0
Sunday 3 Nov 2019 11:10

پردہ گرنے کی نگاہ ہے منتظر

پردہ گرنے کی نگاہ ہے منتظر
اداریہ
سامراجی طاقتوں نے تیسری دنیا کے ممالک کو جمہوریت کا لولی پاپ دیکر خوش کر دیا، لیکن انہوں نے پس پردہ بلواسطہ حکومت کرنے کے منصوبے کو بھی عملی جامہ پہنا دیا۔ تیسری دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی جمہوریت کا ماضی قابل رشک نہیں ہے۔ چند پارٹیوں کا پورے ملک پر قبضہ ہے اور ان پارٹیوں پر خاندانی قبضہ ہے۔ ان میں اکثر انگریز کے مراعات یافتہ خاندان ہیں یا بعد میں پاکستانی فوج نے اپنی سیاسی نرسری میں پال کر انہیں بڑا کیا۔ ان میں کچھ نے جمہوری اور کچھ نے انقلابی ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے۔ پاکستان میں حکمرانوں کی تبدیلی میں عوام سے زیادہ فوج کا کردار رہا ہے اور اس حقیقت کے بھی سبھی شاہد ہیں کہ گذشتہ 72 سالہ تاریخ میں ایک لمبا عرصہ فوج نے براہ راست اور بقیہ مدت بالواسطہ حکمرانی کی۔ جب کسی حکمران نے فوج کی بات ماننے سے انکار کیا یا تو اس کا تختہ الٹ دیا گیا یا اپوزیشن کو شہ دیکر اس کے ناک میں ایسا دم کیا گیا کہ یا تو وہ پھانسی چڑھ گیا یا جیلوں میں بیماری کے نام پر ضمانتیں مانگتا نظر آیا۔

آج ایک بار پھر ماضی کی طرح اسلام آباد کا گھیراؤ کیا جا رہا ہے۔ بظاہر ملک کی نو جماعتیں حکمران جماعت پی ٹی آئی کیخلاف میدان عمل میں ہیں، لیکن اس احتجاج کے سرخیل جے یو آئی فے کے مولانا فضل الرحمان ہیں، جو ماضی کی تمام حکومتوں میں اقتدار میں شریک رہے۔ وزیراعظم عمران خان ذاتی طور پر مولانا فضل الرحمان کے مخالف ہیں اور برملا کہہ رہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کی موجودگی میں پاکستان کیخلاف یہودیوں کو سازش کی کیا ضرورت ہے، جبکہ دوسری طرف فضل الرحمان، عمران خان کو یہودیوں کا ایجنٹ قرار دے رہے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے عمران خان کو مستعفی ہونے کا جو الٹی میٹم دیا تھا، وہ بھی تیزی سے ختم ہو رہا ہے، جبکہ جے یو آئی (ف) کے کارکن اسلام آباد کے ایچ نائن سیکٹر سے ریڈ زون میں آنے کے لیے بے تاب ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے جب سے اداروں کو چیلنج کیا اور دھرنا دیکر کارکنوں کے ذریعے عمران خان سے استعفیٰ لینے کی بات کی ہے، اپوزیشن کی نو جماعتوں میں اختلاف کھل کر سامنے آگیا ہے۔ اپوزیشن کی جماعتیں دھرنے کی مخالف ہیں اور اجتماعی استعفیٰ دینے پر بھی آمادہ نہیں، جبکہ فضل الرحمان کشتیاں جلا کر آئے ہوئے ہیں۔ جے یو آئی کی قیادت اور پی ٹی آئی کی حکومت دونوں سخت اور دشوار صورتحال سے دوچار ہیں۔ دونوں کے اعصاب کا امتحان ہے۔ عمران خان ابھی تک جارحانہ پالیسی اپنائے ہوئے ہیں، جبکہ فضل الرحمان کو ہزاروں جانثاروں کی بھرپور حمایت حاصل ہے، جو انہیں پیچھے ہٹنے کا موقع فراہم کرنیکے لیے تیار نہیں۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ پاکستان میں اس طرح کی صورت حال کو کبھی حکومت اور اپوزیشن نے حل نہیں کیا، بلکہ اس موقع پر کچھ غیر مرئی طاقتیں میدان میں آتی ہیں، جنہیں کبھی ایمپائر کہا جاتا ہے، کبھی اسٹیبلشمنٹ اور کبھی ٹرپل ون بریگیڈ۔ دیکھنا یہ ہے کہ اسلام آباد کے حالیہ محاصرے کو کون توڑتا ہے، ایمپائر، اسٹیبلشمنٹ یا ٹرپل ون بریگیڈ۔ پردہ گرنے کی نگاہ ہے منتظر
خبر کا کوڈ : 825384
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب