0
Thursday 7 Nov 2019 12:39

میثاقِ ریاض، اہلِ یمن سے ایک اور غداری

میثاقِ ریاض، اہلِ یمن سے ایک اور غداری
اداریہ
منگل کے دن سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں یمن کی بندربانٹ کرنے والے سعودی اور اماراتی بندروں نے بن سلمان کی سربراہی میں ایک ایسے معاہدے اور میثاق پر دستخط کیے ہیں، جس میں اہلِ یمن کا نہ کوئی نمائندہ تھا اور نہ ہی اس میں یمنیوں کے انسانی، شہری اور جمہوری حقوق کا خیال رکھا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت یمن پر مسلط مفرور صدر منصوری ہادی، یمن کے جنوبی علاقے عدن میں آئندہ سات ہفتے میں ایک حکومت تشکیل دیں گے، جس میں چوبیس وزراء شامل ہوں گے، جن میں بارہ وزیر متحدہ عرب امارات کی عبوری کونسل کے ہونگے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تمام زرخرید مسلح گروہوں کو اس کابینہ کے وزیر دفاع اور وزیر داخلہ کے تحت لایا جائیگا۔ قابل ذکر ہے کہ میثاق ریاض کی نظارت کیلئے سعودی عرب کی نگرانی میں ایک خصوصی کمیٹی بنائی جائے گی۔

سعودی عرب نے تقریباَ ساڑھے چار سال پہلے یمن پر اس لیے جارحیت کا آغاز کیا تھا کہ اہل یمن بالخصوص انصار اللہ اور یمن کے شمالی علاقے کی واضح اکثریت اور جنوب یمن کے متعدد گروہ سعودی عرب کے کٹھ پتلی مفرور صدر منصور ہادی کو صدر ماننے اور حکومتی امور میں سعودی ڈکٹیشن کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ سعودی حمایت یافتہ منصور ہادی کو جنوبی یمن کے متحدہ عرب امارات کے حامی بھی ناپسند کرتے تھے، جسکی وجہ سے گذشتہ چند ماہ میں سعودی اور اماراتی زیرخرید مسلح گروہوں کے درمیان داخلی جنگ زوروں پر تھی۔ سعودی اور اماراتی مسلح گروہوں کی اس جنگ کو روکنے کے لیے سعودی عرب نے میثاق ریاض کے نام سے ڈرامہ اسٹیج کیا، لیکن سعودی عرب اور اس کے حامی امریکہ و اسرائیل اس حقیقت کو فراموش کر رہے ہیں کہ اس وقت یمن میں عوامی طاقت انصار اللہ کے ہمراہ سعودی اتحاد کی جارحیتوں کا مقابلہ کر رہی ہے اور یمن کی اصل طاقت انصار اللہ اور اسکے حامیوں کی ہے، جس کا یمن کے دارالحکومت صنعاء سمیت اہم علاقوں پر کنٹرول ہے۔

سعودی عرب نے انصار اللہ جیسی عوامی اور جمہوری طاقت کو نظرانداز کر کے ریاض میں یمن کی بندربانٹ کا جو منصوبہ بنایا ہے، اسے یمن کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ایک مردہ پیدا ہونیوالے بچے سے تعبیر کر رہے ہیں، جو ماں کے پیٹ میں ہی مردہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یمن کی اعلیٰ انقلابی کونسل کے سربراہ محمد علی الحوثی نے کہا ہے کہ میثاقِ ریاض جارح سعودی اتحاد میں شامل دو گروہوں کے درمیان ہوا ہے اور یمنی عوام سے اسکا کوئی تعلق نہیں۔ محمد علی الحوثی کے بقول جارح سعودی حکومت نے یہ معاہدہ ان افراد پر مسلط کیا، جن کا نہ اپنا کوئی ارادہ ہے نہ رائے، بلکہ وہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حکومتوں کے اشاروں پر عمل کرتے ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم نے بغیر سوچے سمجھے میثاق ریاض پر اپنی رضا مندی کا اظہار کر کے ایک بار پھر سعودی عرب کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے، جسے پاکستان کی عجلت پسندانہ غلطی ہی کہا جا سکتا ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 826048
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے