0
Thursday 31 Oct 2019 11:08

لبنان و عراق سے ہمدردی رکھنے والوں کو نصیحت

لبنان و عراق سے ہمدردی رکھنے والوں کو نصیحت
اداریہ
عراق اور لبنان میں عوامی مظاہروں کا سلسلہ کم و بیش جاری ہے۔ عراق کے بعض شہروں میں جلسے جلوس تھم گئے ہیں، جبکہ کچھ جگہوں پہ ابھی پرانی شدت باقی ہے۔ اسی طرح لبنان میں سعد حریری کے استعفیٰ کے بعد بظاہر مظاہروں کا زور ٹوٹ چکا ہے۔ دونوں ممالک میں احتجاج کرنیوالوں کے نعرے ایک ہی نوعیت کے ہیں، مثال کے طور پر ہر دو ممالک میں بے روزگاری، مہنگائی، کرپشن اور حکومتی اداروں کی ناقص کارکردگی وغیرہ کے خلاف عوام احتجاج کر رہے ہیں، لیکن ان مظاہرین کے اندر کچھ ایسے عناصر بھی شامل ہوتے ہیں، جن کا مسئلہ بے روزگاری اور مہنگائی نہیں بلکہ دوسرے سیاسی اھداف ہیں۔ لبنان کی ایک بلند پایہ اور آگاہ شخصیت کے مطابق مظاہروں میں ایسے افراد بھی نظر آتے ہیں، جو آدھے بیروت کے مالک اور لبنان کے چوٹی کے سرمایہ داروں میں شامل ہیں۔

ایسے افراد عوام کے درد میں سڑکوں پر نہیں آتے، بلکہ انکے مذموم مقاصد ہیں۔ عراق کی مثال بھی اسی سے ملتی جلتی ہے، وہاں مظاہرین بظاہر ناقص حکمرانی (Bad governance)، رشوت ستانی، بدعنوانی اور روزگار کی عدم دستیابی کیخلاف صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں، لیکن عام لوگوں میں شامل ایک مخصوص ٹولہ مظاہروں کے دوران تشدد کو ہوا دینے میں پیش پیش ہے۔ یہ ٹولہ عوام کے منہ میں مرجعیت کیخلاف، صدام حکومت کی واپسی اور نئے انقلاب کے نعرے ڈال رہا ہے۔ عراق کے بعض شہروں میں ایسے بینرز اور کتبے بھی دیکھے جا سکتے ہیں، جہاں بعث پارٹی کے نعرے اور آمریت کے حق میں مطالبات درج ہیں۔ عراق اور لبنان کے موجودہ عوامی احتجاج کو ایک مخصوص طریقے سے پرتشدد مظاہروں میں تبدیل کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی، جس سے یہ ممالک ایک بار پھر سکیورٹی کے حوالے سے غیر محفوظ  ہوچکے ہیں۔

ہر باشعور انسان اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ جس ملک میں سکیورٹی کی صورت حال دگرگوں ہو جائے، وہاں اقتصادی بحران شدت اختیار کر جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے عراق اور لبنان سے ہمدردی رکھنے والوں کو نصیحت کی ہے کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر بدامنی کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے فرمایا ہے کہ بدامنی کے علاج کو پہلی ترجیح دی جائے۔ عوام کے کچھ مطالبات ہیں، جنہیں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پورا کیا جانا چاہیئے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے زور دیا ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک کے خفیہ ادارے خطے کی رجعت پسند حکومت کی دولت و سرمائے کے ذریعے آشوب برپا کر رہے ہیں اور یہ کسی بھی قوم کیساتھ بدترین دشمنی اور خطرناک حد تک کینہ پروری ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا ہے کہ ملک کا قانونی ڈھانچہ درہم برہم ہو جائے اور ملک میں سیاسی خلاء پیدا ہو جائے تو پھر کوئی مثبت کام انجام نہیں دیا جا سکتا۔
خبر کا کوڈ : 824823
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب