0
Wednesday 30 Oct 2019 15:16

نریندر مودی کا دورہ سعودی عرب اور شدت پسندی کے خلاف عالمی کانفرنس

نریندر مودی کا دورہ سعودی عرب اور شدت پسندی کے خلاف عالمی کانفرنس
اداریہ
مختلف ممالک کے سربراہان کے باہمی دورہ جات عالمی سفارت کاری کا حصہ ہیں۔ یہ دورہ جات عام طور پر اقتصادی تعلقات کے تناظر میں انجام پاتے ہیں، لیکن زیادہ تر یہ کہہ کر بات کو ختم کر دیا جاتا ہے کہ دونوں ممالک کے سربراہوں نے دلچپسی کے باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا اور تعلقات کو مزید فروغ دینے پر زور دیا ہے۔ کسی بھی ملک کے سربراہ کے دورہ کے اختتام پر مشترکہ پریس کانفرنس کی جاتی ہے، اس میں مذکورہ جملوں کو دہرایا جاتا ہے۔ ہندوستان کے وزیراعظم نے 28، 29 اکتوبر کو سعودی عرب کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اعلیٰ حکام سے ملاقات کے علاوہ فیوچر انوسٹمنٹ انسٹی ٹیوٹ فورم کے تیسرے سیشن میں شرکت کی۔ ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان برسوں پر محیط  تزویراتی (Strategic)  تعلقات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ہندوستان اپنی ضرورت کا سترہ فیصد تیل اور بتیس فیصد ایل پی جی سعودی عرب سے خریدتا ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان اٹھائیس ارب ڈالر کے قریب تجاری لین دین ہے۔

ہندوستان سعودی عرب میں ایک سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنیکا بھی خواہش مند ہے۔ سعودی عرب اور ہندوستان کے درمیان قربت کی ایک وجہ سعودی حکومت کا مشرق کی طر ف توجہ (Look east) ویژن بھی ہے۔ ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات انتہائی گہرے ہیں اور دونوں ملکوں کو اس بات کا پوری طرح احساس ہے کہ سعودی عرب کا نہایت قریبی دوست پاکستان "ہند سعودی" تعلقات کو پسند نہیں کرتا، لیکن سعودی حکمرانوں نے کبھی اس کی پرواہ نہیں کی۔ اسکی تازہ ترین مثال کشمیر کی موجودہ ابتر صورتحال ہے۔ ہندوستان کی مرکزی حکومت نے 370 اور 35 اے ختم کر کے اور گذشتہ تین مہینوں سے پوری وادی کشمیر کو دو لاکھ ہندوستان فوجیوں کے ذریعے یرغمال بنا کر ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ کشمیر کی صورتحال یا پاکستان کا موقف، کبھی بھی سعودی تعلقات پر اثرانداز نہیں ہوا، اور سعودی عرب نے روز بروز ہندوستان کیساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دیا ہے۔

نریندر مودی کے حالیہ دورے میں ہندوستان کی خواہش ہے کہ اپنے ملک میں شدت پسندی کیخلاف ایک عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے اور سعودی عرب کو اس میں خصوصی طور پر دعوت دی جائے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اس کانفرنس میں شرکت کیلئے آمادہ ہو جائیگا۔ لیکن یہ کانفرنس کس کیخلاف ہوگی اور اس کے نتیجے میں کس طرح پاکستان کو عالمی سطح پر نشانہ بنایا جائیگا، یہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کا پیٹروڈالر خور اور بکاؤ میڈیا اس پر مکمل خاموش ہے۔ فرض کریں اگر اسلامی جمہوریہ ایران ہندوستان کیساتھ مل کر ایسا کوئی منصوبہ بناتا تو آج کے تمام پاکستانی اخبارات کی سرخیاں اور تجزیہ کاروں کے سیر حاصل تجزیئے کس کے خلاف ہوتے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ سعودی عرب پاکستانی حکومت سے زیادہ پاکستانی میڈیا میں سرمایہ کاری کر چکا ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 824676
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب