1
Tuesday 29 Oct 2019 18:51

مغربی تہذیب و تمدن کے عروج میں دین کا کردار (حصہ اول)

مغربی تہذیب و تمدن کے عروج میں دین کا کردار (حصہ اول)
تحریر: حجۃ الاسلام والمسلمین داعی نژاد

بعض ماہرین، صنعت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں مغربی ترقی میں موثر مذہبی اسباب کو نظرانداز کرتے ہوئے عیسائیت کی بعض مشکلات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور یوں مغرب کی ترقی کو سیکولرازم کا نتیجہ جبکہ مسلمانوں کے زوال کا سبب دنیوی امور میں مذہب کو دخیل کرنے کو ظاہر کرتے ہیں۔ حالانکہ مغرب کی ترقی کا ایک اہم سبب دین تھا اور مسلمانوں کی جانب سے اسلامی تعلیمات سے دوری ان کے زوال کا اہم سبب ہے۔ ذیل میں ہم اپنے اس موقف کو ثابت کرنے کیلئے تاریخ سے چند شواہد بیان کرتے ہیں:

1۔ یونیورسٹیز اور تعلیمی مراکز کے قیام میں چرچ کا کردار
۱۲ویں اور ۱۳ویں صدیاں، جو قرون وسطی کی آخری صدیاں شمار ہوتی ہیں، روشن خیال افراد اور مغربی روشن خیالی کی پیدائش اور ترویج، جبکہ تیرہویں صدی مغرب میں یونیورسٹی اور اسٹوڈنٹ تنظیموں کی تشکیل کے آغاز کی صدی جانی جاتی ہے۔ بشپ، یونیورسٹی اور علمی مراکز کا صدر ہوتا تھا۔ وہ ایک فرد کو تعلیمی ڈائریکٹر اور بعد میں نائب کے طور پر انتخاب کرتا تھا اور اپنے اختیارات اسے عطا کر دیتا تھا۔ یورپ میں بارہویں اور تیرہویں صدی عیسوی کے اکثر یونیورسٹی پروفیسرز عیسائی روحانی نظام کے تربیت یافتہ تھے۔ قرون وسطی میں معمولاً خانقاہ اور چرچ ہی میں یونیورسٹی بنا دی جاتی تھی۔ لہذا روشن خیالی اور یونیورسٹیز کا قیام نہ فقط چرچ سے جدا بلکہ خود چرچ ہی میں عمل میں آیا اور یوں مغرب میں رونما ہونے والی مثبت تبدیلیوں میں چرچ کے کردار سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔

2۔ عیسائیت کی انحرافی تعلیمات سے گریز
عیسائیت کی تحریف شدہ تعلیمات جیسے تثلیث، فطری گناہ، علم کے درخت کا ممنوع ہونا سے گریز، نیز عیسائیت کی جانب سے بشری زندگی کیلئے عملی پروگرام کا نہ ہونا اور عیسائیت کی جانب سے علمی ترقی کی راہ میں حائل رکاٹوں سے عبور مغربی تہذیب و تمدن کی مثبت کامیابیوں کا ایک اور سبب جانا جاتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر قسم کے مذہب سے گریز کیا جائے۔ اسلام جیسا دین جس میں تحریف شدہ تعلیمات نہیں پائی جاتیں اور اس میں انسان کی دنیوی زندگی کیلئے جامع پروگرام موجود ہے اور نیز علم و دانش کو بھی سراہا گیا ہے، سے بے توجہی جائز نہیں۔ عیسائیت میں پائی جانے والی کمزوریوں کو ہر دین سے نسبت دے کر مذہب سے گریز اور دین یا سیاست اور دنیا میں علیحدگی کا نتیجہ نہیں نکالنا چاہئے۔

3۔ سائنس اور دین میں ہم آہنگی کا عقیدہ رکھنے والے مذہبی اسکالرز
مغربی تہذیب و تمدن کی ترقی میں موثر معروف مغربی اسکالرز کی اکثریت مذہبی رجحانات کی حامل تھی اور وہ سائنس کی ترقی میں مذہب کے کردار کو انتہائی اہم گردانتے تھے۔ آئن سٹائن کی یہ بات معروف ہے کہ: "مذہب کے بغیر سائنس لنگڑی ہے اور سائنس کے بغیر مذہب اندھا ہے۔" وہ ایک اور جگہ کہتا ہے: "نیوٹن انتہائی متقی عیسائی انسان تھے۔ وہ اپنی خداشناسی کے بارے میں اپنی سائنس سے زیادہ سنجیدگی سے سوچتے تھے۔ اگر یہ تصور ان کے ذہن میں آتا کہ ان کی زندگی کا ماحصل مذہبی ایمان کا مکمل خاتمہ ہو گا تو وہ شدید خوف میں مبتلا ہو جاتے۔ ان کی ذاتی رائے یہ تھی کہ ان کی کوششوں کا نتیجہ اس کے برعکس نکلنا چاہئے تھا۔ وہ حتی تصور کرتے تھے کہ ان کا میکانی فلکیاتی نظام خدا کے وجود پر دلیل فراہم کرتا ہے۔"

4۔ قرون وسطی میں حکمفرما سیاسی حکام اور سلطنت کا عیسائیت کا غلط استعمال
مغربی روشن خیال حضرات قرون وسطی کی تمام مشکلات اور مسائل کا ذمہ دار عیسائیت اور چرچ کو ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں گویا قرون وسطی میں چرچ ہی واحد سیاسی طاقت تھا۔ لیکن جیسا کہ بعض مغربی تاریخ دانوں نے بھی ذکر کیا ہے، مغربی تاریخ کا بغور مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ قرون وسطی میں سیاسی طاقت نے خود کو چرچ اور عیسائیت کے پیچھے پوشیدہ کر کے سیاسی اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس بات کا اندازہ ان کی جانب سے اپنے سیاسی اسلوب اور ظالمانہ اقدامات کے مخالف فلسفیوں اور اسکالرز سے دشمنی اور مسلمانوں کے خلاف دو سو سالہ صلیبی جنگوں کے آغاز سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ اپنے موقف کی تائید کیلئے درج ذیل شواہد ذکر کرتے ہیں:

الف) عیسائیت کبھی بھی اکیلے اور براہ راست سیاسی طاقت کا مرکز قرار نہیں پائی کیونکہ عیسائی تعلیمات اس بات کی اجازت نہیں دیتیں۔ یوحنا کی انجیل میں حضرت عیسی علیہ السلام سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:
"میری بادشاہی اس دنیا سے متعلق نہیں۔ اگر میری بادشاہی اس دنیا سے متعلق ہوتی تو میرے خادم جنگ کرتے تاکہ میں یہودیوں کے سامنے ہتھیار نہ ڈالوں لیکن اب میری بادشاہی اس دنیا سے متعلق نہیں۔"

ب) عیسائیت اور رومی سلطنت میں رابطے کی نوعیت یہ تھی کہ عیسائیت جدید النشاۃ ہونے کے باعث ایک سیاسی طاقت کی حمایت حاصل کرنا چاہتی تھی جبکہ دوسری طرف سیاسی طاقت عوامی عدم اطمینان سے روبرو تھی لہذا اس نے عیسائیت کی مدد سے عوام کو اپنا مطیع بنانے کا ارادہ کر لیا۔ قرون وسطی میں سلطنت، اس کے بعد بادشاہت اور آخرکار رومی خطے کے جاگیردار، ثقافتی، سیاسی اور سماجی تبدیلیوں میں فیصلہ کن کردار کے حامل تھےجبکہ چرچ اور مذہب سیاسی اور اقتصادی نظام کے زیر اثر تھے اور درحقیقت اس نظام کو (قانونی و شرعی) جواز فراہم کرنے کا کردار ادا کر رہے تھے۔ قرون وسطی میں انجام پانے والی دو سو سالہ صلیبی جنگوں میں دیگر غیر مذہبی طاقتوں کے کردار کا بھی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ صلیبی جنگوں کی منصوبہ بندی تسلط پسند فرمانرواوں اور لالچی جاگیرداروں نے کی جن کا مقصد اس زمانے میں مسلمانوں کے زیر قبضہ اسپین اور اندلس کی سرزمینوں کو واپس لینا تھا۔ اسی طرح ان جنگوں کا مقصد بیت المقدس کو مسلمانوں کے قبضے سے چھڑوانا تھا۔

چونکہ مغربی سرزمین پر بسنے والوں کی اکثریت عیسائیوں پر مشتمل تھی لہذا جنگ میں ان کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو ممکن بنانے کیلئے ان جنگوں کو مقدس ظاہر کرنے کی ضرورت تھی۔ یوں فرمانرواوں اور جاگیرداروں اور چرچ کے سربراہوں میں انجام پانے والے معاہدے کے تحت ان جنگوں کو مذہب کا رنگ دے دیا گیا اور انہیں صلیبی جنگوں کا نام دیا گیا۔ درحقیقت جاگیردار طبقہ اپنی کھوئی ہوئی زمینوں کی واپسی اور فرمانروا طبقہ جاگیرداروں کی دولت کو جنگوں اور اپنی حکومت کے استحکام میں خرچ کر کے ان کی جانب سے بغاوت کے خطرے کو کم کرنے کے درپے تھا۔ یوں، عیسائیت قرون وسطی میں سیاسی طاقت کا آلہ کار قرار پائی لہذا اس دور میں رونما ہونے والے واقعات کا واحد سبب عیسائیت کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔
 
خبر کا کوڈ : 824541
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب