0
Tuesday 5 Nov 2019 15:29

ہرمز امن پلان اور سعودی عرب و بحرین

ہرمز امن پلان اور سعودی عرب و بحرین
اداریہ
دنیا میں سفارت کاری کے کئی ادوار رہے ہیں، ایک دور تھا جب لیگ آف نیشن کا طوطی بولتا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ کا ادارہ تشکیل پایا۔ لیکن اقوام متحدہ میں سکیورٹی کونسل کا ادارہ اور اس میں پانچ ممالک کی اجارہ داری اور ویٹو پاور نے عالمی سفارت کاری کو نئے خطرات سے دوچار کر دیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس اور اس میں تمام رکن ممالک کے سربراہوں یا نمائندوں کا خطاب ایک عالمی سیاسی میلے سے کم نہیں ہوتا، لیکن بعض ممالک اس اجتماع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا اور علاقے کے لیے اپنا منصوبہ یا پلان پیش کرتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اس سال جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خلیج فارس میں امن و سلامتی کو ممکن بنانے کے لیے ایک نیا منصوبہ پیش کیا۔ علاقائی مسائل کے حل کے لیے جہاں یورپ وغیرہ نے علاقائی اتحاد تشکیل دے رکھے ہیں، وہاں ایشیائی اور عرب ممالک نے بھی مختلف علاقائی ادارے بنا کر رکھے ہیں، جن میں خیلج فارس تعاون کونسل، عرب لیگ، سارک، ای سی او، شنگھائی تعاون تنظیم کا نام لیا جاسکتا ہے۔

ان اداروں کی افادیت سے ہرگز انکار نہیں کیا جاسکتا، لیکن بدقسمتی سے وقت گزرنے کیساتھ ساتھ ان اداروں پر کسی ایک ملک یا مخصوص لابی کا تسلط نمایاں ہونے لگتا ہے، جس سے اس ادارے کی حیثیت جانبدار ہونا شروع ہو جاتی ہے اور غیر جانبدار ممالک اس میں دلچسپی لینا کم کر دیتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے انقلاب کی کامیابی کے بعد دنیا میں رائج روایتی سفارتکاری کا ساتھ دیتے ہوئے ہمیشہ علاقائی دفاعی اتحاد پر تاکید کی ہے۔ ایران کی اس بات کو اگر شروع میں تسلیم کر لیا جاتا تو عراق ایران کی آٹھ سالہ جنگ نہ ہوتی، کویت پر صدام کا حملہ روکا جاسکتا تھا، یمن پر سعودی عرب کی جارحیت پر قابو پایا جا سکتا تھا۔ اسی طرح خلیج فارس میں جہاز رانی اور تیل کی سپلائی کے مسائل بالخصوص آئل ٹینکروں کی جنگ جیسے سانحات وقوع پذیر نہ ہوتے۔

ایران کے صدر ڈاکٹر روحانی نے ماضی کے بحرانوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس سال جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ہرمز امن منصوبہ پیش کیا، تاکہ آبنائے ہرمز اور خیلج فارس میں علاقائی ممالک کی مدد سے ایسا سکیورٹی پلان تشکیل دیا جائے، جس سے بیرونی مداخلت کے بغیر علاقائی ممالک سر جوڑ کر بیٹھیں اور دنیا کے چالیس فیصد تیل کو امن و سلامتی کے ساتھ سپلائی کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنائیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایرانی صدر نے اپنے دستخطوں کے ساتھ کویت کے ذریعے سعودی عرب اور بحرین کو اس پلان کا خاکہ ارسال کیا ہے اور باوثوق ذرائع کے مطابق سعودی عرب اور بحرین کے سربراہوں نے اس پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایران، سعودی عرب اور بحرین اگر ہرمز امن منصوبے پر رضا مند ہو جائیں تو امریکہ سمیت بعض ممالک کا خلیج فارس کے پانیوں میں اثرونفوذ کم ہوسکتا ہے اور علاقائی ممالک مل کر اس آبی راستے کو محفوظ بنانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 825714
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب