0
Thursday 31 Oct 2019 22:27

سوشل میڈیا کی بے قیادت تحریکیں (۱)

سوشل میڈیا کی بے قیادت تحریکیں (۱)
تحریر: سید اسد عباس

دنیا میں عوامی مظاہروں کا ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے، دنیا کے اکثر ملکوں میں عوام حکومت سے مطمئن نہیں ہوتے ہیں، تاہم عوام کی زندگیوں میں اچانک کوئی ایسا لمحہ آتا ہے جس کے بعد ان کے لیے صبر کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مختلف ممالک میں سیاسی جماعتیں حکومت کے خلاف اپوزیشن کا کام کرتی ہیں اور احتجاج یا مظاہروں کی کال دیتی ہیں تاہم 2011ء کی عرب بہار کے وقت سے احتجاجات کی دنیا میں ایک نیا طریقہ کار سامنے آیا ہے، جس میں کوئی خاص سیاسی جماعت یا گروہ مظاہروں کے پیچھے نہیں ہوتا بلکہ احتجاج کرنے والے عوام کی قیادت کا اندازہ لگانا ہی مشکل ہوتا ہے۔ زیادہ تر یہ احتجاج سوشل میڈیا پر منظم ہوتے ہیں اور پھر عوام سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ تیونس، مصر، لیبیا، شام، بحرین اور یمن میں اس طرح کے مظاہرے 2011ء میں شروع ہوئے۔ مصر سے حسنی مبارک ، تیونس سے علی زین العابدین، لیبیا سے کرنل قذافی، یمن سے علی عبداللہ صالح کی حکومت کا خاتمہ ہوا جبکہ شام میں یہ مظاہرے بشار الاسد اور بحرین میں ال خلیفہ کی حکومت کو ختم نہ کر پائے۔ شام انہی مظاہروں کے بعد خانہ جنگی کا شکار ہوا۔ لیبیا میں بھی تاحال خانہ جنگی جاری ہے۔ مصر میں حسنی مبارک کی جگہ اخوان المسلمین نے لی اور ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت قائم ہوئی تاہم یہ حکومت بھی زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکی اور مصری جنرل سیسی نے ڈاکٹر مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔

تیونس میں عرب بہار کے بعد دوسرے انتخابات حال ہی میں منعقد ہوئے ہیں۔ سواڈٓن میں بھی گذشتہ چند ماہ سے چلنے والی سیاسی تحریک بھی سوشل میڈیا پر ہی منظم ہوئی اور اس کے نتیجے میں سوڈٓان میں فوجی اور سول حکومت کا قیام عمل میں آیا۔ یہ بہار یا سوشل میڈیا تحریک کیسے جنم لیتی ہے، مظاہرین کس طرح آپس میں مربوط ہوتے ہیں اور ان کی قیادت کس کے ہاتھ میں ہوتی ہے اس حوالے سے مختلف نظریات ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ ان سوشل میڈیا چینلز کے پیچھے مغربی قوتوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ بعض کی نظر میں یہ وہ پڑھے لکھے نوجوان ہیں جو سوشل میڈیا پر کافی فعال ہوتے ہیں اور عوام کے حقیقی مسائل پر بات کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کی آواز پر عوام بھی لبیک کہتے ہیں اور سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ بات شاید اس قدر سادہ بھی نہیں ہے۔ مصر میں آنے والی عرب بہار کے دوران میں ایک آرٹیکل میں نے تفصیلا لکھا تھا کہ سوشل میڈیا پر کام کرنے والے یہ نوجوان باقاعدہ تربیت یافتہ ہوتے ہیں اور ان کو سوشل میڈیا کے استعمال کے ذریعے عوام میں ایک تحرک پیدا کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ یہ امر یوں بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ نوجوان جنھوں نے حسنی مبارک کے فوجی اقتدار کے خلاف قیام کیا تھا سیسی کے خلاف خاموش کیوں ہیں؟ اگر وہ واقعی جمہوریت چاہتے تھے تو ان کو تو ڈاکٹر مرسی کی حکومت کا ساتھ دینا چاہیے تھا اور سیسی کے خلاف بھی ویسے ہی منظم مظاہرے کرنے چاہیے تھے جیسے انھوں نے حسنی مبارک کے خلاف کیے۔

حالانکہ ایسا نہ ہوا۔ بنیادی طور پر سوشل میڈیا تحریکوں کے پیچھے جدید تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل نوجوان ہوتے ہیں، جو معاشرے کے بنیادی اور عوامی مسائل پر بات کرتے ہیں رائے عامہ کو ہموار کرتے ہیں اور ان کو اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر لاتے ہیں۔ ان نوجوانوں کی سوچ کا مرکز ان کا تعلیمی نظام ہے جس سے وہ نکل کر آرہے ہوتے ہیں وہی نظام ان کے مابین نقطہ اشتراک بن جاتا ہے۔ جمہوریت، سیکولر نظام، قانون کی حکمرانی، کرپشن کا خاتمہ، عوامی مسائل پر اظہار نظر وہ چیزیں ہیں جو ان نوجوانوں اور عوام کو ایک سوچ اور محور پر لاتی ہیں۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک خاص طرز فکر کے حامل افراد کی ایک تحریک جنم لے لیتی ہے۔ عوام کو اپنے مسائل سے سروکار ہوتا ہے وہ تحریک میں افرادی قوت کا کام کرتے ہیں۔ تحریک کے فلسفہ کی تشکیل کی ذمہ داری ان تعلیم یافتہ نوجوانوں کے کندھوں پر ہی ہوتی ہے، جو عوامی مسائل کے حل کو اپنی دانست میں جو بہتر سمجھتے ہیں پیش کرتے ہیں۔ یہ مرحلہ ایک طویل گفت و شنید کے بعد طے پاتا ہے۔ مجھے حال ہی میں دو ایسی ہی تحریکوں کو قریب سے مشاہدہ کرنے کا اتفاق ہوا۔ ایک تحریک لبنان میں اس وقت برپا ہے اور دوسری تحریک کا مرکز عراق ہے۔

پہلے تو میں یہ بات واضح کرنا چاہوں گا کہ یہ تحریک کھوکھلے نعروں پر استوار نہیں ہوتی ہے، بلکہ اس کے پیچھے حقیقی مسائل ہوتے ہیں۔ لبنان میں کرپشن، مہنگائی، ٹیکس کا نظام، سیاسی جماعتوں کی اقتدار کے لیے رسہ کشی وہ چیزیں ہیں جو عرصہ دراز سے لبنانی عوام کے لیے درد سر بنی ہوئی ہیں، یہی حال عراق کا ہے مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن، مفلوک الحالی اور بنیادی وسائل کی عدم دستیابی نے عراقی عوام کا جینا دو بھر کر رکھا ہے۔ یہ تو ہیں عوامی مسائل تاہم ان کا حل کیا ہے، جدید تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل سوشل میڈیا نسل نے دونوں ملکوں میں ان مسائل کے حل کی اپنی اپنی حکمت عملیاں پیش کی ہیں۔ لبنانی سوشل میڈیا نسل کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک کے مسائل کی بنیادی وجہ ملک میں نافذ فرقہ وارنہ نظام ہے، یاد رہے کہ یہ فرقہ وارانہ نظام لبنان میں نیا نہیں ہے، فرانس نے لبنان کی آبادی اور وہاں موجود مسالک کے تناظر میں لبنان کو یہ نظام دیا جس میں معاہدہ طائف کے تحت بہتری لائی گئی تاہم کل کی یہ دوا جس نے لبنانی معاشرے کو خانہ جنگی سے نجات بخشی تھی آج کی نسل کی نظروں میں زہر قاتل بن چکی ہے اور لبنانی معاشرے کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔

سوشل میڈیا نسل کے نزدیک اس مسئلے کا حل ملک میں سیکولر نظام کا قیام ہے اور اس کے لیے وزیراعظم کا استعفیٰ، کابینہ کا استعفیٰ، ملک میں موجود سیاسی نظام کا خاتمہ، نئے انتخابات لازمی ہیں۔ باتیں تو بہت بھلی ہیں تاہم جتنی سادہ نظر آتی ہیں اس قدر سادہ ہیں نہیں۔ کسی بھی ملک میں موجود نظام کو بدلنے کے لیے بہت بنیادی سطح پر تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بیروت، طرابلس، صعدہ میں نکلنے والے یہ نوجوان عوامی مسائل کو سامنے رکھ کر نکل تو آئے ہیں تاہم جو مثالی حل ان کے پیش نظر ہے اس کو عملی شکل دینا اتنا آسان نہیں جس قدر انھوں نے سمجھ رکھا ہے۔ اسی بات پر حسن نصر اللہ نے کہا کہ اگر حالات اسی نہج پر رہے تو ملک میں دوبارہ خانہ جنگی کے شروع ہونے کا اندیشہ ہے۔ سید حسن نصر اللہ درست کہتے ہیں لبنان کو تبدیلی کے لیے ابھی ایک طویل سفر طے کرنا ہے۔ عراق کی صورتحال بھی مختلف نہیں ہے عبد المہدی کی حکومت کو ابھی بمشکل ایک برس ہوا ہے، ایک برس میں کسی بھی حکومت کے اختیار میں نہیں کہ وہ ملک کے متنوع مسائل کو یک لخت حل کردے۔ انتخابات، چہروں کی تبدیلی، آئین کی کچھ شقوں کے بدل جانے سے ملکوں کے مسائل حل نہیں ہوتے ہیں۔ فیس بکی یا سوشل میڈیا دانشوروں کو یہی بات سمجھ نہیں آتی ،وہ ان مثالی نظریات اور عقائد کے تناظر میں اپنی تحریک کو بہت اخلاص سے آگے لے کر چل رہے ہوتے ہیں جو افسوس کے ساتھ زیادہ تر مغربی افکار اور نظاموں سے متاثر ہیں۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
خبر کا کوڈ : 824969
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب