0
Wednesday 30 Oct 2019 14:31

آیت اللہ جعفر مرتضیٰ عاملی کی رحلت جانسوز

آیت اللہ جعفر مرتضیٰ عاملی کی رحلت جانسوز
تحریر: ثاقب اکبر
 
28 صفر 1441ھ کو جب عالم اسلام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یوم وفات اور ان کے فرزند ارجمند سبط اکبر امام حسن علیہ السلام کا یوم شہادت منایا جا رہا تھا، لبنان سے عصر حاضر کے ایک عظیم محقق اور عالم آیت اللہ سید جعفر مرتضیٰ عاملی کی رحلت کی خبر پہنچی۔ وہ ایک ماہ کی علالت کے بعد اس روز اپنے آبائے اطہار کی خدمت میں جا پہنچے۔ آیت اللہ جعفر مرتضیٰ عاملی کا تعلق جنوبی لبنان سے تھا۔ وہ حضرت حسین ذوالدمعہ بن زید بن علی بن حسین کی نسل پاک سے تھے۔ وہ 25 صفر 1364 ہجری کو پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنے والد گرامی علامہ مرتضیٰ عاملی سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ کچھ عرصہ بیروت میں بھی زیر تعلیم رہے۔ بعدازاں وہ 1382 ہجری میں نجف اشرف تشریف لے گئے۔ نجف اشرف میں تقریباً چھبیس برس مشغول درس و تدریس رہنے کے بعد 1388 ہجری میں انھوں نے قم کی طرف ہجرت کی۔
 
ایک عرصے تک اپنے دور کے عظیم علماء کے حضور حصول علم و معرفت میں مشغول رہے۔ ان کے اساتذہ میں آیت اللہ میر محمدی، آیت اللہ سید موسیٰ شبیری زنجانی، آیت اللہ فانی، آیت اللہ مرتضیٰ حائری یزدی اور آیت اللہ مرزا ہاشم عاملی جیسے بلند مرتبہ علماء شامل ہیں۔ وہ پچیس سال قم المقدسہ میں مقیم رہے۔ اسی دوران میں ایران میں امام خمینی کی قیادت میں عظیم اسلامی انقلاب کامیاب ہوا۔ انقلاب کی کامیابی کے بعد بھی وہ 14 برس ایران میں ہی رہے۔ اس دوران میں انھوں نے اہل بیت کی سیرت کی روشنی میں حکومت اسلامی کے موضوع پر ایک کتاب بھی تصنیف کی۔ 1993ء میں انھوں نے اپنے وطن لبنان کی طرف مراجعت کی اور جنوبی لبنان کو اپنی علمی، تحقیقی اور تربیتی خدمات کا مرکز بنایا۔

آیت اللہ جعفر مرتضیٰ عاملی کی بعض کتابیں انھیں عصر حاضر کے اسلامی محققین میں ہی نہیں بلکہ متقدمین و متاخرین میں ممتاز کرتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں ان کی عظیم الشان تالیف الصحیح من سیرۃ النبی الأعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے جو عربی زبان میں ہے اور 35 جلدوں پر مشتمل ہے۔ بیشتر مجلدات دو دو جلدوں پر مشتمل ہیں۔ بعض اداروں نے اس کا فارسی ترجمہ بھی کیا ہے۔ راقم نے ایک ادارے کے تعاون سے اس کے اردو ترجمے کے پراجیکٹ کا قم المقدسہ میں آغاز کیا تھا، جو راقم کی پاکستان میں مراجعت کے بعد بھی جاری رہا۔ علامہ محمد علی توحیدی نے اس سلسلے میں بڑی زحمت اٹھائی ہے۔ اس کی متعدد جلدیں اردو میں چھپ چکی ہیں۔۔ ان کی دوسری عظیم یادگار تالیف الصحیح من سیرۃ الامام علی علیہ السلام ہے جو 53 جلدوں پر مشتمل ہے۔

ان کی دیگر تصانیف و تالیفات میں سے بعض کے نام یہ ہیں:
الامام علی والنبی یوشع (تاریخ یعید نفسہ)
مأساۃ الزھرا علیھا السلام
الحیاۃ السیاسیۃ للامام الحسن (ع)
سیرۃ الحسین (ع) فی الحدیث و التاریخ
الحیاۃ السیاسۃ للامام الرضا (ع)
الحیاۃ السیاسیۃ للامام الجواد (ع)
اھل البیت فی آیۃ التطہیر (دراسۃ و تحلیل)
ابوذر لا اشتراکیۃ ولا مزدکیۃ
المواسم والمراسم
الولایۃ التشریعیۃ
حدیث الافک
ردّ الشمس لعلی (ع)
ظلامۃ أبی طالب (ع) (تاریخ و نقد)
ظلامۃ أم کلثوم (تحقیق و دراسۃ)
علی (ع) والخوارج (تاریخ و دراسۃ)
الغدیر والمعارضون أو عواصف علی ضفاف الغدیر
کربلا فوق الشبھات (حدیث عن التشکیک والمشککین)
مختصر و مفید (أسئلۃ و أجوبۃ فی الدین و العقیدۃ)
مراسم عاشوراء (شبھات و ردود)
موقف علی فی الحدیبیۃ
میزان الحق.
 
آیت اللہ جعفر مرتضی عاملی کی رحلت پر پوری دنیا میں اظہار رنج و غم اور تعزیت و تسلیت کا سلسلہ جاری ہے۔ چند اہم شخصیات کے تعزیتی پیغامات ہم ذیل میں قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں:
ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے آیت اللہ جعفر مرتضیٰ عاملی کی رحلت پر مندرجہ ذیل تعزیتی بیان جاری کیا ہے: "یہ خبر پا کر مجھے بہت افسوس ہوا کہ ایک خدمت گزار اور زحمت کش عالم حجۃ الاسلام والمسلمین آقا سید جعفر مرتضیٰ لبنان میں وفات پا گئے ہیں۔ یہ وہ عالم بزرگوار تھے، جنھوں نے صدر اسلام کی تاریخ پر بھاری بھر کم اور ضخیم تحقیقی کتب تالیف کیں، جن کا طرز تحریر خوبصورت اور بہت قوی ہے، یہ کتب تالیف کرکے انھوں نے دنیائے اسلام کی عظیم خدمت انجام دی ہے اور ثقافتی لحاظ سے ایک اہم ضرورت کو پورا کیا ہے۔ میں ان کے محترم خاندان، پسماندگان اور لبنان کے اہل علم کی خدمت میں تعزیت عرض کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے رحمت و مغفرت کا طلبگار ہوں۔ اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اجداد طاہرین کے ساتھ محشور فرمائے۔"
 
عراق کے عظیم مذہبی پیشوا آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی نے اس موقع پر ایک بیان جاری کیا ہے، جو مرحوم آیت اللہ جعفر مرتضیٰ عاملی کے بھائی سید مرتضی مرتضی عاملی کے نام ہے۔ اپنے پیغام میں وہ کہتے ہیں: "آپ کے بھائی علامہ محقق حجۃ الاسلام والمسلمین سید جعفر مرتضیٰ عاملی کی وفات کی خبر ہمارے لیے شدید غم و اندوہ کا باعث ہوئی۔ انھوں نے اپنی عمر مبارک مذہب اہل بیت علیہم السلام کی خدمت، ان کے دفاع اور ان کے معارف کی اشاعت میں صرف کی۔ اس عظیم مصیبت پر ہم آپ اور آپ کے خاندان محترم کے دیگر افراد، ان کے محترم فرزندوں اور لبنان کے تمام مومنین کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں اور خدائے عظیم و قادر کے حضور دعا گو ہیں کہ مرحوم کو اپنی رحمت و رضوان نصیب فرمائے، انھیں ان کے اجداد پاک کے ساتھ محشور فرمائے اور ان کے وابستگان اور احباب کو صبر و قرار عنایت فرمائے۔"
 
نجف اشرف کے ایک اور دینی مرجع آیت اللہ العظمیٰ اسحاق فیاض نے بھی مرحوم کے بھائی کے نام ایک پیغام جاری کیا ہے، جس کا ترجمہ ذیل میں پیش خدمت ہے: "علامہ سید جعفر مرتضیٰ عاملی (قدس سرہ) کی وفات کی خبر پر ہمیں انتہائی افسوس ہوا۔ انھوں نے اپنی عمر شریف مذہب اہل بیت کی خدمت اور معارف و احکام دین کی ترویج میں بسر کی۔ ہم آپ کے اس غم میں پوری طرح شریک ہیں اور آپ کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں۔ اس عظیم مصیبت پر ہم آپ کی، آپ کے محترم خاندان اور مرحوم کے تمام دوستوں کی خدمت میں ہدیہ محبت پیش کرتے ہیں۔ ہم بارگاہ خدا تعالیٰ میں دعا گو ہیں کہ مرحوم کو غریق رحمت و مغفرت فرمائے اور انھیں ان کے اجداد پاک محمد و اہل بیت محمد کے ساتھ محشور فرمائے اور ان کے خاندان، احباب اور شاگردوں کو صبر و قرار عنایت فرمائے۔" ان کے علاوہ آیت اللہ وحید خراسانی، آیت اللہ مظاہری اور دیگر بزرگ علماء نے بھی اس موقع پر خصوصی تعزیتی پیغامات جاری کیے ہیں۔
 
آیت اللہ جعفر مرتضیٰ عاملی کی علمی خدمات سے علم و تحقیق کے شناور ہمیشہ استفادہ کرتے رہیں گے۔ ان کا انداز تحقیق خاصا مختلف رہا ہے۔ انھوں نے نبی کریمؐ کے بارے میں لکھی گئی سیرت کے لیے تقریباً ایک ہزار سات سو ماٰخذ سے استفادہ کیا ہے۔ اس سے ان کی وسعت مطالعہ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ انھوں نے مختلف واقعات کے حوالے سے روایات کا سند کے اعتبار سے ہی نہیں بلکہ درایت کے اصولوں کے مطابق بھی جائزہ لیا ہے۔ ان کی بعض باتیں ضرور سوال انگیز ہیں، تاہم انھوں نے تحقیق کی ایک نئی روش کی بنیاد ضرور رکھی ہے اور ماضی میں رواج پا جانے والے بہت سے تاریخی واقعات کا از سر نو جائزہ لینے کی طرح ڈالی ہے۔ اپنے بعض معاصر علماء سے بعض امور میں اختلاف رائے کے باوجود ان کے مقام علمی سے کسی کو انکار نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی رحلت جانسوز پر آج مراکز علم ہی نہیں بلکہ ایک عالم سوگوار ہے۔
خبر کا کوڈ : 824698
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب