0
Sunday 27 Oct 2019 21:42

پھر مدینے میں ہونا کیسا ہوتا ہے۔۔۔۔!

پھر مدینے میں ہونا کیسا ہوتا ہے۔۔۔۔!
تحریر: بنت الہدیٰ
 
کتاب کھولتے ہی صفحے پر موجود یہ ہیڈنگ ہی قاری کو اپنے ساتھ شہر نبوی لے جانے کے لئے کافی ہے۔ مگر آج میرا دل چاہ رہا ہے کہ مستنصر حسین تارڑ صاحب کی کتاب سے اس ہیڈنگ کو تبدیل کر دوں اور اسے یوں لکھوں۔۔۔
*"مدینے میں ہوتے ہوئے اپنے جد کے پہلوں میں نہ ہونا کیسا ہوتا ہے!!"*
آیا اس پردرد احساس کو لفظوں میں پرویا جاسکتا ہے۔۔۔؟
کہ جب نانا رسول خدا (ص) منتظر ہوں اور نواسے کی میت کو زخمی حالت میں پلٹا دیا جائے۔۔۔
آہ۔۔ حتماً آل رسول (ص) کا بعد از رسول (ص) مدینے میں ہونا کرب و اذیت سے خالی نہیں۔۔۔
یہ خاکی وجود مدینے میں نہ ہوتے ہوئے بھی گنبد خضراء کو جنت البقیع کی سمت حسرت و یاس سے تکتا ہوا دیکھ سکتا ہے۔
 
گنہگار سماعتیں مسجد نبوی کے میناروں سے اٹھنے والی ہر اس فریاد کو سن سکتی ہیں، جنہیں کربلا کی سمت رخ کرکے بلند کیا جاتا ہے۔
کہ اے زواروں! اے حسین (ع) کے عزاداروں! غریب الوطن کے لئے پیادہ روی کرنیوالے مھدی (عج) کی ہمراہی کے خواہشمندوں۔۔
چند قدم قبر رسول (ص) سے بقیع کی جانب بھی چل کر دیکھو۔۔۔
کہ آج کی شب مدینہ الرسول (ص) منتظر ہے
سیاہ احرام میں لپٹے عزاداروں کا
جو باب سلام سے چلتے ہوئے باب جبرائیل اور وہاں سے بقیع کی سمت بڑھتے چلے جاتے ہو۔
کچھ اس انداز میں کہ عزاداروں کی واحسنا اور واحسینا کی فلک شگاف صداوں سے مسجد نبوی کا ہر اک ستون گونج اٹھے۔۔!
 
ممکن ہے یہ احساسات تحریری مبالغہ کہلائے، مگر یہ سچ ہے
کہ مدینے میں نہ ہوتے ہوئے بھی مدینہ والوں کے دکھ کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔۔۔
چاچا جی آگے لکھتے ہیں کہ اکازا کے مطابق
"غرناطہ میں ہونا اور آنکھوں سے محروم ہونا۔۔ زندگی میں اس سے بڑی اذیت کوئی نہیں۔۔۔"
مدینے میں ہونا اور بینائی ہوتے ہوئے زیارت سے محروم ہونا ایک اذیت ہے،
مگر آل رسول (ص) کو ملنے والے زخم اس کرب سے شدید گہرے ہیں۔۔
کہ مدینے میں ہوتے ہوئے بھی اپنے جد سے دور کھلے آسمان تلے خاک اور پتھروں کے درمیان ہونا۔۔۔ اس سے بڑھ کر اذیت کیا ہوسکتی ہے!!
مدینہ میں ہوتے ہوئے اپنے جد (ص) کے پہلوں میں نہ ہونا ایسا ہی ہے۔۔۔۔!!
خبر کا کوڈ : 824315
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب