0
Wednesday 30 Oct 2019 02:06

الحسین یجمعنا

الحسین یجمعنا
تحریر: بنت الہدیٰ

دیکھنا زائر کی پرچھائی پہ آجائے نہ پیر
اس کا سایہ مس ہوا ہے روضہ شبیر (ع) سے
(حسنین اکبر)
تمام زائرین محترم جنہوں نے دشوارگزار راہوں کو طے کرتے ہوئے صاحب العصر حضرت مھدی عج کی ہمراہی کی سعادت حاصل کی، اب وہ اپنے مبارک قدموں سے اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔۔۔
کربلا وہ ملکوتی مقام ہے جہاں سے قدم تو پلٹ آتے ہیں
مگر دل وہیں رہ جاتے ہیں۔۔
کہ یہ وہ راہ ہے جو قدموں سے نہیں دھڑکن کی مسافت سے طے کی جاتی ہے۔۔۔
کربلا پہنچتے ہی جبین سے پہلے دل اس خاک کا بوسہ لیتے ہیں
اور زبان سے قبل سانسیں پکار اٹھتی ہیں
*اسلام علیک یا ابا عبداللہ*
 
زائرین اعتراف کرتے ہیں کہ خود کو کربلا پہنچانا آسان ہے مگر وہاں سے پلٹنا ایسا ہی ہے جیسے چھوٹے بچے کو ماں کی آغوش سے جدا کر لیا جائے
کہ واپسی کی راہ میں ہر لمحہ، ہر قدم دھڑکنیں زار و قطار گریہ کرتی ہیں۔۔۔
کچھ اس طرح کہ دل کرب سے قدموں میں سمٹ آتا ہے
سرزمین کربلا کو الوداع کہنا
آسان نہیں مگر اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے کربلا کو اپنے ہمراہ لانا۔۔۔
کہ کربلا خود اپنے زائرین کے ساتھ سفر کی خواہش رکھتی ہے۔۔۔
کربلا،، ملکوں ملکوں۔۔ شہر در شہر۔۔ کوچہ در کوچہ۔۔۔
دنیا کے ہر کونے میں پہنچ کر حسینیت کو عام کرنے اور یزیدیت کی شکست بن کر سفر کرنا چاہتی ہے
 
کربلا نہیں چاہتی کہ یہاں آنے والے زوار رسمی سلام و کلام، زیارت و پرسہ داری، گریہ و ماتم کے بعد خالی ہاتھ رخصت ہو جائیں۔۔۔
بلکہ کربلا منتظر ہے ان کروڑوں اربعینی مسافروں میں اس زائر کی جو اسے اپنے ہمراہ لے کر جائے۔۔
کربلا اپنی جرات، دلیری، ایثار و فداکاری اور صبر کے ہمراہ سفر کرنا چاہتی ہے، وہاں آنے والے ہر زائر کے ساتھ۔۔۔
اربعین حسینی سے واپسی پر زائرین کے دل زمین کربلا میں رہ جاتے ہیں اور کربلا خود زائرین کے ہمراہ سوار ہو کر ان کے گھروں میں آجاتی ہے۔
کربلا زائرین کے ساتھ پلٹتی ہے
 
ان کی گفتار میں۔۔۔ رفتار میں۔۔ افکار میں۔۔!
اور اگر کربلا ساتھ نہیں ہے۔۔۔،
تو ایک لمحہ ٹہر کر غور کیجئے۔۔۔
ان رینگنے والے حشرات پر۔۔
جنہیں پرواز کے لئے پروں کی چاہت تھی۔
ایک مقام پر خوبصورت پر ان کے منتظر تھے۔
مگر ان میں سے کچھ نے غفلت برتی، وہ خود کو اس قابل نہ بنا سکیں کہ انہیں پنکھ ملتے، وہ بنا تیاری کے یونہی رینگتے رہے، اپنا پورا جسم خاک پر گھسیٹتے رہے
اور پھر منزل پر پہنچ کر خالی ہاتھ واپس لوٹا دیئے گئے۔
سو پھر سے رینگتے ہوئے پلٹ آئے۔
(معذرت کے ساتھ، زائرین سید الشہداء (ع) کے مرتبے کو مدنظر رکھتے ہوئے مثال سخت ہے مگر قابل تفکر!!۔۔)
 
اربعین اپنے ہمراہ جن زائرین کو لیکر چلی تھی، انہیں پنکھ دیئے جا چکے ہیں۔
اور جو رہ گئے ہیں وہ مایوس نہ ہو،
کہ کربلا تو دل میں بستی ہے
اور جو دل میں بس جائے، اس کا رنگ خود پر چڑھا لیا جاتا ہے۔۔۔
جیسے شعار کربلا کو اپنے قلب و روح میں جذب کرتے ہوئے۔
عزیزان اس سال اربعین کا شعار تھا
*الحسین یجمعنا*
ہر رنگ، نسل و مکتب فکر کے لوگ ایک ہی زمین پر جمع تھے اور ان سب کے دلوں کو آپس میں جوڑے رکھا تھا امام حسین (ع) کی محبت نے۔۔
بقول شاعر
یہ بارگاہ عشق ہے بےخوف ہو کے آ
مسلک کی نفرتوں سے یہ دالان پاک ہے
 
کربلا کو ساتھ رکھنے کے لئے زیادہ مشقت درکار نہیں۔۔۔
 واپس آنے کے بعد صرف اسی شعار کو اپنا لیجئے۔۔
حب الحسین (ع) کی خاطر اپنے چھوٹے بڑے ہر اختلاف کو پس پشت ڈال کر وحدت کا مظاہرہ کیجئے۔
اصلی شیعہ، نقلی شیعہ میں الجھنے کی بجائے حسینی بن کر اس اتحاد کو فروغ دیجئے۔
کہ حسین (ع) ہمیں ایک کرتے ہیں۔
 
یہاں سوال کیا جاسکتا ہے کہ مختلف فکر، مختلف نظریات، مخالف عقیدہ رکھتے ہوئے یہ اتحاد کیسے قائم ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔؟؟
تو محترم،
اربعین کے سفر میں صرف مختلف رنگ و نسل ہی نہیں
بلکہ ہر فرقے، نظریئے، عقیدے و افکار سے وابستہ زائرین کے ساتھ
اٹھنے، بیٹھنے،
انکی محفل و مراسم میں شرکت کرنے،
انکی مہمان نوازی قبول کرنے،
تو کہیں خود انکی خدمت کرنے،
اور ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہوئے ہر لڑکھڑاتے قدم اور گرنے والے کا سہارا بن کر،
اپنی اپنی رفتار سے چلتے ہوئے
ایک ہی راہ سے گزر کر اصل منزل تک پہنچنے کی بہترین مشق کروا دی گئی ہے۔
 
اب واپس آکر اسے یونہی قائم رکھنا اور وحدت کو فروغ دینا ان زائرین کے ذمے ہیں، جو کربلا سے رخصت لیکر نہیں اسے اپنے ہمراہ لانے کے خواہشمند ہیں۔
کہ پرواز کے لئے ملنے والے پروں میں جڑا ہر پنکھ "وحدت" کی ڈور سے باندھا گیا ہے۔
بقول رومی:
ہر کہ اُو بیدار تر، پُر درد تر
ہر کہ اُو آگاہ تر، رُخ زرد تر
ہر وہ کہ جو زیادہ بیدار ہے، اسکا درد زیادہ ہے، ہر وہ کہ جو زیادہ آگاہ ہے، اسکا چہرہ زیادہ زرد ہے۔
خبر کا کوڈ : 824603
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب