0
Saturday 2 Nov 2019 12:44

یمن کے محاذ پر کیا سعودی عرب تنہا رہ جائے گا؟

یمن کے محاذ پر کیا سعودی عرب تنہا رہ جائے گا؟
تحریر: ثاقب اکبر
 
یمن کے حوالے سے آنے والی مختلف خبریں رفتہ رفتہ مستقبل کی تصویر واضح کر رہی ہیں۔ ہم اس مضمون میں ان خبروں پر ایک نظر ڈالیں گے اور ان سے نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کریں گے۔ گذشتہ جمعرات(31 اکتوبر 2019ء) کو کئی پہلوﺅں سے پیشرفت دکھائی دی۔ مختلف طرح کی خبریں آتی رہیں۔ اچانک صورت حال میں ڈرامائی تبدیلیاں بھی ہوتی رہیں۔ اس سے ایک دو دن پہلے کی خبریں بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ یمن کے کئی قبائل جو صنعا کی انصار اللہ کی حکومت سے ابتدا میں الگ ہوگئے تھے یا دوسرے گروہ سے مل گئے تھے، آہستہ آہستہ اس حکومت سے مل رہے ہیں۔ اس سلسلے میں متعدد قبائل نے صنعا کی حکومت کے ساتھ وفاداری کے معاہدے کیے ہیں۔ 30 اکتوبر کو الحجہ کے علاقے میں کشر قبائل نے صنعا حکومت سے اپنی وفاداری کا اعلان کیا اور اس سلسلے میں ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ اس موقع پر حکومت کی طرف سے معاہدے پر الحجہ کے گورنر ہلال الصوفی اور انصار اللہ کے قائد سید عبدالملک الحوثی کی طرف سے محمد علی الحوثی نے دستخط کیے۔
 
بدھ 30 اکتوبر کو ہی سوڈان کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ اس نے یمنی محاذوں سے اپنی دس ہزار فوج واپس بلا لی ہے۔ سوڈانی فوجی ترجمان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ان فوجیوں کی جگہ اب سوڈانی افواج نہیں بھجوائی جائیں گی۔ اس طرح سے گویا سوڈان یمن کے خلاف سعودی قیادت میں قائم محاذ سے عملاً الگ ہوگیا ہے۔ اس فیصلے کی تائید سوڈان کے چیف آف جنرل سٹاف کامل عبدالروف نے اپنے ٹویٹر اکاﺅنٹ پر بھی کی ہے۔ ساورن کونسل آف سوڈان (Sovereign Council of Sudan) کے ڈپٹی ہیڈ جنرل محمد ہمدان داگلو نے اس سلسلے میں تفصیلات جاری کی ہیں۔
 
گذشتہ دو ماہ سے عدن میں سعودی اور اماراتی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے مابین معرکہ آرائی جاری ہے۔ اس کے خاتمے کے لیے جدہ میں 31 اکتوبر کو طرفین نے ایک معاہدے پر دستخط کیے، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ عدن کی حکومت میں دونوں ملکوں کے حمایت یافتہ گروہوں کو تین تین وزارتیں دی جائیں گی، لیکن ابھی اس معاہدے کا اعلان نہیں ہوا تھا کہ عدن میں پھر دونوں گروہوں کے مابین مسلح تصادم شروع ہوگیا۔ یوں لگتا ہے کہ بہرحال ایک گروہ کو عدن میں پیچھے ہٹنا پڑے گا، ورنہ وہاں امن قائم نہیں ہوسکے گا۔ سعودی عرب اور اس کے حامی جو سابق مستعفی یمنی صدر ہادی کی نمائندگی کرتے ہیں، کی کوشش یہ ہے کہ امارات کو حکومت میں کوئی حصہ نہ دیا جائے۔ شاید بالآخر امارات بھی پیچھے ہٹ جائے اور اس جنگ سے ہی چھٹکارا پا لے۔ امارات کے کئی ایک اقدامات اس امکان کے عملی ہونے کو ظاہر کرتے ہیں۔
 
30 اکتوبر کو ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی خبروں کے مطابق متحدہ عرب امارات نے جزیرہ زقر سے اپنی افواج نکال لی ہیں۔ یہ جزیرہ حنیش جزیرے کے شمال میں الحدیدہ کے مغربی ساحل کے قریب واقع ہے۔ اس کا رقبہ 185 مربع کلو میٹر ہے۔ بحیرہ احمر میں اس جزیرے کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ فی الحال اماراتی فوج کے نکلنے کے بعد سابق مستعفی یمنی صدر ہادی کے حامی اس کا کنٹرول سنبھالیں گے۔ امارات کے اس محاذ سے الگ ہو جانے کے بعد عملی طور پر سعودی عرب اس جنگ میں اکیلا رہ جائے گا۔ لہٰذا انصار اللہ کے لیے بھی جنگ آسان ہو جائے گی۔ انصار اللہ کی طاقت گذشتہ دو ماہ میں پوری دنیا دیکھ چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں بھی اس نے کئی ایک سعودی اور امریکی ڈرونز کو مختلف علاقوں میں مار گرایا ہے۔

31 اکتوبر کو راس عیسیٰ میں ایک سعودی ڈرون گرایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسی روز یمنی توپوں نے عسیر کے علاقے میں ایک امریکی ڈرون بھی مار گرایا ہے۔ علاوہ ازیں 30 اکتوبر کو راس عیسیٰ میں آل سعود کا ایک زمینی حملہ بھی انصار اللہ نے ناکام بنا دیا ہے۔ انہی دنوں میں عدن میں وزارت دفاع کے مرکز پر راکٹ گرے ہیں، جس میں کئی ایک افراد کی ہلاکت کی خبریں ہیں۔ عدن میں قائم جلا وطن صدر کی حکومت کے وزیر دفاع اگرچہ اس حملے میں محفوظ رہے ہیں، تاہم کہا جا رہا ہے کہ یہ حملہ انصار اللہ نے کیا ہے۔ انصار اللہ کی حامی افواج اس سے پہلے بھی عدن پر کئی ایک زبردست حملے کرچکی ہیں۔
 
اس صورت حال میں ثالثی کی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے یمن کے حوالے سے نمائندے مارٹن گریفٹس نے صنعا میں سید عبدالملک الحوثی سے ملاقات کی ہے، جس میں انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ یمن کے محاصرے کو ختم کرنے، دشمنوں کے حملے رکوانے اور انسانی امداد کو یمن تک پہنچانے میں اقوام متحدہ اپنا کردار ادا کرے۔ اقوام متحدہ کا کردار دراصل امریکا اور دیگر مغربی طاقتوں کی تائید ہی سے ممکن ہے، البتہ خود سعودی عرب اس میں محکم فیصلہ کرسکے تو صورت حال فوری طور پر تبدیل ہوسکتی ہے۔ ورنہ سعودی عرب کی اقتصادیات کو جتنا نقصان اس بے جواز جنگ کی وجہ سے پہنچ چکا ہے، وہ جاری رہے تو سعودی عرب مزید کمزور ہو جائے گا۔
 
بعض لوگوں کی طرف سے یہ سوال جائز ہے کہ پاکستانی فوج کے چند ہزار سپاہی جو سعودی عرب میں موجود ہیں، ان کا مستقبل کیا ہے۔ اس سوال کے جواب میں چند نکات بڑے اہم ہیں۔ اول یہ کہ پاکستانی فوج کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ یمن کی جنگ میں شریک نہیں۔ اس سلسلے میں عالمی خبر رساں اداروں کے پاس بھی زیادہ خبریں نہیں ہیں یا شاید یہ خبریں دی نہیں جا رہیں، تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے جو فوجی اس وقت سعودی عرب میں موجود ہیں، وہ تربیت، مشاورت اور شاہی خاندان کی حفاظت پر مامور ہیں۔ مڈل ایسٹ آئی نے 29 جنوری 2019ء کو ایک مضمون شائع کیا، جس کا عنوان ہے: Why Pakistan is sending 1,000 troops to Saudi Arabia.
 
اس کا پس منظر یہ ہے کہ یمن پر سعودی قیادت میں حملے کے آغاز پر سعودی عرب نے پاکستان سے فوجی تعاون کی اپیل کی تھی، لیکن پاکستان کی پارلیمنٹ نے اس سلسلے میں غیر جانبدار رہنے کی متفقہ قرارداد منظور کی، جس کی وجہ سے فوری طور پر پاکستان نے سعودی عرب کی فوجی مدد کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔ تاہم تین سال بعد پاکستانی فوج نے ایک ہزار فوجی سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ اس اقدام کے بارے میں پاکستان کی سینیٹ نے اُس وقت کے وزیر دفاع خرم دستگیر سے پوچھا کہ پارلیمنٹ کی قرارداد کے برخلاف ایسا اقدام کیوں کیا گیا ہے۔ وزیر دفاع نے دیر سے دیئے گئے جواب میں وضاحت کی کہ یہ فوجی کسی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اس سے پہلے بھی سولہ سو پاکستانی فوجی سعودی عرب میں موجود ہیں۔
 
مذکورہ رپورٹ میں مختلف ماہرین اور تجزیہ کاروں کے حوالے سے وضاحت کی گئی ہے کہ سعودی حکمران سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے جوانوں پر اعتماد نہیں کرسکتے، اس لیے پاکستانی فوجیوں کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔ یہ بات رائل یونائٹیڈ سروسز کے استاد کمال عالم نے کہی۔ سی آئی اے کے سابق تجزیہ کار بروس ریڈیل نے مڈل ایسٹ آئی کو بتایا کہ کہ اسے یقین ہے کہ نئی تعیناتی بنیادی طور پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی ذاتی گارڈ فورس کے طور پر کی جائے گی، جو رائل باڈی گارڈز کی مدد کرے گی۔ انھوں نے بتایا کہ قبل ازیں شاہ فیصل اور شاہ فہد کی حفاظت کے لیے بھی پاک فوج کی مدد فراہم کی جا چکی ہے۔
 
1979ء میں حرم میں ہونے والے واقعے کے بعد پاکستانی فوجیوں نے وہاں موجود سعودی حکومت کے باغیوں کو نکالنے کے لیے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ پھر ایران عراق جنگ کے دوران میں دسیوں ہزار پاکستانی فوجی سعودیہ میں موجود رہے۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو پاکستانی فوج کا سعودی شاہی خاندان کی حفاظت اور مدد میں بہت اہم کردار رہا ہے۔ یمن کے محاذ پر سعودی فوج ہارے یا جیتے یا کسی سفارتکاری کے نتیجے میں جنگ بند ہو جائے، سعودی حکمرانوں کی حفاظت کا فریضہ پاکستانی فوج ادا کرتی رہے گی۔ اس سلسلے میں پاکستان کے آرمی چیف اور وزیراعظم باقاعدہ سرکاری حیثیت سے بیانات دے چکے ہیں۔
 
مسئلہ صرف سعودی شاہی خاندان کی بقا کا ہے، وہ جب تک مالی سرپرستی کرسکتا ہے اور اقتدار پر موجود ہے، اس صورتحال میں کوئی بنیادی تبدیلی شاید نہ ہوسکے۔ تاہم پاکستان کے سعودی عرب میں موجود مزدور آہستہ آہستہ کم ہو رہے ہیں اور واپس بھی آرہے ہیں۔ واپس آنے والے اپنے غم و اندوہ کو بیان کرتے ہیں۔ سعودیوں نے ان کا جس طرح سے استحصال کیا ہے اور ان کی کئی کئی ماہ کی تنخواہیں نہیں دیں، اس کا قصہ بیان کرتے ہیں۔ ان کی فریاد اونچے ایوانوں تک کم ہی پہنچتی ہے۔ اللہ نہ کرے کہ ہمارے فوجی ایسی کسی مشکل سے دوچار ہوں۔ یمن کے محاذ پر اگرچہ سعودی عرب تنہا رہ جائے، لیکن سعودی شاہی خاندان کو یقین ہے کہ پاکستان آخر وقت تک اسے تنہا نہیں چھوڑے گا۔
خبر کا کوڈ : 825301
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے