0
Sunday 3 Nov 2019 11:24

بند گلی میں پھنستی حکومت یا حزب اختلاف!

بند گلی میں پھنستی حکومت یا حزب اختلاف!
تحریر: ممتاز ملک

عوام کا سمندر اس قدر نکلے گا کہ لوگ ایران اور فرانس کے انقلاب کو بھول جائیں گے، اسی سے ملتا جلتا نعرہ 2014ء میں عمران خان نے بھی لگایا تھا کہ عوام کا سونامی ہوگا، جو حکومت اور کرپٹ حکمرانوں کو بہا لے جائے گا، ایک سو چھبیس دن لیکن خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں نے مولانا کے ساتھ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے کھلواڑ کیا ہے، سندھ اور پنجاب دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کے مرکزی صوبوں کے اندر آزادی مارچ کو پذیرائی نہیں ملی، اگر نواز شریف کے ساتھ ساتھ آصف زرداری کو بھی ریلیف دے دیا ہوتا تو بلال بھٹو بھی اسلام آباد میں آزادی مارچ کے پڑاؤ کی پہلی رات کنٹینر پر نہ پہنچے ہوتے۔ جب لاہور سے تحریک انصاف کا مارچ شروع ہوا تھا تو پڑاؤ اسلام آباد کے تقریباً جی اور ایچ سیکٹرز کے درمیان تھا اور وہاں سے پھر آگے ڈی چوک کی طرف مارچ کیا گیا۔

اب بھی پڑاؤ جی اور ایچ سیکٹر کے درمیان ہے، لیکن ایک بات قدرے مختلف ہے، اس مرتبہ سکرپٹ لکھنے والے نے مارچ کو ارد گرد آبادی اور اقتدار کے ایوانوں سے کچھ زیادہ فاصلے پر بٹھایا ہے، اس کی ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے اور وہ ہے مجمع کی سوچ میں فرق۔ یہ مجمع تحریک انصاف والا نہیں ہے، جو سارا دن غیب ہو جاتا تھا اور جونہی گانا پارٹی شروع ہوتی تھی، لوگ جمع ہو جاتے تھے، بلکہ یہ لوگ اپنے قائد کے سامنے سر جھکا کر چلنے والے ہیں، جو یہ نہیں دیکھیں گے اردگرد کیا ہے اور  کس چیز سے ٹکرا رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے حکومت کو دو دن کی مہلت دے کر ماحول کو کچھ زیادہ ہی سنجیدہ اور خطرناک بنا دیا ہے، ہونا کچھ نہیں لیکن بالفرض عمران خان سیاسی شہید بن گئے تو یہ اور زیادہ قوم کے لیے خطرناک ہوگا، جیسے نون لیگ اور پیپلز پارٹی ماضی میں بنتے رہے ہیں اور بار بار قوم پر مسلط ہوتے آئے ہیں۔ عمران خان اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کی گفتگو انتہائی غیر سنجیدہ ہے، جو کسی بھی قانون شکنی پر منتج ہوسکتی ہے۔

عمران خان کو پرویز خٹک اور چیئرمین سینیٹ کی جگہ مذاکراتی کمیٹی میں شاہ محمود قریشی، ندیم افضل چن اور شیریں مزاری کو شامل کرنا چاہیئے، اس کے علاوہ فواد چوہدری، مراد سعید، فردوس عاشق اعوان، زرتاج گل، فیاض الحسن چوہان اور علی امین گنڈا پور کو اس ایشو پر فی الحال بڑھکیں مارنے سے روک دینا چاہیئے۔ جماعت اسلامی اور جمیعت علماء اسلام پر پرو اسٹبلشمنٹ ہونے کا الزام لگتا آیا ہے، لیکن اس مرتبہ سکرپٹ کو تھوڑا زیادہ گنجلک انداز میں الجھایا گیا ہے کہ نامور ملکی تجزیہ نگار بھی ششدر ہیں کہ کیا انجام ہوگا۔ مولانا کے کیا مقاصد ہیں، کشمیر کا ایشو دبایا جا رہا ہے، اپنے آپ کو ایوان میں لانے کی ضد ہے۔ زرداری، خورشید شاہ، نواز شریف اور مریم نواز کو بچانے کی کوشش ہے یا مغرب کو توبرا دکھایا جا رہا ہے۔ اس مارچ اور دھرنے کے اخراجات کہاں سے برداشت کئے جا رہے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ تاجر اور بڑے بزنس مین اسپورٹ کر رہے ہیں، لیکن ان سب قیاس آرائیوں کے باوجود کچھ نہیں ہوگا۔

مولانا کے وزیراعظم کے مستعفی ہونے جیسے بڑے مطالبے جیسا کوئی بڑا بندہ یا ادارہ جب انہیں مستقبل میں کوئی بڑی یقین دہانی کروا دے گا تو دھرنا پرامن انداز میں جیسے آیا تھا، ویسے واپس چلا جائے گا۔ پیپلزپارٹی اور نون لیگ کبھی بھی مولانا کے قد کو اپنے سے بڑھتا ہوا نہیں دیکھ سکتی ہیں۔ میرا تو خیال تھا کہ ان کرپٹ لوگوں سے تو بہتر تھا، مولانا مجلس عمل کے ساتھیوں کو ساتھ لے کر چلتے تو آج حکومت پر دباؤ ڈالنے کی بہتر پوزیشن میں ہوتے، کیونکہ آپ سب نے دیکھا ہوگا، ابھی تک مذہبی سیاسی جماعتوں کے قائدین میں سے کوئی بھی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرنے نہیں پہنچا، چاہے وہ سراج الحق صاحب، ساجد نقوی صاحب، مولانا ابوالخیر صاحب یا ساجد میر صاحب ہوں اور رہی سہی کسر اس مارچ کو کمزور کرنے میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے بھی دھرنا اور ڈی چوک نہ جانے کا عندیہ دے کر نکال دی ہے اور اعتزاز احسن نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن فساد کرنے آئے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 825390
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب