0
Friday 1 Nov 2019 15:17

دہشتگردی کی تعریف

دہشتگردی کی تعریف
تحریر: سردار تنویر حیدر بلوچ

جنگوں، آفات اور حادثات کی طرح دہشت گردی بھی عالم انسانیت کیلئے نقصانات اور تباہی کا باعث ہے۔ پاکستان چار دہائیوں سے اسکا شکار ہے، مشرق وسطیٰ بھی اس عفریت کو جھیل رہا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد مغربی دنیا نے جنگ عظیم اول کے نتیجے میں تخلیق کی گئی وار مشین کا رخ بدل کر کیمونزم کیخلاف مذاہب کے تحفظ کے نام پر موڑ دیا۔ اسکا محاذ بھی بدل کر تیسری دنیا کو تخریب کاری اور دہشت گردی کی آگ میں دھکیلا گیا۔ پاکستان امریکہ کا اس جنگ میں کئی دہائیوں تک صف اول کا اتحادی رہا۔ ڈالر کی ریل پیل اور روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے کے چکر میں حکمرانوں نے اس اتحاد کو جواز فراہم کیے۔ لیکن نتائج بالکل اس کے برعکس نکلے، مقتدر افراد نے صرف حکمرانی کا خواب اور مغربی ممالک میں جائیدادیں سمیٹیں۔ دہشت گردی اس اتحاد کا تحفہ ہے۔ اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر عمران خان کے دورے میں انہوں نے اس موقف کو دہرایا کہ مغربی طاقتوں کے ایماء پر شروع ہونیوالی سوویت مخالف جنگ کیوجہ سے پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے۔

نائن الیون کے واقعہ کو ایک بار پھر امریکی انتظامیہ نے مسلمان ممالک میں اپنے پاؤں جمانے کیلئے استعمال کیا۔ اسامہ بن لادن کو دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد قرار دیا، پھر انہیں پاکستانی علاقے میں ایک مشکوک فوجی آپریشن کے ذریعے قتل کیا گیا۔ گذشہ دنوں مغربی اور عربی اتحادیوں کی تخلیق کردہ وحشی تنظیم داعش کے خود ساختہ خلیفہ ابوبکر بغدادی کو شام کے علاقے میں ایبٹ آباد طرز کے فوجی آپریشن میں نشانہ بنانے کی خبر دی گئی، جسے روس سمیت عالمی برادری نے مشکوک قرار دیا۔ خود شام میں امریی افواج کی موجودگی اور افغانستان پہ فوجی قبضے کو کسی ڈکشنری میں دہشت گردی تسلیم نہیں کیا گیا، لیکن کشمیر اور فلسطین میں آزادی کی جنگ لڑنے والے دہشت گرد ہیں، حزب اللہ اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کیخلاف بھی یہ پروپیگنڈہ جاری رہتا ہے۔ سعودی رجیم نے یمن میں جو تباہی مچائی ہے، اسے دفاع کی جنگ کا نام دیا جاتا ہے۔ پاکستان بھی انہیں تضادات کا شکار ہے۔ اس کی سب سے آخری مثال پیمرا کا اینکر پرسنز کو نوٹس ہے، اپوزیشن جماعتوں کیخلاف غداری کے الزامات بھی اس میں شامل ہیں۔ گڈ اور بیڈ طالبان کی گنتی سے ہم باہر نکل آئے ہیں، لیکن حکومتیں اب بھی پرانے حربے استعمال کر رہی ہیں۔

سانحہ ساہیوال کے ملزمان کی بریت کے چند روز بعد سپریم کورٹ نے دہشت گردی کی تعریف کی ہے، جس کا ارادہ چیف جسٹس نے اپنا منصب سنبھالتے ہی ظاہر کیا تھا، لیکن انہوں نے عدلیہ میں ماڈل کورٹس سمیت کئی منصوبے شروع کیے اور وہ کامیاب رہے۔ اب آکر انہوں نے دہشت گردی کی تعریف بھی کر ڈالی، یہ اچھی روایت ہے، لیکن عدلیہ کی طرف سے پہلی دفعہ کسی نکتے کی تعریف نہیں کی گئی۔ اصل چیلنج معاشرے میں سوچ کو بدلنا اور انتظامیہ کو درست ڈگر پہ لانا ہے۔ اس کے باوجود یہ اچھا اور قابل قبول حوالہ ہے۔ اصولی طور پر اس سے اگلا کام خود سیاسی اور سماجی رہنماؤں بالخصوص حکومت کا ہے۔ موجودہ چیف جسٹس کا زیادہ زور اس پہ تھا اور ہے کہ عدالتوں میں ذاتی عناد اور دشمنیوں کے بدلے اور انتقام کیلئے مقدمات لائے جاتے ہیں، جھوٹی گواہیوں اور من گھڑت شواہد کا سہارا لیا جاتا ہے اور انسداد دہشت گردی کے قوانین کا سہارا لیکر دہشت گردی کے خاتمے کیلئے بنائے گئے قانون کے ذریعے عدالت کا وقت برباد کیا جاتا ہے، جس سے انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ یہ رجحان پیدا ہی دہشت گردی کے عالمی عفریت کی وجہ سے ہے، پاکستان میں قانون کی عملداری نہ ہونے کی وجہ سے ان قوانین سے سوِ استفادہ ایک معمول بن چکا ہے، عدالت اس عمل کو روکنا چاہتی ہے۔

چیف جسٹس نے سفارش کی ہے کہ پارلیمنٹ دہشت گردی کی تعریف بین الاقوامی معیار کے تناظر میں کرے اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تیسرے شیڈول میں شامل ان تمام جرائم کا خاتمہ کرے، جن کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے سات رکنی لارجر بینچ نے دہشت گردی کی تعریف سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کیا ہے، 80 صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ چیف جسٹس نے خود تحریر کیا ہے کہ منظم مذہبی، نظریاتی اور سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے پُرتشدد کارروائی، حکومت یا عوام میں منصوبے کے تحت خوف و ہراس پھیلانا، جانی و مالی نقصان پہنچانا دہشت گردی ہے۔ دہشت گردی کی تعریف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا  ہے کہ منصوبے کے تحت مذہبی طور پر فرقہ واریت پھیلانا، صحافیوں، کاروباری برادری، عوام اور سماجی شعبے پر حملے کرنا دہشت گردی ہے، البتہ ذاتی عناد یا دشمنی کے باعث پولیس، افواج پاکستان اور سرکاری ملازمین کے خلاف پُرتشدد واقعات میں ملوث ہونا دہشت گردی نہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہم جس تشدد کا شکار ہیں، وہ بنیادی طور پر مذہب کے لبادے میں سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لیے شروع کیا گیا تھا، جسکا سلسلہ رکا نہیں۔

سرزمین پاکستان پر سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار بننے والے تشکیل پاکستان میں بنیادی کردار ادا کرنیوالے اہل تشیع ہیں۔ اس کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں کہ اہل تشیع کو ہمیشہ سے جس تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اس کے پسِ پردہ مقاصد سیاسی ہی تھے۔ اس کے علاوہ کسی کو یہ جرات ہی نہیں کہ نواسہؑ رسولؐ کے ذکر شہادت کو روکنے کی کوشش کرے، واقعہ کربلا کے غم اور قتلِ حسینؑ پہ ہونیوالے احتجاج کے طور پر برپا ہونیوالے مراسم کو آکر روک سکے۔ امریکی ایماء پر افغانستان میں ہونیوالی جنگ سے استفادہ کرنیوالوں نے سب سے پہلے اہل تشیع کو نقصان پہنچایا، 1988ء میں گلگت میں یوم القدس منانے کی پاداش میں لشکر کشی کی گئی، ڈیرہ اسماعیل خان میں جلوس روکا گیا، ساہیوال اور سیالکوٹ میں شیعہ علماء کو شہید کیا گیا، پشاور میں علامہ عارف حسینی کو سازش کے تحت شہید کروایا گیا، جھنگ میں جلاو گھیراؤ اور قتل و غارت کا بازار گرم رہا، کراچی کو لہو لہاں کر دیا گیا، کوئٹہ آج بھی غم کی تصویر ہے، کرم ایجنسی کو غزہ بنا دیا گیا، ان میں سے کچھ بھی ذاتی بنیادوں پر نہیں ہوا، یہ سیاسی اھداف کیلئے ہوتا رہا، جو تھما نہیں۔ اب اہل تشیع کارکنوں کو حکومتیں غائب کر رہی ہیں، عدالت ان اداروں کو طلب کرتی ہے، وہ تلاش کرنے کا وقت مانگتے ہیں، لیکن ان کے لواحقین کربلا سے شام کے سفر میں گم ہونیوالے بچوں کی یاد کو یاد کرکے بے بسی کی تصویر بنے رہتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کی تعریف کرکے یہ بتا دیا گیا کہ ذاتی مقصد یا وجوہ پہ ہونیوالے ہر قسم کے تشدد کو دہشت گردی نہ کہا جائے۔ کیا اس مسئلہ حل ہوجائیگا۔؟ صرف وکلاء عدالتوں میں یہ ثابت کرنیکی کوشش کرینگے کہ کسی مخصوص مسلک کیخلاف ہونیوالا تشدد غیر سیاسی ہے، جس طرح مذہب اور سیاست کو الگ گردانہ جاتا ہے اور کیس نمٹا دیا جائیگا۔ سیاسی ڈھانچہ اور عوام کے ووٹ کے بل بوتے پر آنیوالے جس طرح لاپتہ افراد کو بازیاب کروانے اور یہ سلسلہ رکوانے میں کامیاب نہیں ہوسکے، وہ انسداد دہشت گردی کے قوانین کا غلط استعمال رکوانے میں کیسے کامیاب ہوسکتے ہیں، انہیں صرف حکمرانی کا مقصد حاصل کرنیکی فکر ہوتی ہے، کسی اصول کی پرواہ نہیں کرتے، کل قاضی عیسیٰ فائز کے فیض آباد دھرنے کی مخالفت کرنیوالی پی ٹی آئی حکومت نے آزادی مارچ کو روکنے کیلئے حوالے کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے روکا جائے۔ قانون کی عمل داری سے ہی معاشرے میں عدل و انصاف کا بول بالا ہوسکتا ہے، جس کے بغیر آزادی کے لیے دی جانیوالی قربانیوں کے مقاصد کی تکمیل ممکن نہیں، سپریم کورٹ نے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے، اچھا فیصلہ دیا ہے، انتظامیہ کو قانون کے دائرے میں لانا حکومت کی ذمہ داری ہے، حکومت کو احساس دلانا سیاسی جماعتوں اور قومی رہنماؤن کا فریضہ ہے۔ پاکستان کا اچھا مستقبل خطے کی ترقی کا ضامن ہے، جس کے لیے قانون کی حکمرانی ضروری ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 825030
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب