0
Wednesday 6 Nov 2019 14:57

امام حسن عسکری علیہ السلام اور شیعہ

امام حسن عسکری علیہ السلام اور شیعہ
تحریر: توکل شمسی
 
غم ہجرت مولا کا غبار منتظرین ظہور کے دلوں اور پیشانیوں پر سایہ افکن ہونے والا ہے، ایسے میں گیارہویں تاجدار ولایت، اپنے حضور عینی میں محبان امام آخرالزمان عجل اللہ الشریف سے کچھ توقعات رکھتے ہیں، محب اپنے دعویٰ محبت میں ناقص ہوسکتا ہے لیکن محبوب سراپا کمال ہے، وہ تجھ سے چاہے گا، وہ جس میں تیری ہدایت مضمر ہے، گویا پھر قلم و قرطاس کی منزل ہے اور تیرا امام (ع) لن تضلوا بعدی کا طلبگار ہے، وہ جانتے ہیں پردہ غیبت تیرے گناہوں کے سبب ضخیم تر ہوگا، ایسے میں رخ انور کا دیکھنا محال ہوگا، ایسے میں تو اپنے مولا حسن عسکری (ع) کی توقعات پر پورا اترنا، تاکہ تیرا امام غائب سے تعلق غائبانہ بنا رہے، ہمیشہ تو نے اپنی حاجتیں چاہی ہیں، آج وہ چاہ جس میں دلوں کا درمان ہے۔ تو نے عاشورا کو دیکھا ہے، اربعین سے گزرا ہے، اب سنبھل جا! اب تو غیبت و انتظار ہے، اب تو مولا (ع) کی مان لے، دیکھ نا اب تو کفن میں لپٹا گیارہواں تاجدار ہے۔
 
1۔ تیرے امام (ع) چاہتے ہیں تم اہل فکر ہو جاو، فرماتے ہیں: "عَلیکُم بِالفِکرِ فَاِنَّهُ حَیاة قَلب البَصیر وَ مَفاتیحُ اَبوابِ الحِکمَةِ" تجھ پر لازم ہے تم تفکر و تعقل سے کام لو، حکمت کے دروں کی کنجیاں یہی تفکر ہے، قلب بصیر کی جلا یہی تفکر ہے۔ جو عقل و خرد سے کام نہیں لیتے، چشم بصیرت سے دیکھنا نہیں سیکھتے، وہ نابینا محشور ہوتے ہیں۔ ہزار سے زیادہ مرتبہ علم و مشتقات علم قرآن میں ذکر ہوئے ہیں، سترہ مرتبہ تجھے خالق و ملک نے دعوت فکر دی ہے، دس مرتبہ" انظروا" پکارا ہے، فقہ و تفقہ بارہا تجھ سے چاہا ہے۔ کیا تو نہیں جانتا! مادی و معنوی عروج بشریت تفکر کے آنگن میں جنم لیتا ہے اور عمل کی آغوش میں پروان چڑھتا ہے؟ کیا تو اس سے منکر ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ کی افضل ترین عبادت غور و فکر تھی؟ کیا تو اپنے مولا (ع) کا فرمان نہیں سنا "لَیست العِبادَةُ کَثرَةَ الصِّیامِ وَ الصَّلوةِ وَ اِنّما العِبادَةُ کَثرَةُ التفکُّرِ فی اَمرِ اللّه" (اصول کافی ج 2، ص55 و بحارالانوار، ج 71، ص322 و وسائل الشیعہ ج11، ص153) عبادت کثرت صوم وصلاہ نہیں بلکہ کثرت تفکر ہے۔
 
2۔ تیرے مولا چاہتے ہیں تم اہل ایمان ہو جاو، جس فکر کے بعد منزل ایمان نہیں، وہ فکر مطلوب و کار ساز نہیں، صرف ایمان کی منزل تک نہ آو بلکہ قبر کی دہلیز تک تم ایمان ساتھ لاو، پھر امیرالمومنین (ع) کی ملاقات تک ایمان تمھیں ساتھ لے جائے گا۔ امام عسکری (ع) فرماتے ہیں: "خِصلَتانِ لَیس فَوقَهُما شَیءٌ الایمانُ بِاللّه، وَ نَفعُ الاِخوان" (تحف العقول ص518، حدیث 14) دو خصلتوں سے بڑھ کر کوئی خصلت نہیں، ایک اللہ پر ایمان اور دوسرا بھائیوں کو فائدہ پہنچانا۔ جو ایمان تجھے بھائیوں کی حمایت و نصرت، خدمت رسانی سے روکتا ہے، وہ ایمان نہیں وہم و خیال ہے۔
3۔ تیرے مولا (ع) تجھ سے چاہتے ہیں؛ تم یاد خالق و موت کو اپنے وجود سے جدا نہ کرنا قیامت کے ذکر سے غافل نہ ہونا۔ جب تیرے فکر کا پیمانہ لبریز ہوگا۔ پھر تجھے نعمت ایمان عطا ہوگی، جو تجھے غفلتوں سے بچائے گی۔ "اَکثرُوا ذِکرُ اللّه و ذِکرَ المَوتِ وَ تِلاوَةَ القُرآن" (تحف العقول ص487)
 
4۔ تیرے مولا (ع) تجھ سے چاہتے ہیں؛ تم ہر روز سورج کی گرنوں کے ابھرنے کے ساتھ ہی اپنے آپ سے دوری گناہ کا مشارطہ کرو، پھر اس مشارطے کو مراقبے کے سائے میں دن کی تپش سے بچا کر رکھو، پھر شب کی بے رحم تاریکیوں سے پہلے وجدان کو محاسبے کے کٹہرے میں کھڑا کرو، اپنا حساب و کتاب خود کرنا سیکھو۔ اپنے زخموں کو خود چھونے سے احساس درد کم ہوتا ہے۔
5۔ تیرے امام (ع) تجھ سے وصیت فرماتے ہیں؛ اے ہمارے محب؛ تقویٰ الہیٰ کو اپنے لئے زینت بنا، پرہیزگاری اختیار کر، سچائی تیرا شعار ہو، امانتداری تیری پہچان ہو، طولانی سجدے تیری شان ہو، تو اچھا ہمسفر و ہمسایہ ہو، بیماروں کی عیادت کو تو اکثر آیا ہو، پھر تیرے اخلاق سے اپنائیت چھلکتی ہو، ایسے میں کوئی کہئے کہ وہ شیعہ ہے، یہ لفظ مجھے شادمان کرتے ہیں۔ (میزان الحکمہ ج10، ص491 و وسائل الشیعہ ج8، ص389ح2 و تحف العقول ص518، ح12)
 
6۔ تیرے امام (ع) تجھ سے چاہتے ہیں، تم ایسے ہو جاو تمھارا شمار بھترین لوگوں میں ہو، مولا (ع) یہ بھترین لوگ کون ہوتے ہیں؟ فرمایا؛ وہ جو شبھات میں توقف اختیار کرتے ہیں، واجبات ادا کرتے ہیں، ترک حرام کرتے ہیں، ہمیشہ معاصی سے بچنے کی سوچ میں رہتے ہیں۔ اچھا مولا (ع) برے کون ہوتے ہیں؟ فرمایا وہ جو ذو وجھین و ذو لسانین ہوتے ہیں، جن کے دو چہرے ہوتے ہیں، ظاہر میں کچھ ہوتے ہیں، باطن میں کچھ ہوتے ہیں۔ جن کی دو زبانیں ہوتیں ہیں، تم خریدار ہو تو کچھ کہتے ہیں، وہ خریدار ہوں تو کچھ کہتے ہیں۔(تحف العقول ص518 و انوارالبھیہ ص318)
 
7۔ تیرے مولا (ع) تجھ سے چاہتے ہیں؛ تم ذلتوں سے دوری اختیار کرو، تم عزیز و جبار خدا کا شاہکار ہو اس نے تمھیں تحقیر کی اجازت نہیں دی، اس لئے وہ تیرے غیر کے سامنے چھکنے کو پسند نہیں فرماتا۔ اس لئے تیرے مولا حسن عسکری (ع) نے بھی فرمایا ہے؛ "ما اَقبَحُ بِالمُؤمِنِ اَن تکُونَ لَهُ رَغبَة تُذِلُّه" مومن کے لئے بڑا ہی قبیح ہے، وہ ایسی چیز کی طرف رغبت رکھے، جس میں اس کے لئے ذلت و خواری ہے۔ کبھی فرمایا؛ "ما ترک الحقّ عزیزٌ الّا ذلّ و لا اخذ به ذلیلٌ الّا عزّ" کوئی بھی عزیز جو حق کو چھوڑ دیتا ہے، وہ ذلیل ہو جاتا ہے، کوئی بھی ذلیل و خوار جو حق کا اجراء کرتا ہے، وہ صاحب عزت ہو جاتا ہے۔(تحف العقول، ص520)
8۔ تیرے امام (ع) تجھ سے چاہتے ہیں: "کُونُوا زَیناً وَلا تَکُونُو شَیناً" تم ہمارے لئے باعث عزت و زینت بننا، نہ باعث شرمندگی، کیونکہ حقیقت میں تمسک و نسبت کی تفسیر کچھ ایسے ہی ہے، تیری عزت اب تیری عزت نہیں بلکہ تیرے مولا (ع) کی عزت سے جڑگئی ہے اور تیری ذلت و خواری تیرے مولا (ع) کو شرمندہ خاطر کرسکتی ہے۔
 
9۔ تیرے امام (ع) تجھ سے چاہتے ہیں؛ تم اپنے دامن کو ریاست طلبی کے مرض سے بچاو، کیونکہ یہ ایسا مرض ہے، جو بدعتوں کو جنم دیتا ہے، خلافت الہیہ کا معنی و مفہوم بدل کر مسیر اصلی سے ہٹاتا ہے، تفسیر بالرای کا باب کھولتا ہے، شھوت و ہوس کا غلام بناتا ہے، اس نے ہر دور کے ابراہیم کے لئے آگ جلائی ہے، اس نے ہر دور کے موسیٰ (ع) کا کبھی فرعون، کبھی قارون، کبھی سامری بن کر رستہ روکا ہے، اس نے رحمت دو عالم کے رستے میں کانٹے بچھائے ہیں، اس کی راہیں سقیفہ کو جاتیں ہیں، اس نے فاطمہ زہرا (س) کو رلایا ہے، اس نے رسول زادوں کے گلے کاٹے ہیں، اس نے علی زادیوں کو کوفہ و شام پھیرایا۔ تاریخ کے دریچوں سے دیکھو، اس نے انسانیت سے کتنا تاوان لیا ہے، اتنا بھوکے بھیڑیئے کسی لاوارث ریوڑ کا نقصان نہیں کرتے، جتنا اس نے دین اور بانیان دین کا کیا ہے۔
10۔ تیرے امام (ع) تجھ سے چاہتے ہیں؛ غیبت کا زمانہ بڑا سخت ہے، تم صبر و استقامت کا دامن نہ چھوڑنا، تعلیمات و احادیث آل محمد (ع) سے دوری اختیار نہ کرنا، امام کے ظہور کی دعا لسان و عمل سے کرنا، ولایت پر ثابت و پائبند رہنا۔
خبر کا کوڈ : 825877
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے