال تھا، علاوہ ازیں داعش دہشتگردی کی دنیا کی سب سے مالدار تنظیم سمجھی جاتی ہے، ان تمام تر خصوصیات اور انفرادیت کی وجہ یہ تھی کہ داعش کے ذریعے اس کے خالق امریکہ اور اسرائیل اپنے وہ مفادات حاصل کرنا چاہ رہے تھے، جو سابقہ دہشتگرد تنظیموں سے حاصل نہ کرسکے تھے۔
 
 عراق اور پھر شام میں داعش کو ایران کی سربراہی میں مقاومتی بلاک نے بری طرح سے شکست دی اور امریکہ کی تمام تر امیدوں پر پانی پھیر دیا گیا، دراصل اس تنظیم کی تخلیق کا مقصد ہی خطہ میں ایران اور اس کے اتحادیوں کو نہ صرف کمزور کرنا بلکہ اندرونی طور پر تباہ کرنا تھا۔ تاہم عراق میں امریکی و صہیونی عزائم اپنی تمام تر توقعات کے برعکس ناکام ہوئے، اس کے بعد شام میں تمام تر بدلہ لینے کی امریکی خواہش بھی پوری نہ ہوسکی اور اس تنظیم کو امریکہ، اسرائیل اور ترکی کی سپورٹ کے باوجود شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ توقع یہی کی جا رہی تھی کہ شام سے نکلنے کیلئے امریکہ جلد ابوبکر بغدادی کی ہلاکت کا دعویٰ کرے گا، جیسا کہ افغانستان سے نکلنے کیلئے اسامہ کی ہلاکت کیلئے ایبٹ آباد آپریشن کیا گیا، تاکہ ایک طرف اپنی ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کا ڈھونگ رچا سکے اور دوسری جانب انخلا کا باعزت راستہ تلاش کرسکے۔ تاہم ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کے بعد اور سابقہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے توقع یہی کی جا رہی ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حکومتیں جلد دہشتگردی کا ایک نیا ورژن متعارف کرائیں گی، جو کہ حسب سابق اسلامی لبادہ میں ہوگا، تاہم شدت اور انتہاء پسندی میں شائد داعش سے بھی ایک قدم آگے ہو۔
خبر کا کوڈ : 824284
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب