0
Wednesday 6 Nov 2019 11:30

مولانا کا دھرنا اور ممکنہ نتائج

مولانا کا دھرنا اور ممکنہ نتائج
تحریر: طاہر یاسین طاہر

زندہ اور متحرک سماج میں سیاسی حرکیات، جمہوری حیات کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے بھی ٹرین مارچ، لانگ مارچ، جمہوریت بچائو مارچ، عدلیہ بحالی مارچ اور اسی نوع کی دیگر "تحریکیں" پھوٹتیں رہی ہیں۔ سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد جب جماعت کے امیر تھے تو ان دنوں، ان کی قیادت میں جماعت اسلامی کے دھرنوں نے بہت "شہرت" حاصل کی تھی۔ مگر جماعت اسلامی کے دھرنے قلیل المدتی ہوا کرتے تھے۔ میری معلومات کی حد تک طویل دھرنے کی روایت کو سب سے پہلے ڈاکٹر طاہر القادری نے پیپلز پارٹی کے دور میں رواج دیا۔ جب آصف علی زرداری صدر اور راجا پرویز اشرف وزیراعظم تھے۔ کئی باخبر صحافیوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کو بڑی سہولت کے ساتھ پنجاب حکومت نے راولپنڈی فیض آباد تک پہنچایا اور "تھپکی" دے کر اسلام آباد میں داخل کر دیا، کیونکہ پنجاب میں نون لیگ کی حکومت تھی۔ پیپلز پارٹی کی سیاسی حکمت عملی نے ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کو بے اثر کیا۔ انھیں اسلام آباد میں جگہ دی گئی اور ان کی جارحانہ تقاریر کا جواب مشیر داخلہ رحمان ملک اور وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ اپنے اپنے انداز میں دیتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب خود کنٹینر میں ہوا کرتے تھے جبکہ ان کے "مریدین" سڑک پر۔ موسم کی شدت نے بھی ڈاکٹر طاہر القادری کا ساتھ نہ دیا اور نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اسلام آباد سے مذاکرات کے نام پر "سیف ایگزٹ" کر گئے۔

پیپلز پارٹی کے بعد نون لیگ کی حکومت آئی تو سانحہ ماڈل ٹائون نے ہر درد مند پاکستانی کو دکھی کر دیا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے مختلف فورمز پر انتخابات میں دھاندلی کی درخواستیں دائر کی ہوئی تھیں۔ پی ٹی آئی کا مطالبہ تھا کہ نون لیگ کی حکومت صرف چار حلقوں کی گنتی دوبارہ کرائے۔ یہ معاملہ ابھی چل ہی رہا تھا کہ پانامہ لیکس نے پاکستان سمیت دنیا بھر کو ہلا کر رکھ دیا۔ پی ٹی آئی نے انتخابات میں دھاندلی، پانامہ کیس، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، بیروزگاری وغیرہ کو جواز بنا کر اسلام آباد میں ملکی تاریخ کا طویل ترین دھرنا دیا، اس دھرنے کی خاص بات یہ تھی کہ دن کو پی ٹی آئی کے کارکن اپنے دفتری، تعلیمی و کاروباری معاملات نمٹاتے تھے اور سرِ شام سیاسی گانوں کی دھن پر اسلام آباد کی گلیوں سے نمودار ہوتے اور ڈی چوک پہنچ جاتے۔ جہاں جاوید ہاشمی، شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین، اسد عمر اور عمران خان جارحانہ تقاریر کرتے۔

اس دھرنے کے پہلو میں ایک اور دھرنا بھی جاری تھا، جس کی قیادت ڈاکٹر طاہر القادری کر رہے تھے اور ان کا مطالبہ سانحہ ماڈل ٹائون کے ملزمان کی گرفتاری تھا۔ نون لیگ اور اس کی اتحادی جماعتوں نے پی ٹی آئی اور ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کو سنجیدہ لینے کے بجائے پہلے پہل مذاق میں لیا۔ لیکن جب دیکھا کہ اگر پارلیمان کو اعتماد میں نہ لیا گیا تو حکومت جا سکتی ہے تو نون لیگ نے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلایا۔ جہاں پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اعتزاز احسن نے بڑی زبردست تقریر کی، اعتزاز احسن نے دھرنے والوں کے ساتھ ساتھ نون لیگ کی حکومت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ اگر وزیراعظم نواز شریف پارلیمان کو اہمیت دیتے اور فیصلے پارلیمنٹ میں کیے جاتے تو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔

کم و بیش عمران خان کا لہجہ بھی وہی تھا، جو آج کل مولانا فضل الرحمان کا ہے۔ عمران خان نے بھی کہا تھا کہ ایمپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے، پھر انھوں نے بجلی کے بلوں کو جلایا اور سول نافرمانی کے لیے پاکستانی عوام کو اکسایا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے کارکنان نے تو قبریں کھود کر کفن بھی پہن لیے تھے۔ پھر پی ٹی آئی کا دھرنا ڈی چوک سے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے لگا، دونوں "کزنز" گرمجوشی اور امید کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔ جاوید ہاشمی ناراض ہو کر ملتان چلے گئے تھے اور یہ انکشاف کیا کہ دھرنے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ ہے۔ پی ٹی وی پر حملہ ہوا، حتیٰ کہ پارلیمان کی دیواروں تک پی ٹی آئی اور ڈاکٹر طاہر القادری کے کارکنان پہنچ گئے۔ وہاں فورسوز نے انھیں روک لیا۔

موجودہ دھرنے میں مولانا فضل الرحمان کی جارحانہ تقاریر اور قومی سلامتی کے اداروں کو نشانہ بنانے سے پہلے دھرنوں میں جارحانہ رویوں کا پس منظر بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ لوگ غلطی پر ہیں، جو کہتے ہیں کہ دھرنے کی روایت عمران خان نے ڈالی۔ دھرنے دینے کی روایت جماعت اسلامی کی ہے، پھر اسے طویل کرنے کا ہنر ڈاکٹر طاہر القادری نے آزمایا اور طویل تر کرنے کا ریکارڈ پی ٹی آئی نے قائم کیا، یہاں تک کہ اے پی ایس پشاور کا المناک سانحہ پیش آیا، جس نے پوری پاکستانی قوم کو نمناک کر دیا۔ جس کے بعد عمران خان نے دھرنہ ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا، جبکہ قادری صاحب پہلے ہی واپسی کے سفر پر تھے۔

اس امر میں کلام نہیں کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے میں بھی ان کی تنظیم منہاج القرآن کے طلباء و طالبات زیادہ تھے جبکہ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں بھی ان کے مدارس کی "چین" کے طالب علم ہیں، جن میں سے بیشتر تو پہلی مرتبہ اسلام آباد آئے ہیں۔ جیسا کہ انصار الاسلام کے کارکنان صحافیوں کو بتا رہے ہیں۔ مولانا کی گذشتہ روز کی تقریر ان کے بڑھتے ہوئے ہیجان اور پشیمانی کی عکاس تھی جبکہ رہبر کمیٹی کے اکرم درانی نے براہ راست کہا کہ نئے انتخابات فوج کی نگرانی کے بغیر کرائے جائیں۔ مولانا نے کہا کہ ہمیں اشتعال دلایا گیا تو ہمارا ہجوم تمہارے کنٹینرز ماچس کی ڈبیا کی طرح  اٹھا کر پھینک دے گا۔ دھرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ وزیراعظم کا استعفیٰ لیے بغیر نہیں جائیں گے، جبکہ حکومت کا موقف بڑا واضح ہے کہ وزیراعظم کے استعفے کے سوا باقی تمام آئینی مطالبات کو ماننے کے لیے تیار ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان جس روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں، اس کے بعد تو کوئی شخص بھی چالیس پچاس، یا ساٹھ ستر ہزار بندہ اسلام آباد لا کر یہ مطالبہ کرنا شروع کر دے گا کہ ہم منتخب وزیراعظم سے استعفیٰ لیے بغیر نہیں جائیں گے۔ یہ رویہ سیاسی کے بجائے، خانہ جنگی کی علامتوں میں سے ہے۔ فی الحال تو اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے ساتھ ساتھ موسم نے بھی مولانا فضل الرحمان سے منہ موڑ لیا ہے۔ توقع تو یہی ہے کہ مولانا کچھ "ضمانتیں" کچھ امیدیں لے کر موسم کی بے وفائی کے زخم کا اعلان کرتے ہوئے "تحریک" کو ملک گیر کرنے کا اعلان کریں گے اور "سیف ایگزٹ" کریں گے۔ لیکن یہ میرا تجزیہ ہے، غلط بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ دوسری صورت میں مولانا اگر ریڈ زون کی طرف مارچ کرتے ہیں ہیں تو پھر ملک میں جمہوریت نہیں بلکہ انارکی پھیلے گی اور سیاستدانوں کا رول ملکی نظام کو چلانے میں کم ہو جائے گا۔

ملک میں مہنگائی، بے روزگاری بڑھی ہے، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مولانا فضل الرحمان "انصار الاسلام" کے جتھوں کو لا کر زبردستی وزیراعظم ہاوس پر قبضہ کرنے کی دھمکیاں دیں۔ یہ تو  دہشت گرد تنظیم داعش کے طرز کی دھمکی ہے کہ دو دن کے بعد ہم وزیراعظم کو گرفتار کر لیں گے۔ مولانا اسلامی کارڈ کے سہارے عالمی اسٹیبلشمنٹ کے خطرناک کھیل کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ حکومت کو بھی چاہیئے کہ وہ یوٹرن اور خلائی دعوے کرنے کے بجائے عوام کو ریلیف دینے کے متعلق سنجیدگی دکھائے اور عملی کام کرے۔ وزیراعظم کو اپنی کابینہ میں بھی رد و بدل کرنے کی ضروروت ہے۔ ملک داخلی و خارجی محاذ پر مشکلات میں ہے۔ ایسے میں جمہوری قوتوں کو بھی کسی جھتے کے سربراہ کی بے سروپا باتوں میں آنے کے بجانے ملک میں جمہوری رویوں کو مضبوط کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیئے۔ بہ صورت دگر ہم خانہ جنگی کی طرف بڑھتے چلے جائیں گے۔
خبر کا کوڈ : 825847
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے