9
Monday 28 Oct 2019 18:41

لبنان میں جاری احتجاج پر ایک نظر

لبنان میں جاری احتجاج پر ایک نظر
تحریر :  محمد سلمان مہدی

ظاہراً  لبنان بھی عراق کی طرح احتجاج کی لپیٹ میں ہے۔ مگر ظاہری یکسانیت کی تہہ میں جھانکیں تو لبنان کی صورتحال پر مومن خاں مومن کا یہ شعر صادق آتا ہے۔ 
الجھا ہے یار پاؤں کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

امریکی بلاک مغربی ذرایع ابلاغ کو استعمال کرکے پروپیگنڈا کی جنگ تو کامیابی سے لڑرہا ہے۔ مگر زمینی حقیقت فیک نیوز سے تبدیل ہونے والی نہیں۔ بس اتنا ہے کہ وہاں کی اصل صورتحال دنیا سے کسی حد تک چھپانے میں کامیاب رہا ہے۔ لیکن قدرت خدا کی کہ امریکی بلاک خود اپنی غلط حکمت عملی کے جال میں پھنس گیا ہے۔ لبنان میں عوام سڑکوں پر جمع ہوئے۔ کیونکہ لبنان میں ایک طویل عرصے سے شہری سہولیات کا فقدان تھا۔ بے روزگاری اور مہنگائی نے لبنانی عوام کی زندگی جہنم بناکر رکھ دی تھی۔ بعض اہم شخصیات اور انکے خاندان امیر ترین بنتے چلے گئے۔

یقینا کرپشن کی وجہ سے ایسا ہوا۔ لبنانیوں کا احتجاج غیر سیاسی تھا۔ کرپٹ (بدعنوان)  عناصر کے خلاف تھا۔ مطالبات جائز تھے۔ لیکن اس احتجاج کو سیاسی گروہوں نے اپنے اپنے مفاد کے لئے ہائی جیک کرنا چاہا۔ جوں ہی وہ اس غیر سیاسی عوام احتجاج میں کودے، یہ پرامن احتجاج متشدد ہوتا چلاگیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ لبنان مفلوج ہوکر رہ گیا۔ شاہراہیں بند، کاروبار زندگی معطل، بینک بند، بازار بند، تعلیمی ادارے بند، جلاؤ، گھیراؤ، پتھراؤ، فائرنگ۔ یہاں تک تو ان مظاہروں میں عراق کے احتجاج سے مماثلت پائی جاتی ہے۔ مگر، یہاں امریکی بلاک بہت بڑی مشکل میں پھنس گیا ہے۔ امریکی بلاک یعنی امریکی قیادت میں جمع بعض مغربی ممالک جن میں سرفہرست فرانس ہے۔ اس بلاک میں فلسطین کی غاصب جعلی ریاست اسرائیل بھی ہے تو عرب ممالک میں سے سعودی عرب سب سے زیادہ فعال ہے۔ ویسے بھی لبنان میں امریکی بلاک میں شامل چار کا یہ ٹولہ ہی لبنان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت کی ایک تاریخ رکھتا ہے۔ 

فرض کریں کہ لبنان کے مسائل کی بنیادی وجہ اسکا سیاسی نظام ہے۔ تو بھی، اس غیر عادلانہ سیاسی نظام کو کس نے مسلط کیا؟  فرانس اور سعودی عرب دونوں اس خراب سیاسی نظام کے ذمے دار ہیں۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ اور اگر لبنان کی حکمران شخصیات اس عرب ملک کی اقتصادی مشکلات کے ذمے دار ہیں۔ تو بھی، یہ حکمران شخصیات امریکی بلاک کے کسی نہ کسی ملک کی لاڈلی رہی ہیں۔ یہاں فرانس، سعودی عرب اور امریکا کے لاڈلے بھی ہیں۔ یہاں سمیر جعجع جیسے مارونی اسرائیل کے کھلے اور اعلانیہ اتحادی رہ چکے ہیں۔ تو امریکی قیادت میں جمع یہ غیر ملکی ایکٹرز کس طرح لبنان کے بحران سے بری الذمہ قرار پائیں گے!۔ اگر بات حزب اللہ کی کی جائے تو اسکے کسی سیاستدان پر کرپشن کا الزام نہیں ہے۔ اگربات لبنان کی نیشنل سیکیورٹی کی کی جائے تو لبنان کا دشمن نمبر ایک اسرائیل ہے۔ لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے میں اسرائیل کے نام کے ساتھ لاحقہ یا سابقہ کے طور پر دشمن بھی ساتھ ہی تحریر ہوتا ہے۔

لبنان کے شبعا فارمز پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔آئے دن اسرائیلی جنگی طیارے اور ڈرون لبنان کی جغرافیائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔آج جب امریکا، برطانیہ، فرانس سمیت امریکی بلاک لبنان میں احتجاج کی حمایت میں بیان دے رہے ہیں۔ تو وہ اس سوال کا جواب بھی دے دیں کہ لبنان کی آزادی و خود مختاری پر حملہ آور اسرائیل کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے۔ اگر وہ لبنان کے دوست ہیں تو لبنان کی آزادی و خود مختاری پر حملہ آور اسرائیل کو مٹاکر رکھ دیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بتائیں لبنانی حدود کی خلاف ورزی جو انٹرنیشنل لاء کی خلاف ورزی پر مبنی ہے، اسکے خلاف اقوام متحدہ کارروائی کرنے سے کیوں گریزاں ہے؟۔ یہ سوال اپنی جگہ، لبنان میں مالی بدعنوانی کے خلاف احتجاج کی بات کرتے ہیں۔ گذشتہ بدھ کے روز لبنان کے سابق وزیر اعظم نجیب میقاتی پر مالی بدعنوانی کے مقدمات کی سماعت ہوئی۔ انہیں لبنان کا امیر ترین آدمی کہا جاتا ہے۔ انکے بیٹے، بھائی اور ان کے قریبی دیگر افراد پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ اس ملک کی سیاسی تاریخ سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ نجیب میقاتی بھی سعودی بادشاہت کے لاڈلے ہیں۔

موجودہ وزیر اعظم سعد حریری بھی سعودی عرب کے کوٹہ پر ہیں بلکہ انکے پاس سعودی شہریت بھی ہے۔ سعد حریری کی سعودیہ میں قائم کمپنی دیوالیہ ہوچکی ہے۔ حریری کی تعمیراتی سعودی اوجیھ کمپنی میں پاکستانی ملازمین بھی ہوا کرتے تھے۔ اور انکے بقایا جات بھی واجب الادا ہیں۔ لیکن یہی سعد حریری جو ملازمین کو تنخواہیں نہیں دے سکا، اس نے بدنام زمانہ کینڈس وان ڈر مرو کو گرل فرینڈ بنایا۔ جنوبی افریقہ کی اس ماڈل کو ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر اسی سعد حریری نے دیے تھے۔ جب یہ سعودی ڈکٹیشن پر عمل نہیں کرتا تب تو اسے سعودیہ بلاکر ذلیل کیا جاتا ہے۔ وہاں سے اسے فرانس کا صدر چھڑاکرلے جاتا ہے۔ تو سعد حریری یا نجیب میقاتی جیسے کرپٹ افراد کو لبنان کا وزیر اعظم بنوانے پر مصر امریکی بلاک کس طرح لبنان کے مسائل کا ذمے دار نہیں ہے!!؟۔ یہ محض مثال کے طور پر بیان کیا ہے۔  ورنہ لبنان کے مسائل کی جڑ سائیکس پیکو معاہدہ تھا۔ یہ برطانیہ اور فرانس سامراج کی بندر بانٹ کا شاخسانہ تھا۔ سامراجی بٹوارے میں یہ ملک فرانس کے حصے میں آیا۔

کنفیشنل سیاسی نظام کے تحت اس ایک نیشن اسٹیٹ کے اندر مختلف ادیان و مسالک کی تقسیم کو گہرا کیا گیا۔ اور انکو لڑاؤ اور تقسیم کرو کے فارمولے کے تحت تباہ کیا جاتا رہا۔ کیونکہ زایونسٹ اسرائیل کے پڑوس میں کوئی عرب ملک مضبوط نہ ہوسکے۔ 1978 اور 1982ع میں اسرائیل نے لبنان پر یلغار کی۔ لبنان کے اندر گھس کر قبضہ کرکے لبنانیوں اور فلسطینیوں کا قتل عام کیا۔ 1978ع میں ایران میں اسرائیل کے دوست شاہ ایران کی حکومت تھی۔ اور 1982 میں تو انقلابی ایران کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ کیونکہ امریکی بلاک کی شہہ پر صدام ایران پر چڑھ دوڑا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کس کس بات کا الزام ایران پر لگاکر عوام کو گمراہ کیا جاسکتا ہے؟ یہ وہ سامنے موجود حقیقت ہے جسے جھٹلایا ہی نہیں جاسکتا۔ زمینی حقائق کے پیش نظرجو نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے، وہ یہ ہے کہ موجودہ احتجاجی لہر سے ایرانی بلاک کسی مشکل میں نہیں آیا۔ بلکہ خودامریکی بلاک نے ایک ناکام خود کش سیاسی حملہ کیا ہے۔

امریکی بلاک کی پالیسی برائے لبنان کیا ہے؟۔ سارے لبنانی اسٹیک ہولڈرز کو حزب اللہ کے خلاف کردینا، حزب اللہ کو ریاستی اداروں سے مکمل مائنس کردینا، سیکیورٹی اداروں اور خاص طور پر لبنان کی آرمی کو حزب اللہ کے خلاف کردینا۔ بڑے بڑے خوش نما بیانات دیے جاتے رہے۔ یہ ظاہر کیا جاتارہا کہ لبنان کی فوج کو امریکی بلاک مدد فراہم کررہا ہے۔ حزب اللہ کو ریاست کے اندر ریاست قرار دے کر غیر مسلح کرنے کی بات کی جاتی رہی۔ یہ امریکی بلاک کی پالیسی تھی۔ مگر آج جب لبنان میں نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا ہے تو لبنان کی اسی فوج کو، سیکیورٹی اداروں کو امن و امان قائم کرنے کے لئے، لبنانیوں کی معمول کی سرگرمیوں کو بحال کرنے کے لئے ایکشن لینا پڑ رہا ہے۔ جگہ جگہ لبنان کی آرمی پر فائرنگ کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ صدر میشال عون اور وزیر خارجہ جبران باسل کی فری پیٹریاٹک موومنٹ پر بھی مظاہرین نے حملوں کا الزام لگایا ہے۔ حزب اللہ کے خلاف ماحول سازی کرنے والے اب کہاں جائیں!۔ لبنان کی آرمی کے خلاف بات کریں؟ لبنان کے مسیحی صدر میشال عون کی جماعت پر کوئی الزام لگائیں؟!  اگر مظاہرین کا ساتھ دیں تو کیا نجیب میقاتی اور سعد حریری جیسوں کی کرپشن پر احتساب کے حق میں بات کریں۔

لبنان نے فیصلہ سنادیا ہے مگرامریکی بلاک اور اس کے لاڈلوں کی کیفیت دیدنی ہے:  

الجھا ہے یار پاؤں کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا


 
خبر کا کوڈ : 824381
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے