1
Wednesday 30 Oct 2019 21:55

مغربی تہذیب و تمدن کے عروج میں دین کا کردار (آخری حصہ)

مغربی تہذیب و تمدن کے عروج میں دین کا کردار (آخری حصہ)
تحریر: حجۃ الاسلام والمسلمین داعی نژاد

۔۔۔۔۔۔۔گذشتہ سے پیوستہ
بعض ماہرین، صنعت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں مغربی ترقی میں موثر مذہبی اسباب کو نظرانداز کرتے ہوئے عیسائیت کی بعض مشکلات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور یوں مغرب کی ترقی کو سیکولرازم کا نتیجہ جبکہ مسلمانوں کے زوال کا سبب دنیوی امور میں مذہب کو دخیل کرنے کو ظاہر کرتے ہیں۔ حالانکہ مغرب کی ترقی کا ایک اہم سبب دین تھا اور مسلمانوں کی جانب سے اسلامی تعلیمات سے دوری ان کے زوال کا اہم سبب ہے۔ ذیل میں ہم اپنے اس موقف کو ثابت کرنے کیلئے تاریخ سے چند شواہد بیان کرتے ہیں:

5۔ مغربی ترقی میں اسلام کا کردار
مغربی روشن خیال حضرات ہمیشہ سے اس حقیقت کا انکار کرتے آئے ہیں کہ مغربی تہذیب و تمدن اسلام کی احسان مند ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مغرب کے مثبت پہلووں جیسے صنعت و ٹیکنالوجی اور علم کو اعلی مقام حاصل ہونے میں اسلام کا کردار اس قدر زیادہ ہے کہ مذکورہ بالا تمام دوسرے اسباب اس کے مقابلے میں ماند پڑ جاتے ہیں۔ اس بارے میں مغربی تاریخ دانوں اور تجزیہ کاروں کے بعض اعترافات کی جانب اشارہ کرتے ہیں:

الف) منٹگمری واٹ کہتے ہیں: "اگر انسان قرون وسطی میں اسلام اور عیسائیت کے درمیان ٹکراو کے تمام پہلووں پر غور کرے تو واضح ہو جائے گا کہ عیسائی معاشرے پر اسلام کے اثرات اس سے کہیں زیادہ ہیں جو عام طور پر بیان کئے جاتے ہیں۔ اسلام نہ صرف یورپ کی فنی ایجادات اور مادی مصنوعات میں شریک ہے اور اسلام نے نہ صرف یورپ کو سائنس اور فلسفے کے میدان میں عقلی لحاظ سے بیدار کیا ہے بلکہ یورپ کو اپنا نیا تشخص پانے پر بھی مجبور کیا ہے۔" وہ مزید لکھتے ہیں: "ہم یورپی مغربی شہریوں کا فرض بنتا ہے کہ عرب اور اسلامی دنیا کا شدت سے احسان مند ہونے کا اعتراف کریں۔"

ب) صلیبی جنگوں میں نئی زمینیں فتح کرنے میں مغرب کو خاطرخواہ کامیابی تو حاصل نہ ہو سکی البتہ مسلمانوں سے رابطہ برقرار ہونے کے بیشمار فائدے انہیں ضرور حاصل ہوئے۔ ول ڈیورنٹ اس بارے میں لکھتے ہیں: "بینکاری کا بہتر نظام اور طریقہ کار اسلامی دنیا اور بازنطینی سلطنت سے اخذ کیا گیا جس کے نتیجے میں نت نئی کریڈٹ دستاویزات معرض وجود میں آئیں۔ اسی طرح افراد کی آمدورفت، خیالات کے تبادلے اور پیسے کے بہاو (کیش فلو) میں بھی اضافہ ہوا۔ صلیبی جنگیں زراعتی جاگیرداری کی بنیاد پر شروع ہوئیں جن کا منشاء جرمن بربریت اور مذہبی احساسات کا ایک سلسلہ تھا۔ یہ جنگیں، اقتصادی انقلاب کے نتیجے میں اختتام پذیر ہوئیں جو صنعت کی ترقی، تجارت میں وسعت اور آخرکار رینائسنس تحریک کی بنیاد ثابت ہوا۔"

فرانسوی محقق گوستاو لی بون کہتے ہیں: "پانچ سو سال تک یورپ کے اسکولوں میں مسلمانوں کی تصانیف اور کتب پڑھائی جاتی تھیں اور انہیں تصانیف اور کتابوں نے یورپ کو علم، عمل اور اخلاق کے میدان میں تربیت فراہم کی اور انہیں تہذیب و تمدن کا راستہ دکھایا۔ ہم جب ان کی سائنسی تحقیقات اور فنی ایجادات پر نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ دنیا کی کوئی قوم اتنی مختصر مدت میں ان سے زیادہ ترقی نہیں کر پائی۔ بعض اس حقیقت کا اعتراف کرنے میں عار محسوس کرتے ہیں کہ: ایک کافر اور ملحد قوم (مسلمان) یورپی عیسائیوں کا وحشی گری اور جہالت سے باہر نکلنے کا باعث بنی ہے، لہذا اسے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یہ نگاہ اس قدر بے بنیاد اور افسوسناک ہے کہ اسے آسانی سے مسترد کیا جا سکتا ہے۔ اسلام کے پیدا کردہ انہیں اعراب کا اخلاقی اثرورسوخ تھا جس نے ان وحشی یورپی اقوام کو انسانیت کی راہ دکھائی جنہوں نے رومی سلطنت کو تباہ و برباد کر دیا تھا۔ اسی طرح ان کے فکری اور عقلی اثرورسوخ نے یورپی اقوام پر علوم و فنون اور فلسفہ کے دروازے کھول دیئے جس سے وہ مکمل طور پر بے خبر تھے۔ وہ ۶۰۰ سال تک ہمارے (یورپ) استاد رہے ہیں۔"

دوسری طرف مسلمانوں کے زوال کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے صرف اسلامی تعلیمات سے ان کی دوری کی طرف ہی اشارہ کرنا کافی ہے۔ جیسا کہ ول ڈیورنٹ کہتے ہیں: "جبکہ ایک طرف اسلام یورپ کے مرکز کو تسخیر کر رہا تھا اور مغربی دنیا میں روز بروز اس کی پوزیشن مضبوط ہوتی جا رہی تھی، دوسری طرف بعض عرب حکام اور شیوخ کی مطلق العنانیت، دنیا پرستی اور عیاشی، نیز ان کی آپس میں بیہودہ اقتدار کی جنگ نے مغرب میں مسلمانوں کے زوال کا مقدمہ فراہم کیا اور پورے یورپ میں اسلام کی ترویج اور اثرورسوخ میں کمی واقع ہوئی۔ مختصر یہ کہ نہ تو مغرب کی دین سے دوری ان کی صنعتی اور ٹیکنالوجیکل ترقی کا باعث بنی اور نہ ہی دنیوی زندگی میں اسلام کی مداخلت مسلمانوں کے زوال کا سبب بنی ہے۔"
خبر کا کوڈ : 824769
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب