0
Wednesday 6 Nov 2019 10:54

مشرق وسطیٰ کا نیا کھلاڑی

مشرق وسطیٰ کا نیا کھلاڑی
اداریہ
مشرق وسطیٰ کے وہ عرب ممالک جنہیں خدا نے تیل کی دولت سے مالامال کیا ہے اور ان کی آمدنی ان کے اخراجات سے کئی گنا زیادہ ہے، ان کے حکمران عوام کی تعلیمی، سماجی اور فلاحی صورتحال کو بہتر بنانے کی بجائے نئے نئے ایڈونچر کرنے میں مصروف ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر وغیرہ کے حکمرانوں کی شاہ خرچیاں زبان زد خاص و عام ہیں۔ لیکن اب ان کی نئی نسل میں سیاسی میدان اور دوسرے ممالک میں اپنا اثر و نفوذ بڑھانے کا شوق بڑی تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے، اس میں علاقے کے بعض حالات اور نوجوان شہزادوں اور ولی عہدوں کا امریکی حکام سے قریبی رابطہ بھی شامل ہے۔ اس کی ایک مثال ڈونلڈ ٹرامپ کے داماد جرج کوشنر کے بن سلمان و بن زائد سے قریبی تعلقات ہیں۔ کوشنر کے ان تعلقات کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی خارجہ سیاست میں باآسانی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ امریکی حکام اور کوشنر جیسے افراد عرب شہزادوں کو اپنے مذموم اہداف کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

سعودی عرب تو شروع ہی سے تمام عرب ممالک پر غالب رہنے کی کوشش کرتا تھا، جس کی عملی تصویر عرب لیگ اور خلیج فارس تعاون کونسل میں سعودی عرب کی اجارہ داری کی شکل میں دیکھی جا سکتی ہے۔ گذشتہ چند سالوں میں عرب دنیا کے دو اور کھلاڑی قطر اور متحدہ عرب امارات بھی علاقائی سیاست میں زیادہ فعال ہوگئے ہیں۔ قطر کی سرگرمیوں، بلکہ پھرتیوں کو سعودی عرب نے ناپسند کیا اور اسے کنارے لگانے میں میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا، متحدہ عرب امارات بھی وقتاَ فوقتاَ سعودی چنگل سے آزاد و خود مختار ہونے کی سعی کرتا رہتا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے خطے میں اسلامی بیداری یا بہار عرب میں مل کر شام، لیبیا، بحرین، یمن اور تیونس وغیرہ میں آگے بڑھنے کی کوشش کی، لیکن بعض ممالک میں دونوں کے درمیان اختلافات کی خلیج اس حد تک بڑھ گئی کہ یمن اور لیبیا میں ایک دوسرے کے مقابلے میں آگئے۔

یمن میں تو سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات کو بے دخل کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ متحدہ عرب امارات یمن میں پسپائی کے بعد اب لبنان اور عراق میں بھی سرگرم نظر آرہا ہے۔ حالات و واقعات سے پتہ چلتا رہا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے عراق اور لبنان کے حالیہ مظاہروں میں وسیع سرمایہ گذاری کی ہے۔ عراق کی حکومت نے تو بغداد میں ایک ایسا نیٹ ورک پکڑا ہے، جس کی تمام تر مالی معاونت متحدہ عرب امارات کے ذریعے انجام پا رہی ہے، اسی طرح لبنان کے مظاہرین کو مختلف طرح کی سہولیات فراہم کرنے کی کڑیاں بھی متحدہ عرب امارات سے ملتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے امریکہ نے بیک وقت سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے کی پالیسی بنا رکھی ہے اور اب دونوں کے درمیان دوڑ لگی ہوئی ہے کہ کون امریکہ کا بہتر اور زیادہ فرمانبردار و خدمت گذار بن سکتا ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا، ان میں کون نیا صدام، نیا حسنی مبارک، نیا بن علی اور جدید انور سادات بنتا ہے۔؟
خبر کا کوڈ : 825837
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے